سفیرِامن / ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی

جارڈن ندی تیزی سے بہے جارہی ہے۔! اس کی بل کھاتی تیز لہروں پر گلِ لالہ کی پنکھڑیاں روانی سے بہہ رہی ہیں۔!سیاہ گھنیرے بادلوں کے نیچے ساحل پر کھجور کے درخت سر کو اٹھائے کھڑے ہیں۔ہوا تیزی سے بہہ رہی ہے۔ان ہوائوں کے تھپیڑوں میں کھجور کی پتیاں اُلٹ اُلٹ کر ایک طرف ہوجاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ساحل پرکھڑے یہ اشجار جڑ سے اکھڑ جائیں گے۔ایسے میں اس بچے کی یاد آئی۔!!یاد اس لئے آئی کہ سات سال کا وہ بچہ بڑا معصوم تھا۔اس کے بال بھورے ریشم جیسے تھے۔گورا چِٹّاصحت مند۔دن بھر چوکی پر سوئے سوئے کھڑکی سے باہر تکتا رہتا تھا۔ہر راہ گیر کو ہاتھ ہلا کر بائی بائی کہتا۔راہ گیر اس سے اس قدر مانوس ہوگئے تھے کہ آفس جانے سے پہلے کھڑکی کے پاس انکا رکنا ایک معمول بن گیا تھا۔ سب اسکو یہی دعائیں دیتے کہ تمہار ا بینڈیج اور پلاسٹر بہت جلد کٹ جائے،زخم مندمل ہوجائیں اور تم صحت یاب ہوجائو۔!یہ سن کراس کے چہرے پر چمک آجاتی۔آنکھوں میں امید کے دھاگے دوڑنے لگتے۔وہ کہتا ۔۔۔۔۔۔انکل سچ۔۔۔۔۔۔۔۔!تو راہ گیر وں کی پلکیں بھی نم ہوجاتیں۔!!
ریڈ کراس سوسائٹی کا ملازم میلکم بھی ان میں سے ایک تھا۔بیت اللحم جانے سے ایک دن قبل میری نے اس کو بتایا۔ اس دن اماوس کی رات تھی۔جارڈن ندی اُپھان پر تھی ۔اس کی سطح کافی اوپر ہوگئی تھی۔ پانی کے دھارے بہے جارہے تھے۔چاروں طرف سیاہی کی چادر تنی ہوئی تھی۔ا یسے میں پورا شہر خود کو محفوظ سمجھ رہا تھا کہ اندھیرے میں شہر پرکسی کی نظر نہیں پڑے گی۔ابھی نصف رات گذری تھی کہ ایک ڈرون جہاز آسمان پر نمودار ہوا۔تھوڑی دیر میں اس سے چار بڑے بڑے چمکتے غبارے چاروں سمت میں پھیل گئے ۔ جس کی روشنی سے پورے شہرمیں اجالا ہوگیا ۔پھر کیا تھا۔!!ایک نہیں چار چار سورجوں کی موجودگی میں بمباری شروع ہوگئی۔ !خوفناک میزائل اور بارود کے گولے کے دھماکوں سے پوراشہر لرز اٹھا ۔!ہر طرف زمیں بوس عمارتوں کے ملبے سے کراہتی انسانیت کی آواز۔۔۔۔!تا حدِنظر دھواں ہی دھواں۔۔ ۔!فضا میں بارود کی مہک ۔۔۔۔!اور دل کو دہلادینے والی رُک رُک کر بجنے والی سائرن کی آواز۔۔۔۔!!
میری نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
جب ہوائی حملے رُکے تو میں نے دیکھا جارڈن ندی کے کنارے سات سال کا یہ معصوم بچہ زخمی حالت میں سسک رہا تھا۔اس کے بدن پر بارود کے چھینٹے پڑے تھے۔پورا جسم لہولہان ہوگیا تھا۔گورے چمڑے پر بارود کے زخم انار کے دانے کی طرح دیکھائی دے رہے تھے۔ سینہ دونوں پیر اوربازو کافی زخمی ہوئے تھے۔لیکن سب کو اپنی جان کی پڑی تھی۔!!میرے اندر کی ممتا نے سر اٹھایااور اس کو اپنی آغوش میں بھر کر گرجا گھرکے اندر مریم کے مجسمے کے پیچھے چھپ گئی۔!جب سائرن کی آوازکچھ دھیمی ہوئی تو اس کو لے کر گرجے سے باہر آئی۔باہر ریڈ کراس کی گاڑی پر نظر پڑی ۔ڈرائیور کو ہاتھ دکھایا۔پھر اس کو لیکرفوجی ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے اس کے پورے جسم کو بینڈیج میں لپیٹ دیا۔ دونوں مفلوج پیر اوربازو پر پلاسٹر چڑھایا اور بیڈ پر سلا کر سلائن لگادیا۔بینڈیج کے بعد اس کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ کسی خلائی مشن پر جارہا ہے۔!رات بارہ بجے جب گرجے کا گھنٹا بجا اسی وقت اس کو ہوش آیااور پانی مانگا ۔!!میں نے بوتل سے پانی گلاس میں ڈھال کر اس کوپلایا۔پھر تیماداری کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ ۔۔۔!ایک دو بار اس نے اپنی ماں کے بارے میں پوچھا۔میں نے اس کو سمجھا یاکہ میں ہی تمہاری ماں ہوں۔!!پہلے تو اس نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا پھرآہستہ آہستہ یہ ہم سے مانوس ہوگیااور مجھے مم کہنے لگا۔ ہسپتال میں تین مہینے یہ بیڈ پر اسی طرح پڑا رہا۔پھر ڈاکٹر وں نے کہا اسکو گھر لے جائواور دو دوہفتے بعد آکر بینڈیج کٹوا لینا۔جنگ کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ ایسی مصیبت کی گھڑی تھی کہ مرنے والے بچوں کی نعشیں ریفریجریٹر ،کولرس میں رکھی جارہی تھی کہ یہ خراب نہ ہوجائیں۔ کیونکہ ہوائی حملے لگاتار ہورہے تھے۔کوئی ان کودفن کرنے والا نہیں تھا۔ پانی کی قلت عام تھی۔صرف دوگھنٹے بجلی سپلائی کی جارہی تھی ۔ ایسے میں اس بچے کو میں کہاں چھوڑتی ۔ !!سوچا میں تو گھر میں اکیلی رہتی ہوں اس لئے اسکو اپنے گھر لے کرچلی آئی۔ !! تب تک کافی کی پیالی آگئی ۔ میلکم نے پیالی کو منہ سے لگاتے ہوئے کہا۔اس دن میں ڈیوٹی پرتھا۔رات کوتین بجے ریڈکراس سوسائٹی کے صدر دفتر میں ایک عورت کا فون آیا۔
’’ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ہم زخمی ہوگئے ہیں۔!!‘‘
میرے باس نے کہا۔
’’دیکھو یہ ذمہ واری تم کو دی جاتی ہے کہ پرنس اسٹریٹ کے فلیٹ نمبر چار میں ایک عورت بمباری سے بری طر ح گھائل تڑپ رہی ہے۔ تم ایسا کرو ۔کار کی چابی لو اور ابھی ابھی موقعہ وارت پر پہنچو۔اس عورت اور اس کے معصوم بچے کو بچاناہماری سوسائٹی کا مشن ہے۔!!‘‘
میں نے چابی لی اور انجن کے منہ میں ٹھونس دی۔سنسان سڑک پر سر پٹ بھاگتی کار کو ڈرائیو کرتے ہوئے طرح طرح کے خیالات ذِہن کے پردے پرآتے اور جاتے رہے ۔ کسی طرح فلیٹ پر پہنچا۔عورت اور اس کے بچے کو وہاں سے نکالا۔ عورت بری طرح زخمی ہوگئی تھی لیکن بچہ محفوظ تھا۔سب سے پہلے عورت کو میرین ہسپتال میں بھرتی کیا۔اس کا ایڈریس نوٹ کیااور بچے کو لے کر ہیڈ آفس روانہ ہوگیا۔راستے میں بچے نے پوچھا۔
’’انکل انکل آپ گوڈ ہیں؟‘‘
میں نے بچے کی بات پر دھیان نہیں دیا۔
تھوڑی دیر بعد بچے نے پھر وہی جملہ دہرایا۔تب میں نے اسٹیرنگ پر ہاتھ مضبوط کر کے پوچھا۔
’’یہ بات تم سے کس نے کہی؟‘‘
بچے نے مسکین صورت بناتے ہوئے کہا۔
’’جب بمباری بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگی اور چاروں طرف گاڑھے دھواں کے مرغولے اٹھنے لگے۔اس وقت میں نے ماں سے پوچھا تھا کہ مم اب کیا ہوگا۔؟تب اس نے مجھ سے یہی کہا تھاکہ جب ہم لوگوں کا کو ئی نہیں ہوگا اس وقت خدا بچانے آئے گا۔!!‘‘
میلکم نے چائے کی پیالی کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا۔ پھر ایسا ہواکہ دودنوں کے بعد اسکی ماں دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔!! اتناکہہ کرمیلکم خاموش ہوگیا۔جب وہ چپ ہوا تو میری نے کہا۔
کل یہ بچہ بہت رورہا تھا۔میں اداس ہوگئی ۔باہر سے غبارے خرید کر لائی کہ یہ خوش ہو۔لیکن غبارے کو دیکھ کر اس نے چینخنا شروع کردیا۔پوچھنے پر پتہ چلاکہ حملے کی رات کو ایسے ہی غبارے آسمان پر تیر رہے تھے اور بموں کی بارش ہورہی تھی۔!
بچے کی کیفیت سنکر میلکم بہت غمگین ہوگیا۔ تھوڑے توقف کے بعد اس نے میری سے کہا۔
’’کل میں بیت اللحم چلا جائوںگا۔ ! ‘‘
میری نے پوچھا ۔کس لئے۔؟اس نے بتایا۔وہاں بمباری میں زخمی لوگوں کی مد د کرنے کے لئے بھیجاجارہاہے۔!!اس نے پوچھا واپسی کب ہوگی۔؟میلکم نے کہا ۔چار ہفتے بعد۔! اس نے میری سے کہا۔اس درمیان اگر ٹوینکل کو ہسپتال کی ضرورت پڑی تو اس فون پر رابطہ کرنا۔!میری نے کہا ۔جائو اپنا بھی خیال رکھنا۔!!میلکم اُٹھ کر چلاگیا۔میری صوفے پر بیٹھی سوچتی رہی ۔
کل کی وہ بجھی بجھی شام کتنی درد انگیز تھی جب ٹوینکل نے ہم سے کہا۔
’’ مم آج ہم کوجوزف کی آتماکویادکرناہے۔!ہسپتال میں وہ میراوارڈ پاٹنر تھا۔آج ہی کے دن ہسپتال میں بارود کے دھویں سے اس کے پھیپھڑے نے خون اگلنا شروع کردیا تھااوروہ اس دنیا کو چھوڑکر چلا گیا۔!!مجھے کینڈل خرید کر لا دومم۔ !!‘‘
میں نے کہا۔
’’دیکھو بیٹے وہ تمہارا کوئی نہیں تھا۔!‘‘
ٹوینکل نے مسکین صورت بنا کر کہا۔
’’تو کیا ہوا مم انسان تو تھا۔!!‘‘
میں نے اس کی رونی صورت کو دیکھا۔پھرالماری سے کینڈل نکال کراس کو دے دیا ۔!!شام جب زینہ بہ زینہ نیچے اترنے لگی اور کائی زدہ فصیل پر امر بیل کی لتائیں نگاہوں کے سامنے دھندلانے لگیں تو میں نے دیکھا۔ ٹوینکل کھڑکی پرکینڈل جلا کر چپ چاپ اسکی لوکوڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔!!آنسو کے قطرے اس کے دونوں رخسار تک بہہ آئے ہیں۔ منظر دیکھ کرآنکھیں اشک بار ہوگئیں۔!!پھر وہ کینڈل کو بجھا کر بغیر کچھ کھائے پیئے سوگیا۔!
چار دنوں کے بعد میلکم بیت اللحم سے واپس آیا۔ وہاں سے اس نے ٹوینکل کے لئے نئے جوڑے۔گلِ لالہ کے پھول۔ٹافی اورکھلونے کا تحفہ لایا۔ اس دن شام کو وہ میری سے ملنے اسکے گھر گیا۔کھڑکی اور دروازے اندرسے بند تھے۔بند کھڑکی کو دیکھ کردل میں وسوسے نے سراٹھایا۔
شاید ٹوینکل کی طبعیت پھر خراب ہوگئی ہے۔!!
دروازے کو کھٹکھٹا یا۔بہت دیر کے بعد دروازہ کھلا۔میری کی آنکھیں اداس تھیں۔کمرے کے اندر گیا ۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
ٹوینکل کی طبعیت کیسی ہے۔؟
وہ گم سم صوفے پر بیٹھی رہی۔اس نے میری کو دِلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
’’میری گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ٹوینکل پھر ٹھیک ہوکر ہسپتال سے گھر واپس آجائے گا۔ میں بیت اللحم میں ایک فوجی ہسپتال کے سرجن سے بات کر کے آیا ہوں۔اگر تم اجازت دو تو ٹوینکل کو اس کے نرسنگ ہوم میں بھرتی کیا جائے۔وہاں ٹوینکل جلد صحت یاب ہو جائے گا۔علاج کا جو خرچ ہوگا سوسائٹی اٹھانے کے لئے تیارہے۔!!‘‘
میری نے میلکم سے کہا۔ کیا بتائوں میلکم ۔!تمہارے چلے جانے کے بعد ٹوینکل ایک دن مجھ سے کہنے لگا۔
’’مم مجھے نئے کپڑے اور ٹوپی لادو۔!!‘‘
میں نے اس کے لئے سانتا کروز کی ٹوپی بازار سے خرید کر لائی۔اس نے پھر ضد کی۔
’’نہیں مم مجھے گول ٹوپی چاہئے۔گول!!‘‘
’’میلکم میں اس کو کیسے بتاتی کہ یہاں گول ٹوپی نہیں ملتی ہے۔!!‘‘اس کو بہت سمجھایا۔تب وہ کہنے لگا ۔
’’میں سوئیاں کھائوں گا۔!!‘‘
میں بازار گئی اور اس کے لئے پر چیج کورنر سے میگی خرید لائی۔لیکن وہ کھا نہیں سکامیلکم۔!!کھانہیں سکا۔۔۔!!
کیوں کیا ہوا۔؟میلکم نے حیرت سے پوچھا۔
وہ سارا دن کھڑی کے باہر بستر پر سوئے سوئے سامنے خالی میدان کو تکتا رہا۔اس دن رات بھر وہ بے چین رہا۔بار بار کھڑکی کے پٹ کو کھول کر باہر میدان کی طرف دیکھتا رہا۔اور کہتا رہا۔
’’مم آج کی رات ہم جاگیں گے ۔ کل عید ہے ۔ہم نئے نئے کپڑے پہنں گے ۔اس میدان میں نماز پڑھیں گے۔ سب سے گلے ملیں گے۔ فلک کے تمام فرشتے آئیں گے ۔ مم سامنے والی گنبد دیکھتی ہوجس پر جبریل ؑآئے تھے۔کل بھی آئیں گے۔!ہم سب کو عید کی مبارک بادی دیں گے۔تم مجھے عیدی دو گی نہ مم۔؟‘‘
جب وہ ان باتوں کوکہتاتو میری آنکھیں چھلک پڑتیں۔بھری بھری آنکھوں سے پورے دن میں یسوع سے من ہی من میں کہتی رہی۔
’’یسوع تم ہماری تمام خوشیوں کو لے لو لیکن ٹوینکل کی خواہش کو پوری کردو۔!‘‘
اس دن شام کوخوب تیز بخار آیا ۔ رات توکسی طرح گذر گئی لیکن پو پھٹنے سے پہلے اسکو خون کی قے ہوئی ۔ اتنا کہہ کر میری چپ ہوگئی۔ میلکم نے پوچھا۔اس کے بعد کیا ہوا۔؟ میری نے آہستہ سے کہا۔
’’اس دن صبح کو جبریل ؑسے پہلے عزرائیل ؑآگئے میلکم ۔!!‘‘
بہت دیر تک دونوں ٹافی،نئے جوڑے ،کھلونے اور گلِ لالہ کولے کر صوفے پرخاموش بیٹھے کھڑکی کے پاس خالی چوکی کودیکھتے رہے۔پھر وہاں سے ا ٹھکر دونوں قبرستان گئے۔جارڈن ندی کے کنارے یہ قبرستان دو صدی پرانی ہے جس سے میلکم اور میری کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ صدر دروازے کے ٹھیک بغل میں ٹوینکل کی قبر ہے۔ دونوں اس پر گلِ لالہ کی پنکھڑیوں کو بکھر کر تھوڑی دیر خاموش کھڑے رہے۔ میلکم نے دیکھا ہوا کے جھونکے سے گلِ لالہ کی پنکھڑیاں اُڑ اُڑ کر جارڈن ندی کی تیز بل کھاتی لہروں پر بہنے لگیں۔ دونوں حسرت بھری نگاہوں سے اس منظر کودیر تک دیکھتے رہے۔ تب تک تیل ابیب کے بڑے گرجے کا گھنٹا بجا ۔ قبرستان سے نکل کر سیدھے گرجا گھر گئے۔ ٹوینکل کے تحفوں کو درازے پر کھڑے غریب بچوں میں تقسیم کردیا۔ پام درخت کے نیچے بیٹھے فرنانڈیس سے کینڈل خریدااور گرجا گھر میں داخل ہوگئے ۔!
سامنے یسوع صلیب پر لٹکے ہیں۔!خون کے قطرے ان کے زخموں سے بہہ رہے ہیں۔!ان کے دائیں کاندھے پر لہومیں بھیگاسفید کبوتر سر کو جھکائے یسوع سے کہہ رہا ہے۔
’’یسوع آندھی اس قدر زوروں پر تھی کہ ریگزار میں کھڑے بے برگ شجر کی شاخوں پر اپناآشیانہ بچانا مشکل ہوگیا۔ تب میں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔لیکن سوال یہ تھاکہ اس ہست و بود میں پناہ کہاں ملے گی۔؟آخر میں سوچا ہمار ا یسوع تو ہے ہی اور یہاں چلا آیا۔!!‘‘
بغل میں مریم کے مجسمے کے سامنے میز پر ایک کینڈل روشن ہے۔!سفیدچینی مٹی کے گلدان میں موسمِ بہار کے پھولوں کا گچھا اور کھڑکی پرلپٹی میری گولڈ کی لتائیں۔۔!بھینی بھینی خوشبو سے فضا معطر ہے۔!روشن دان سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔!پہلے دونوں نے مل کر کینڈل کو جلایا۔ پھرسر جھکا کریسوع کے سامنے کھڑے ہوگئے۔!!ان کے لب ہلنے لگے۔
’’یسوع یہ کیسی گھڑی آئی ہے۔!آسماں چپ ہے۔زمیںچپ ہے۔ہوائیں چپ ہیں۔!!نہ کوئی آہٹ۔۔۔نہ کوئی دستک۔۔۔خوف کا یہ کیساسایہ ہے ۔۔۔۔!!ذرا سوچ یسوع اگر اس کائنات کے ستارے یوں ہی بجھتے رہے تو ستاروں بھرا یہ نیل گگن توویران ہوجائے گا۔!تو پھر اس کائنات کے حسن کاکیاہوگا۔؟ایسے میں کچھ کر یسوع کچھ کر۔۔۔!!‘‘
جب آہستہ آہستہ کیرول کی آواز ڈوبنے لگی تو ان دونوں کے کہے گئے کلمات گرجا گھر میں گونجنے لگے۔!!!
’’ ایسے میں کچھ کر یسوع ۔۔۔۔کچھ کر۔۔۔!!‘‘
تب تک گرجے کا بڑا گھنٹا بجا۔۔۔ٹن
میری نے پیچھے مُڑ کر دیکھا۔خالی گودمریم کھڑی ہیں۔!کھڑکی پر میری گولڈ کی لتائیں لپٹی ہوئی ہیں۔!ایک کونے میں ہیٹ لگائے سانتا کروز بچوں کے لئے ٹافیاں لے کر خاموش کھڑے ہیں اورہال کی تمام کرسیاں خالی ہوگئی ہیں۔!!
اس نے روہانسی صورت بنا کررومال سے آنکھوں کوپوچھتے ہوئے کہا۔
میلکم۔! ٹوینکل نے مجھے بہت رُلایا ہے۔چلو اب گھر چلتے ہیں رات ہوگئی ۔!!!

ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،کیلا بگان ،جگتدل ،نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۷۴۳۱۲۵


یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close