داڑھی / صغیر رحمانی

ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے ہی اس نے اپنا پرس کھولا۔ سو سو کے دو پتے ٹیکسی ڈرائیور کی جانب بڑھاتے ہوئے بڑبڑائی۔ ’ روہنی سے یہاں تک کے دو سو روپے۔۔۔؟ سچ ایک دم گلا کاٹنے لگے ہو تم لوگ۔‘
ٹیکسی ڈرائیور بھی کچھ کم ٹھس نہیں تھا، چھوٹتے ہی بولا۔ ’ وقت بھی تو کافی لگتا ہے میڈم اور پھر پیٹرول بھی تو۔۔۔‘
’ارے مجھے معلوم ہے، پیڑول سے ہی چلتی ہے، پانی سے نہیں۔۔۔‘ اس کی آواز میں قدرے جھلاہٹ تھی۔ کھسک کراس نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا ۔ ’ چلو بیٹے، باہرنکلو۔‘ اسٹینڈرڈ تھری میں پڑھ رہی اپنی بیٹی کو اس نے باہر کیا پھر خود بھی باہر آگئی۔ کچھ نیچے تک سرک آئے نظر کے چشمے کو اس نے انگلی سے اوپر کیا پھر موبائل میں وقت دیکھنے لگی۔ ابھی سوا دس بجا تھا۔ اس کے چہرے پر اطمینان کا تاثر پیدا ہوا۔ شکر ہے، وقت سے اسٹیشن پہنچ گئی۔ اس کی ٹرین گیارہ پینتالیس میں تھی۔
جب کہیں جانا ہوتا ہے، ایک عجیب طرح کے، نامعلوم اندیشہ سے بھر جاتی ہے وہ۔ کئی روز پہلے سے ہی سفر کا ایک ایک سامان بیگ میں رکھتی جاتی ہے۔یہ نہ چھوٹ جائے وہ نہ چھوٹ جائے۔ کہیں ٹریفک کے جام میں نہ پھنس جائیں، کہیںٹرین نہ مس ہو جائے، اتنے بجے گاڑ ی ہے، اتنے بجے نکلنا ہوگا۔ عجیب طرح کی گھبراہٹ، اضطراب اور خدشات سے گھری رہتی اور سامان اکٹھا کرتی رہتی۔ ساتھ ہی سارا جوڑ گھٹائو اس کے اندر چلتا رہتا۔
لیکن وہ تو وقت سے کافی پہلے اسٹیشن پہنچ گئی تھی۔ تین روز قبل سے جو ایک بے چینی غالب تھی اس پر، اچانک وہ راحت میں تبدیل ہو گئی تھی۔ گہری سانس خارج کرتے ہوئے پر سکون نظروں سے اس نے چاروں جانب دیکھا۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا نظارہ ہی بدلا ہوا تھا۔ چپے چپے پر پولیس لگی ہوئی تھی۔
’ارے یہ کیا بھیا، اتنی فورس کیوں ہے۔۔۔؟‘ اس کے منہ سے یکلخت نکلا۔
’ کچھ ہوا ہوگا میڈم۔۔۔‘ ڈرایئور نے لاپرواہی سے کہا اور اتنی ہی لاپرواہی سے ڈگی سے اس کا سامان نکال کر اس کے پیروں کے پاس پٹک دیا۔
’ارے سنبھال کے بھیا۔پاپا کے آچار کی شیشی ہے اس میں۔نہ جانے ٹوٹی یا بچی۔۔۔؟‘ اس نے تھیلا اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا۔ ’پر یہاں ہوا کیا ہے۔۔۔؟ اتنی پولیس۔۔۔ ؟ ریل منتری تشریف لا رہے ہیں کیا۔۔۔؟‘
’ارے ہٹا لے وہاں سے۔۔ ۔جلدی کر۔‘ ذرا دور کھڑے پولیس کے جوان نے ٹیکسی ڈرائیور کو آواز لگائی تھی۔
ٹیکسی آگے بڑھ گئی تو وہ قلیوں کی طرف دیکھنے لگی۔ دو دو قلی اس کے پاس آکھڑے ہوئے تھے۔
’ارے بھئی دو نہیں، ایک چاہیے۔سامان ہی کتنا ہے۔۔۔؟‘
’ہاں میڈم چلیے۔۔۔ ‘ ایک آگے بڑھ کر بولا تو دوسرا واپس مڑ گیا۔
’ریوا ایکسپریس۔۔۔‘
’چارنمرّ میڈم۔۔۔‘
’ چلو۔۔۔‘
’پچاس روپیا میڈم۔۔۔‘
’کیا۔۔۔؟ ‘ حیرت و استعجاب سے اس کا منہ کھل گیا۔
’ایہے ریٹ ہے میڈم۔۔۔‘
’کیا مجھے نہیں معلوم؟پہلی بار جا رہی ہوں؟ہر دو ماہ پر کانپورجاتی ہوں ۔ بیٹے ، جاتے ہیں ناہم؟مجھے الّو بنا رہے ہو؟ایکدم سے لوٹ مچی ہے۔۔۔؟‘
’ایہے ریٹوے ہے میڈم۔چلنا ہو تو۔۔۔‘ وہ اس کابیگ اٹھاتے اٹھاتے رک گیا تھا۔
’ اوہ مما،چلئے نا۔۔ ۔‘ اس کی بیٹی زچ ہو رہی تھی۔
’یہاں رکیے نہیں،رکیے نہیں۔چلتے رہیے۔۔۔‘ وہی پولیس والا پاس آکھڑا ہوا تھا۔
عجیب بے بسی تھی۔ شش و پنچ میں پڑی بیٹی کا ہاتھ تھامے کھڑی رہی کچھ دیر، پھر قلی سے مخاطب ہوئی۔
’ چلو لیکن ٹرین میں برتھ تک چھوڑنا ہوگا۔۔۔؟‘
قلی مسکراتا ہو اتیار ہو گیا۔ عام طور پر قلی برتھ تک ہی سامان پہنچاتے ہیں، پر اسے لگا ، اس کی بات رہ گئی، اب پچاس وصول ہو جائیں گے۔
’بھیا، آج اتنی پولس کیوں ہے یہاں؟ آپ کے لالوجی آرے ہیں کیا۔۔۔؟ ارے بیٹا ٹھیک سے ۔۔۔ نیچے دیکھ کر چلو نا۔۔۔‘ وہ بیٹی کا ہاتھ تھامے قلی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔
’میڈم، آپ کو کچھوئو معلوم نہیں ہے کا۔۔۔؟ بمبے ٹیشن پر اتنک وادیوں نے بم بسپھوٹ کیا ہے نا۔ا بھی ایک دو گھنٹا پہلے ہی کی تو بات ہے۔بہتے لوگ مارے گئے ہیں۔ٹرینوکو اڑا دیا ہے۔ا سی لیے اینہا بھی سکورٹی لگی ہے۔ا ندر توبڑی چیکنگ و یکنگ چل رہی ہے۔ای موہمڈنون چین سے جینے نہیں دے گا سب۔۔۔ ‘ آخری جملہ اس نے ہونٹ دبا کر دھیرے سے ادا کیا تھا۔
چلتے چلتے اس کے قدم لڑکھڑا گئے تھے۔ کپڑوں کے نیچے، جسم کے سارے رواں یکلخت کھڑے ہو گئے تھے۔ قلی اپنی رفتار میں آگے بڑھا جا رہا تھا۔ وہ ٹھٹھکی کھڑی رہی۔ سو چا، قلی کو روکے، نہیں روک سکی۔ اس نے بیٹی کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کی، خود کو متوازن کرنے کی کوشش کرتی دھیرے دھیرے بڑھنے لگی۔ بڑی سخت سکیورٹی تھی۔ پولیس کے جوان ہتھیار سنبھالے بالکل مستعد کھڑے تھے۔ پولیس کے کتے ایک ایک شئے سونگھتے پھر رہے تھے۔ جگہ جگہ بالو بھری بوریاں رکھی ہوئی تھیں، ان کے پیچھے بندوق سنبھالے کمانڈو الرٹ کھڑے تھے۔ مین گیٹ پر اتنی سخت چوکسی کہ ایک ایک آدمی مٹل ڈٹکٹر سے ہو کر گزررہا تھا۔ پولیس والے مسافروں کے بیگ، سوٹ کیس کھلوا کھلوا کر دیکھ رہے تھے۔ ایک ایک چیز کی باریکی سے جانچ پڑتال کی جا رہی تھی۔
مٹل ڈٹکٹر سے ہو کر وہ اندر پہنچی تو ایک سہرن پیدا کر دینے والے سنّاٹے نے اس کا استقبال کیا۔ لگ ہی نہیں رہا تھا، اسٹیشن ہے۔ نہ شور شرابہ۔۔۔ نہ بھاگا بھاگی۔۔۔ ایکدم خاموشی اور خاموشی میں لپٹے رینگتے ہوئے لوگ۔گاڑیوں کی آمدو رفت کا اعلان اور چیتائونی۔۔۔۔
’۔۔۔یاتریوں سے انرودھ ہے کہ کسی بھی سندگدھ ویکتی سے سائودھان رہیں۔۔۔اس کی سوچنا ترنت پولیس یا ریلوے کرمچاری کو دیں۔۔۔یاتریوں سے نویدن ہے کہ کسی بھی لاوارث وستو کوہاتھ نہ لگائیں۔۔۔کرپیا دھیان دیں، کسی بھی آپات استھتی میں خود کو فوراً سرکچھت استھان پر لے جائیں۔۔۔‘
اس نے محسوس کیا، اس کے سینے کی دھڑکن تیز تیز چلنے لگی ہے۔ اس نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا اور خود کو پرسکون کرنے کی سعی کرنے لگی۔ دھیان بٹانے کی غرض سے اس نے بیٹی سے پوچھا۔
’بیٹے‘ نانا کا سویٹر کس والے بیگ میں رکھا ہے۔۔۔؟‘
’بلیک والے میں۔۔۔‘ بیٹی نے مختصر ساجواب دے کر بات ہی ختم کر دی لیکن اسے تو کچھ بولتے رہنا تھا۔ یہ سکوت اس کے ذہن و دل پر بڑا اثر انداز ہو رہا تھا۔
’لیکن بیٹے۔۔۔، نانا کو زیادہ تنگ نہ کرنا۔۔۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ہم لوگ ان سے مل کر دو ایک دنوں میں واپس آجائیں گے۔۔۔‘
اس کی بیٹی چپ رہی‘ چلتی رہی۔
’یہ بول کیوں نہیں رہی۔۔۔؟ ڈری ہوئی تو نہیں ہے۔۔۔؟‘
’بیٹے، آپ نے مما کی بات کا جواب نہیں دیا۔۔۔؟‘
’مما ، نانا کو دلی کیوں نہیں لاتے؟ میں ان کے ساتھ گھوڑا گھوڑا کھیلتی ۔۔۔؟‘
بر جستہ وہ مسکرا پڑی۔ ہونٹوں کی دھاریاں پھیل گئیں۔ ’ وہ نہیں آئیں گے بیٹے، انھیں کا نپورہی اچھا لگتاہے۔‘
اس کی ٹرین پلیٹ فارم پر لگی ہوئی تھی۔ قلی رک کر اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
’ایس الیون بھیا۔ برتھ نمبر ۲۹۔۲۸۔۔۔‘ اس نے قلی کو بتایا۔
ٹرین کے اندر آئی تو یہاں بھی خاموشی۔ لوگ چپّی کی چادر تانے اپنی برتھ تلاش کر اپنا سامان رکھنے میں مصروف تھے۔ اس نے بیٹی کو برتھ پر بیٹھا دیا۔ پیسے لے کر قلی جا چکا تو وہ بھی اپنا سامان برتھ کے نیچے رکھنے لگی۔ تھیلا اس نے اوپر ہی رکھا کہ اس میںپانی کی بوتل اور کھانے پینے کی چیزیں تھیں۔ پوری بوگی کا ماحول وہاں چھائی ہوئی خاموشی سے بوجھل ہو رہا تھا۔ گو کہ بوگی میں بہت کم لوگ تھے، آدھی سے زیادہ برتھ خالی تھیں۔ جبکہ عام طور پر اس ٹرین میں کافی بھیڑہوا کرتی تھی۔ وہ جب بھی کانپورجاتی تھی، اسی ٹرین سے جاتی تھی۔ یہ دیر رات کھلتی تھی اور اہل صبح کانپور پہنچا دیتی تھی۔ پتاہی نہیں چلتا تھا، کب چلے، کب پہنچ گئے لیکن آج اتنی کم بھیڑ۔۔۔؟
سامان اڈجسٹ کرکے وہ بیٹھ گئی تھی۔ وہ کچھ متفکر بھی لگ رہی تھی۔ اس کی برتھ جہاں تھی، وہ پورا کمپارٹمنٹ تو بالکل ہی خالی تھا۔ ۲۹۔۲۸ ، لوور مڈل برتھ اس کی تھی۔ اس کے اوپر سامنے کی تینوں اور کنارے کی دونوں برتھ خالی تھیں۔ ابھی ٹرین چھوٹنے میں دیر بھی تھی۔ ہر کوئی اس کی طرح تھوڑا ہی ہوتا ہے کہ دو گھنٹا پہلے ہی اسٹیشن آجائے۔ اس نے سوچا توہنسی آگئی۔
سچ ، وہ تو ایکدم نمونہ ہے۔ کئی روز پہلے سے تیاری کر رہی ہے پھر بھی پاپا کا ایش ٹرے رہ ہی گیا۔ راجیوسے بول کر جے پور سے منگوایا تھا۔ لے تو آیا تھا، پر اس کا نن اسٹاپ لیکچر بھی سننا پڑا تھا۔’ ایک طرف تو پاپا کو سگریٹ پینے سے روکتی ہو، دوسری طرف ایش ٹرے لے جاکر دے رہی ہو۔ تمہاری تو بات ہی سمجھ میںنہیں آتی۔ ہونہہ، چھوڑ دی پاپا نے سگریٹ اور تم نے چھوڑوادی۔۔۔‘
’بات سمجھا کرو راجیو۔۔۔ بولتی ہوں اس لیے کہ ان کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔کیسے ہانپتے ہانپتے بے سدھ ہو جاتے ہیں؟ یہ بیماری ہوتی ہی ایسی ہے۔ پر میں یہ بھی تو جانتی ہوں، وہ چھوڑ یں گے نہیں اس کو۔ ان کے ساتھ ہی جائے گی۔ اس عمر کی عادتیں کہاں جاتی ہیں۔۔۔؟‘
’بیٹے‘ آپ کچھ کھائوگے؟ چپس نکال لو تھیلا میں سے۔۔۔‘ اس نے بیٹی سے کہا۔
اس کا موبائل بجا۔ راجیو تھا۔ چنّئی گیا ہے آفس کے کام سے۔
’ہاں راجیو، ٹرین میں بیٹھ گئی ہوں۔ اب چلے گی ہی۔ ہاں ہاں، اسٹیشن آئی تب پتہ چلا ممبئی کے بارے میں۔ یہاں بھی بہت سخت سکیورٹی ہے۔ ارے نہیں، چلی جائوں گی۔ اب تو بیٹھ چکی ہوں۔ ڈونٹ وری۔۔۔ہاں ہاں، بیٹی ٹھیک ہے۔۔۔ نہیں، ڈری نہیں ہے۔۔ ۔ لو بات کر لو۔۔۔‘ اس نے فون بیٹی کی طرف بڑھا یا۔ ’بیٹے پاپا سے بات کرو۔۔۔‘
’ہلو پاپا۔۔۔ جی، چپس کھا رہی ہوں۔۔۔ آپ نے کھانا کھایا۔۔۔ جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کب لوٹیں گے پاپا؟ مما بتا رہی تھی کہ نانا سے مل کر ہم لوگ بھی دو دن میں دہلی لوٹ جائیں گے۔۔۔ جی پاپا۔۔۔ بائے پاپا۔۔۔‘
ٹرین کھلنے میں اب زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔ کنارے والی دونوں برتھ پر مسافر آگئے تھے۔اَپر برتھ والا تو باضا بطہ لمبی تان کر لیٹ چکا تھا۔ نیچے والا نیم دراز کوئی میگزین الٹ پلٹ کر رہا تھا۔
اس نے مڈل والی برتھ کھولی۔ تھیلے سے چادر نکال کر بچھا یا اور بیٹی کو لٹا دیا۔ ’بیٹے، سردی لگے تو دوسری والی چادر اوڑھ لینا۔۔۔ چلو، اب تم سو جائو۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔‘
اس نے اپنی برتھ پر بھی چادر بچھالی۔ موبائل میں چھہ بجے کا الارم لگایا اور کھسک کر کھڑکی کے پاس بیٹھ گئی۔ نومبر کی ہلکی نم ہوا نے اس کے جسم کو چھوا تو اس کے اندر کنکنی گدگدی بھر گئی اور قدرے تازگی محسوس کرنے لگی وہ۔ باہر پلیٹ فارم پر لوگ ادھر ادھر آجا رہے تھے۔ پولیس کے مسلح جوان بھی گشت لگا رہے تھے۔
’نہ جانے ممبئی کی کیا خبر ہے۔۔۔؟‘ اس نے سوچا، پاپا کو فون کردینا چاہیے ۔فکر مند ہوں گے وہ۔‘اس نے پاپا کو فون ملایا۔’جی پاپا۔۔۔ میں بول رہی ہوں۔۔۔ جی، ٹرین میں ہوں۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔ وہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔ سو رہی ہے۔۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔۔ میں صبح پہنچ جائوںگی۔۔۔‘
گاڑی رینگنے لگی تھی۔
’۔۔۔گاڑی کھل چکی ہے پاپا۔۔ ۔ میں صبح پہنچ رہی ہوں۔۔۔‘
فون بند کر اس نے سامنے دیکھا۔ سامنے نیچے والی برتھ کا مسافر بھی آچکا تھا۔ شاید رنگیتی ہوئی ٹرین لپک کر اس نے پکڑی تھی۔ اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا ہے۔ یہی ہوتاہے، ہاتھ میں کچھ وقت لے کر نہیں چلنے سے۔ ایسی ہی بھاگا بھاگی مچتی ہے۔ نا بابانا۔۔۔ اپنا فنڈا ٹھیک ہے۔ کم سے کم گھنٹا، آدھ گھنٹا پہلے پہنچو۔ بھلے انتظار کرنا پڑے ۔ سامنے والے مسافر کی ہانپتی کانپتی کیفیت دیکھ کراس میں اس کی دلچسپی پیدا ہونے لگی ۔دیکھو تو‘ بندے کی سانسیں پھول رہی ہیں۔کیسا پسینے پسینے ہو رہا ہے؟کالی جینس اور گرے کلر کا جیکیٹ۔ بے وقوف ہے کیا؟ اتنے ماڈرن ڈریس اپ کے اوپر چادر کیوںلپیٹ رکھی ہے اس نے؟ اور پھر دہلی میں ابھی اتنی سردی کہاں؟ عجیب شخص ہے، چادر سے ہی چہرہ صاف کر رہا ہے؟ گوراچٹّاچہرہ۔۔۔گھنی لمبی داڑھی۔۔۔
داڑھی۔۔۔؟
تو مسلمان ہے۔۔۔؟
چہرہ صاف کرنے کے بعد اس نے اپنی داڑھی چادر کے نیچے کرلی ہے اور چہرے کا زیادہ تر حصہ چھالیا ہے۔
پر کیوں؟ یہ اپنا چہرہ اورداڑھی کیوں چھپا رہا ہے۔۔۔؟
’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘
اس نے محسوس کیا، پیروں کے نیچے سے سنسناہٹ جیسی کوئی چیز اوپر اس کے پورے جسم میں بھرنے لگی ہے۔
’یاتریوں سے انرودھ ہے کی کسی بھی سندگدھ ویکتی سے سائودھان رہیں۔۔۔‘
’ای موہمڈنون چین سے۔۔۔‘
گاڑی پوری رفتار سے بھاگی جارہی تھی۔
اس نے بے چینی سے چشمے کا شیشہ صاف کر دوبارہ آنکھوں پر چڑھایا۔ رفتہ رفتہ اس کے ارد گرد شک کا گھیرا کستا جا رہا تھا۔ کہیں یہ۔۔۔؟ کہیں کیا۔۔۔؟ یقینی طور پر۔۔۔یہ خود کو چھپا نے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیسا اکبکایا ہوا ہے۔ بے چین سا ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی۔محسوس ہوا، اندر سے کوئی شئے اوپر آکر حلق کے پاس پھنس گئی ہے جس سے اس کی سانسوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ کھڑکی سے نم ہوا آنے کے باوجود اس کی پیشانی گیلی ہونے لگی۔ نظر ترچھی کر، چشمہ کے کنارہ سے وہ اس کے حرکات وسکنات کا جائزہ لینے لگی۔ اس کی ایک ایک جنبش پر دھیان دینے لگی۔
چوکنیّ نظر سے آس پاس دیکھ رہا ہے وہ۔ ایک ایک چیز کو بھانپ رہا ہے۔ کہیں۔۔۔۔اسی ٹرین میں کچھ کرنے کا اس کا ارادہ تو نہیں؟ کنارے کی برتھ والے دونوں مسافروں کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ وہ دونوں تو جیسے ہر غم سے آزاد نیند کی آغوش میں ہیں۔ انھیں تو کسی انہونی کی کوئی فکر ہی نہیں۔ گمان ہی نہیں کہ یہاں کیا ہونے والا ہے۔۔۔؟
کیا کرے وہ۔۔۔؟ کیا انہیں جگا کر بتائے، بھائی صاحب وہ آدمی۔۔ ۔ لیکن تب تک تو و ہ ۔ ۔ ۔ تڑ ۔ ۔ ۔ تڑ ۔ ۔ ۔ تڑ ۔ ۔۔ نہ جانے کتنو ں کو موت کی نیند سلا دے گا۔ نہیں نہیں، اس وقت کوئی بھی حرکت کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ ارے۔۔۔ وہ تو سوئی ہوئی اس کی بیٹی کو دیکھ رہا ہے۔۔۔ ا یکدم سے اس کی سانسیں رک گئیں۔ ہائے، میری بچّی۔۔۔ نہیں نہیں، اگر اس نے اس کی بچّی کو کچھ کیا تو وہ اس کا خون پی جائے گی۔۔۔جان سے مار دے گی اُسے۔۔۔ بھلے وہ اسے بھی مار دے۔۔۔ اس کا چہرہ سخت ہو اٹھا تھا لیکن بدن کے سارے رواں بھی کھڑے تھے۔ گھبراہٹ ایسی کہ اپنی جگہ پر شل ہوگئی تھی جیسے۔
اس نے اپنا ہاتھ چادر کے اندر کر لیا ہے۔ ضرور۔۔۔ ضرور چادر کے اندر کچھ چھپا رکھا ہے اس نے؟ اے کے ۴۷ یا کوئی اور مہلک ہتھیار؟ لیکن اتنی سکیورٹی کے ہوتے۔۔۔؟ ضرور پولیس والوں کو چکما دے کراندر آیا ہوگا؟ ارے ہاں، یاد آیا۔ ٹرین کھل گئی تھی، جب تو دوڑ کر چڑھا تھا وہ۔ جب پولیس کے کھوجی کتّے بوگی کا چپّہ چپّہ سونگھ کر چلے گئے تھے۔
گاڑی کسی کراسنگ سے گزر رہی تھی۔کھٹر پٹر کی تیز آواز کے ساتھ دائیں بائیں زور کے جھٹکے کھانے لگی تھی۔ اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔ لیکن وہ۔۔۔ وہ تو ایکدم چست درست بیٹھا ہوا تھا۔ کیا غضب کی ٹریننگ ہوتی ہے ان کی۔ جسم میں بجلی بھری ہوتی ہے جیسے۔ جبھی تو پلک جھپکتے ہی قیامت ڈھا دیتے ہیں۔۔۔
ارے، ارے، اٹھ کر کہاں جا رہا ہے وہ؟ ضرور بوگی کامعائنہ کرنے گیا ہوگا۔ وہ ڈرتے ڈرتے کھسک کر برتھ کے کنارے آئی، گردن باہر نکال کر جھانکا۔ ٹائلٹ کے اندرگھساہے۔ وہ جھانکتی رہی۔
بوگی کے اندر تقریباً سارے لوگ سو چکے تھے یا پھر سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ خوفناک لگنے جیسی خاموشی مسلّط تھی۔ ایسی حالت میں تو وہ آرام سے ایک ایک کو ماردے گا۔ کوئی نہیں بچ پائے گا۔ خوف اور خدشہ سے وہ لرزاٹھی۔ کھسک کر سابقہ جگہ پر بیٹھ گئی۔
بیٹی گہری نیند میں تھی۔ اس کی اپنی نیند تو کافور ہو چکی تھی۔ سامنے موت ہوتو نیند بھلا کسے آئیگی؟ جانے کب کیا ہو جائے؟ وہ ابھی تک لوٹا نہیں؟ اتنی دیر تک ٹائلٹ میں کیا کر رہا ہے؟ کہیں ٹائلٹ میں ہی بم تو نہیں پلانٹ کر رہا ہے؟ اور اتنی دیر کیا کرے گا ٹائلٹ میں؟ سہمی سہمی پھر کنارے پرآکر جھانکنے لگی۔ گیٹ کے پاس کھڑا موبائل سے باتیں کر رہا ہے۔ ضرور۔۔۔ اپنے آقائوں سے بات کر رہا ہوگا؟ سارے حالات سے واقف کر ارہا ہوگا؟ اسے ہدایت دی جارہی ہوگی؟ کیسے کرنا ہے؟ کب کرنا ہے ؟کہاں کرنا ہے۔۔۔؟ سب کچھ اسے بتایا جارہا ہوگا۔ جہاد کا گھونٹ پلا یا جا رہا ہوگا۔ جنت میں گھر بنانے کا خواب دکھایا جا رہا ہوگا۔وہ جلدی جلدی اپنی گردن ہلا رہا ہے۔ آقائوں کے ایک ایک حکم پرلبیک کہہ رہا ہے۔
یا پھر وہ اپنے کسی ساتھی سے بات کر رہا ہوگا۔ وہ اکیلا تو نہیں ہی ہوگا؟ اور بھی ساتھی ہوں گے اس کے۔ شاید ابھی اسی ٹرین میں ہوں۔ الگ الگ بوگی میں۔ سب ایک دوسرے کے کانٹکٹ میں ہیں۔ کب،کیسے،کیا کرنا ہے۔ منصوبے کو فائنل ٹچ دے رہے ہیں۔
آرہا ہے۔۔۔ آرہا ہے۔۔۔ وہ جلدی سے اپنی جگہ پر آگئی۔ آنکھیں بند کر لیں، جیسے سونے کی کوشش کر رہی ہو۔ ذرا سی آنکھیں واکر، چشمہ کے پیچھے سے دیکھنے لگی۔ اپنی برتھ پر بیٹھ گیا ہے۔ بیگ سرہانے رکھ کر لیٹ گیا ہے۔ ارے، اس نے اس کے بیگ کی طرف تو دھیان ہی نہیں دیا۔ ضرور اسی بیگ میں تباہی کا سارا سامان ہے۔ ورنہ اتنے جتن سے سرہانے نہیں رکھتا۔ برتھ کے نیچے ڈال دیتا۔
ٹی ٹی ای آیا تھا۔ ٹکٹ مانگ رہا تھا۔ بھائی صاحب وہ آدمی۔۔۔ وہ ٹی ٹی ای کو بتانا چاہتی تھی، پر منہ سے لفظ باہر نہیں نکل پائے۔ وہ لیٹا ہوا ہے، پر اس کا ہاتھ تو اس کے بیگ پر ہی ہے۔سہم گئی وہ۔ کچھ بولنے کا مطلب تھا، فوراً دھڑام۔۔دھڑم۔۔ لاشیں۔۔ ۔خون۔۔۔ چتھڑے۔۔۔
’ہاں بھئی۔۔۔ٹکٹ۔۔۔‘ ٹی ٹی ای اس سے مخاطب ہوا تھا۔ اس نے لیٹے لیٹے ہی اپنا ٹکٹ دکھایا ہے۔ کوشش کر رہا ہے، چہرہ سامنے نہ آئے۔ آنکھیں اور ناک دکھائی دیر رہی ہے
’آپ کی برتھ ٹونٹی سکس ہے۔۔ ۔ مڈل والی۔۔۔‘ اس کا ٹکٹ دیکھ کر ٹی ٹی ای آگے بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔تو اس کی وہ برتھ نہیں ہے۔ دوسرے کی برتھ پر جما ہوا ہے۔ خالی پاکر بیٹھ گیا ہے۔ نہیں نہیں، یہ اتفاق نہیں ہو سکتا۔
وہ جان سمجھ کر اپنی برتھ پر نہیں بیٹھا ہے تاکہ واردات کرنے کے بعد اس کی سہی نشان دہی نہ ہو سکے، اس کی شناخت نہ ہو سکے۔ اس کے بارے میں سہی سہی کچھ پتہ نہ چل سکے۔ ٹی ٹی ای بغل کے کمپارٹمنٹ میں ٹکٹ دیکھ رہا ہے۔ و ہ پیچھے سے جاکر ٹی ٹی ای کو بتا دینا چاہتی تھی۔ ٹائلٹ۔۔۔ہاں ٹائلٹ کا بہانا ٹھیک رہیگا۔ وہ اٹھی، من ہی من کچھ پڑھتی آگے بڑھی۔ ٹی ٹی ای کے پاس پہنچ، مڑ کر پیچھے دیکھا۔ کلیجہ دھک سے کر کے رہ گیا۔ غضب کا عیار ہے وہ۔ برتھ کے کنارے سے جھانک رہا ہے۔ بس یو نہی ٹائلٹ کی طرف گئی، لوٹ آئی الٹے پیر۔ بیٹھی تو اس طرح جیسے جسم کی ساری طاقت نچوڑ لی گئی ہو۔
ٹرین کی رفتار دھیمی ہو رہی تھی۔ کوئی اسٹیشن آرہا تھا۔ علی گڑھ ہوگا۔ علی گڑھ ہی تھا۔ گاڑی پلیٹ فارم پر رک گئی تھی۔ پیٹھا والے، چائے والے آواز لگا رہے تھے۔ وہ اپنی شیشہ لگی کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہے۔ اس کا موبائل بجا ہے۔ وہ ایکدم سے چونک گیا ہے۔ جیب سے فون نکال کر نمبر دیکھتا ہے۔ اٹھ کر کمپارٹمنٹ کی دوسری جانب چلا جاتا ہے۔
ضرور اسے اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی جگہ اڑا دینا ہے، ٹرین کو اور اسٹیشن کو بھی۔ اے بھیاسنو۔۔۔ ایکدم بوکھلا کر پلیٹ فارم پر کسی کو پکار اٹھی۔ مزید کچھ کہتی، وہ برتھ پر آکر بیٹھ گیا ہے۔ اس کی آواز حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔ سہم کر وہ کھڑکی سے چپک گئی۔
گاڑی کھل چکی تھی۔دھیرے دھیرے رفتار پکڑنے لگی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کا خوف، اس کی دہشت بھی زور پکڑتی جا رہی تھی۔
اس نے لائٹ آف کر دی ہے۔ کمپارٹمنٹ میں اندھیرا چھا گیا ہے۔ لیکن۔۔۔ اس نے لائٹ کیوں آف کر دی؟ اندھیرا کیوں کر دیا؟ کیا وہ تاریکی کافائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ بیگ کی زپ کھلنے کی آواز آئی ہے۔ اندھیرے میں بیگ کیوں کھول رہا ہے؟ کیا ہتھیار نکال رہا ہے؟ یا بم میں ٹائمر لگا رہا ہے؟ وہ آنکھیں پھیلا کر دیکھنے لگی۔ چشمہ کے بائوجود کچھ صاف نہیں دکھ رہا۔ نہ جانے کیا کر رہا ہے وہ؟ نہ جانے کیا کرنے والا ہے؟
ضرور ہی فدائین ہے۔ لگتا ہے، خود کے ساتھ ہی ٹرین کو بھی اڑا دے گا ۔ تب تو۔۔۔ وہ اوراس کی بچی۔۔۔ ان کے تو چتھڑے بھی نہیں ملیں گے۔ ادھر راجیو سوچے گا، ہم لوگ پاپا کے پاس گئے ہیں۔۔۔ ادھر پاپا انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے اور ہم لوگ۔۔۔ ہم لوگ۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ بوگی کے سارے لوگ سو رہے ہیں۔ انھیں تو پتا بھی نہیں چلے گا اور وہ کال کے گال میں چلے جائیں گے۔ لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس کی آنکھیں تو کھلی ہوئی تھیں۔ وہ تو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔
سامنے۔۔۔ اپنے سامنے۔۔۔ موت کو دیکھ رہی تھی۔ موت کو دیکھتے ہوئے مرنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے، اس کرب سے بڑی شدت سے گزر رہی تھی وہ۔
لیکن کیا وہ ایسے ہی مر جائے گی؟ مرنے سے پہلے، زندہ رہنے کے لیے، آخری کوشش سمجھ کر، کیا وہ کچھ نہیں کر سکتی؟ کیوں نہیں کر سکتی؟ وہ اس پر جھپٹ پڑسکتی ہے۔ اسے دبوچ لے سکتی ہے۔ دبوچ کر شور مچا سکتی ہے۔ اسے اپنے دانتوں سے نوچ سکتی ہے۔ اپنے ناخنوں سے اس کی آنکھیں پھوڑ سکتی ہے۔
ہاں ہاں، اسے اپنے آپ کو، اپنی بیٹی کو بچانا ہوگا۔ ورنہ راجیو کا تو سب کچھ ہی اجڑ جائے گا۔ اس کا تو ہم دونوں کے سوا کوئی ہے بھی نہیں۔ باپ رے، مجھ سے شادی کرنے کے لیے کون سی مصیبت نہیںجھیلی ہے اس نے۔ اس کے پریوار کا کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ سب ناراض تھے۔ سب کی مخالفت سہہ کر اس نے مجھ سے شادی کی تھی۔ سب کے طعنے برداشت کر اس نے مجھے اپنا یا تھا۔ میرے لیے بہت بڑی قربانی دی ہے اس نے۔ کتنا پیار کرتا ہے وہ ہم سے۔ وہ تو جیتے جی مر جائے گا۔
اور۔۔۔ اس عمر میں پاپا تو ایکدم بے سہارا ہوجائیں گے۔ وقت بے وقت کون دیکھے گا ان کو؟ دور ہے، پر ماہ دو ماہ میں آکر اُن کو دیکھ تو لیتی ہے۔ اتنے ہی سے ان کو کتنا بل مل جاتا ہے۔ اور یہ ، یہ میری بیٹی۔۔۔ ابھی دنیا ہی کہاں دیکھی ہے اس نے؟ ابھی ابھی تو آنکھ کھولی ہے۔ اگلے ماہ تو اس کا ساتواں برتھ ڈے ہے۔ کتنا انتظار ہے اس کو اپنے برتھ ڈے کا؟ کتنی تیاری کر رکھی ہے اس نے؟ کیا ساری کی ساری تیاری۔۔۔ نہیں نہیں، اسے اس پر جھپٹ ہی پڑنا چاہیے۔ موقع اچھاہے۔ بیٹھا ہوا ہے۔ اس سے قبل کہ بیگ سے ہتھیار نکالے وہ اسے دبوچ لے سکتی ہے۔ اگر اس کی لمبی داڑھی پکڑ میں آجائے ، تب تو وہ ایکدم مجبور ہوجائے گا۔ پوری طرح گرفت میں آجائے گا۔ درد اتنا ہوگا کہ کچھ کر ہی نہیں پائے گا۔ ہاں ہاں، اسے اس پر حملہ کر ہی دینا چاہیے۔
ایک۔۔۔دو۔۔ ۔ ارے باپ رے، کس طرح گھور رہا ہے وہ۔ اس کے اندر چل رہی ساری باتوں کو پڑھ رہا ہے ۔ کتنا محتاط ہو گیا ہے۔ کیا صرف بیگ میں ہی ہتھیار ہوں گے اس کے؟ چادر کے اندر بھی تو رکھے ہوں گے؟ ان کے پاس کیا نہیں ہوتا؟ چاقو سے لیکر اے کے ۴۷، ہتھ گولے، آرڈی اکس تک۔ اور پھر جسم سے بھی تو گٹھیلا پھر تیلاہے۔ اس کے پاس پہنچنے سے قبل ہی اس کا کام تمام کر دے گا۔ تو پھر۔۔۔ پھر۔۔۔
گاڑی اپنی پوری رفتار میں بھاگ رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں کو لانگھتی، تیز شور کرتی گزر رہی تھی۔ نہ جانے وقت بھی کیا ہو اتھا؟ پوری بوگی میں مرگھٹ جیساسنّاٹا پسرا ہوا تھا۔ تابوت میں رکھی لاش کی مانند لوگ اپنی اپنی برتھ پر سوئے ہوئے تھے۔ ایک اسی کے کمپارٹمنٹ میں غیبی طور پر، لیکن دکھنے جیسی چیزیں چل رہی تھیں۔
کچھ تو کرنا ہی ہوگا؟ کیوں نہیں وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑلے؟ اس کے پیر پکڑ لے؟ اس سے گڑگڑاکر بولے، دیکھو بھیّا، تمہاری بھی کوئی بہن ہوگی، میری بیٹی جیسی بیٹی ہوگی، کیا تمہارے دل میں رحم نہیں ہے؟ کیا تم انسان نہیں ہو؟ اگر تمہاری بہن یا بیٹی کو کوئی مارے تو تم پر کیا بیتے گی؟ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ آخر یہ سب کیوں کرتے ہو تم لوگ؟ کیاملتا ہے تمھیں بے قصوروں کا خون بہا کر؟ یہ اندھی لڑائی کیوں لڑ رہے ہو تم لوگ؟
اس طرح گڑگڑانے سے اسے ضرور دیا آجائے گی۔ بخش دے گا وہ ہمیں۔ ہاں، یہی ٹھیک رہے گا۔ ایسا ہی کرنا چاہیے۔
’بھا ئی صا۔۔ ۔‘
وہ بولنے کے لیے منہ کھولنے ہی والی تھی کہ اس کے موبائیل کا الارم گھنگھنا اٹھا۔اس کا مطلب صبح ہو گئی تھی۔ چھہ بج گئے تھے ؟ باہر کہرا ہے، صبح پتا نہیں چل رہی ہے لیکن یہ طے تھا ٹرین کانپورپہنچنے والی ہے۔ کانپور پہنچنے کے احساس سے ہی اس کے اند ر تو انائی بھر گئی۔ بس تھوڑی دیر میں ہی۔۔۔ بس تھوڑی دیر اور۔۔۔
گاڑی کی رفتار دھیمی پڑنے لگی تھی۔ رفتار کم ہوتے ہی وہ اپنا بیگ اٹھا کرتیزی سے گیٹ کی جانب بڑھ گیا ہے۔ لگتا ہے، وہ یہیں اترے گا۔۔۔ نہیں، لگتا ہے یہیں کچھ کرے گا۔۔۔ اسی اسٹیشن پر ۔۔۔
’چلو بیٹے۔۔۔ اٹھو، جلدی چلو۔۔۔‘ اس نے بیٹی کو نیچے اتارا۔ نیند سے جگی وہ آنکھیں ملنے لگی ۔
’ چلو بیٹے جلدی کرو۔۔۔‘
وہ سامان گھسیٹتے ہوئے گیٹ تک آئی۔ ٹرین رک چکی تھی۔ نیچے اتر کر ہرنی کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اس کا کہیں اتا پتا نہیں تھا۔ وہ گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہو چکا تھا۔
’ یا اللہ۔۔ ۔ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔‘
اس کے منہ سے نکلا اور وہ بیٹی کا ہاتھ تھامے قلی کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔


یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

1 thought on “داڑھی / صغیر رحمانی”

  1. بہت اچھا لکھا ہے ۔۔۔ پلاٹ کردار۔۔ منظر۔ ماحول۔ اور اسلوب ہر حوالے سے ایک اچھی کاوش ہے۔۔ افسانے کیلئے سب سے اہم چیز وحدت تاثر ہے ۔۔۔ اس افسانے میں اس کا بھی خیال رکھا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close