تخم خوں : اردو میں دلت ڈسکورس پر مبنی پہلا بھرپور ناول

ڈاکٹر خورشید اقبال

سنسکرت لفظ’دلت‘ کا مطلب ہے’مظلوم‘ ، ’پامال‘ ، ’کچلا ہوا‘ یا ’دبا ہوا‘۔یہ لفظ ہندوستانی سماج کے ایک خاص طبقے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ذات پات کی تفریق پر مبنی سماجی نظام کی سب سے نچلی پائدان پر موجود ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دور قدیم سے ہی ہندو سماج چار بڑے درجوں میں بٹا ہوا ہے۔ ’برہمن‘ سب سے اونچا مقام رکھتے ہیں ۔تما م مذہبی امور پر ان کی اجارہ داری ہے۔اس وجہ سے دوسری تمام ذاتوں کے لوگ ان کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کی کہی ہوئی ہر بات حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔’کھتری‘ دوسرے نمبر پر ہیں۔ دورقدیم میں ان کا کام جنگیں لڑنا اور حکومت کے کاروبار کو سنبھالنا تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ سماج میں بہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ راجہ ، منتری، امراء اور سپہ سالار اسی طبقے سے ہواکرتے تھے۔ آج کے جدید دور میں بھی یہ لوگ کافی طاقتور ہیں اور حکومت و سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ’ویش‘ تیسرے درجے پر ہیں اور تجارت ، زراعت یا دستکاری کے کاموں سے تعلق رکھتے ہیں۔مالی اعتبار سے یہ طبقہ متمول ہے اور سماج میں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پوری اکانومی اس کے ہاتھ میں ہے۔
لیکن ہندو سماج کا چوتھا طبقہ جسے ’شودر‘ کہا جاتا ہے، ویدک دور سے ہی بہت بری حالت میں ہے۔ اسے سماج میں سر اٹھا کر جینے کی آزادی نہیں ہے۔یہ طبقہ اچھوت(Untouchable) ہے۔گائووں میں شودراونچی ذات والوں کے کنوؤں سے پانی نہیں لے سکتے۔ان کی کسی شے کو چھو نہیں سکتے۔ ان کے مکانات عموماً گائوں کے کنارے، بالکل الگ تھلگ ، جھگی جھونپڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سماج کے سارے نیچ اور گندے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لئے مندر میں داخل ہونا اور پوجا کرنا منع ہے۔یہاں تک کہ اونچی ذات والوں کی موجودگی میں یہ لوگ ننگے پاؤں رہنے اور زمین پر بیٹھنے پر مجبور کئے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی بے بسی اور مظلومیت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ انہیں صرف معاشی طور پر ہی نہیں کچلا جاتا بلکہ اونچی ذات والوں کو جب بھی ان کی جانب سے ’بغاوت‘ کا خطرہ محسوس ہوا ہے، انہیں بے انتہا تشدد کا شکار بنایا جاتا رہا ہے۔آئے دن اخباروں کی سرخیاں اس قسم کی خبروں سے بھری رہتی ہیں۔ ہمارے ملک کے دستو ر نے دلتوں کو سماج میں برابری کے حقوق دئیے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب دستور کے اوراق میں ہی گم ہو کر رہ گیا ہے۔شہروں کی حالت تو خیر مختلف ہے لیکن دیہاتوں میں نچلی ذات والوں کی زندگی انتہائی قابل رحم ہے۔ اونچی ذات والوں کے دلوں میں دلتوں سے نفرت کی شدت کو ناول کے درج ذیل چند جملوں کے ذریعہ اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے:
’’کندھے سے پوتھی پترا لٹکائے پنڈت کانا تیواری تیز رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ وہ جلد سے جلد پاٹھک جی کے گھر پہونچ جانا چاہتے تھے، اس سے قبل کہ کسی کم ذات پر ان کی نظر پڑ جائے۔ان کی گردن جھکی ہوئی تھی اور نظریں ان کے پیروں کے گرد سمٹ کر چل رہی تھیں۔ صبح کا وقت اور کسی کم ذات پر نظر پڑ جائے ، بلکہ ان کے کسی چرند پرند پر بھی نظر پڑ جائے تو پورا دن برباد۔ کسی بھی کام میں ہاتھ لگائو کامیابی نہیں ملنے والی۔‘‘ (ص 22 )
اردو؍ہندی ادب میں دلت مسائل پر سب سے پہلے باقاعدگی سے پریم چند نے قلم اٹھایا۔ انہوں نے ایک مصلح بن کر محض اپنے نظریات کا پرچار کبھی نہیں کیا ، نہ ہی کبھی دکھاوے کی نعرہ بازی کی بلکہ اپنے افسانوں اور ناولوں میں دلتوں کی بھوک، غریبی، ناامیدی، کسمپرسی اور بے بسی کی سچی تصاویر پیش کردیں جو سیدھے قاری کے دل پر اثر ڈالتی ہیں۔ہم ’کفن‘ جیسے افسانے یا ’گودان‘ جیسے ناول کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ منشی پریم چند کے بعد اردو ادب میں دلت مسائل پر دبی دبی سی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں لیکن صغیر رحمانی کا ناول’تخم خوں‘ اردو ادب میں دلت ڈسکورس پر مبنی پہلا بھرپور ناول ہے۔ یہ ناول ایک بلند آواز چیخ ہے جس نے پوری اردو ادبی دنیا کو چونکا دیا ہے۔
صغیر رحمانی کا نام اردو ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’واپسی سے پہلے‘ 2002 ء میں منظر عام پر آیااور اس میں شامل بعض افسانوں نے قارئین کو چونکنے پر مجبور کر دیا۔ 2016 ء میں ان کا ایک اور افسانوی مجوعہ ’داڑھی ‘ شائع ہو کر دھوم مچا چکا ہے۔2016 ء میں ہی ان کا ناول ’تخم خوں ‘ منظر عام پر آیا۔
’تخم خوں‘ آج کے بہار کے گاؤں میں بسنے والے دلتوں کے مسائل کی منھ بولتی تصویر ہے۔ ایسا ناول لکھنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے۔ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جس نے دلتوں کو بہت قریب سے دیکھا ہو۔ جس نے ان کے دکھ درد کو محسوس کیا ہو۔ محض دلت افسانوں اورناولوں کے مطالعے کی بنیاد پر، اپنے کمرے میں بیٹھ کر ایسا ناول ہر گز نہیں لکھا جا سکتا۔ صغیر رحمانی نے اپنی نوکری کے دوران برسوں دلت بستیوں میں فیلڈ ورک کیا ہے اور ان کے حالات کا بہت قریب سے مشا ہدہ کیا ہے۔تبھی وہ ان کی زندگی کی اتنی سچی عکاسی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
’تخم خوں ‘بہار کے ببھن گاواں نامی ایک گاؤں کے دلتوں اور اونچی ذات والوں کے درمیان کشمکش کی کہانی ہے۔بیانیہ حقیقت کے اس قدر قریب ہے کہ قاری کویہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ناول پڑھ رہا ہے۔وہ خود کو اسی ماحول میں موجود پاتا ہے اور مناظرحقیقت بن کر نگاہوں کے سامنے متحرک ہوجاتے ہیں۔
ناول کے پہلے باب کا اصل کہانی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ باب کہانی کے چند اہم کرداروں کو متعارف کرانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ گاؤں کا سب سے امیر شخص،امیشور پاٹھک اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔وہ اپنے اندر ایک خلا سا محسوس کرتا ہے کہ اس کے بعد اس کے نام کا چراغ جلانے والا کوئی نہیں ہے۔ آخر ایک دن اس کی مراد پوری ہوتی ہے اور اس کے آنگن میں ایک بچے کی کلکاریاں گونج اٹھتی ہیں۔ یہیں ناول کے سب سے اہم اورمضبوط کردار ’بلایتی‘ کی انٹری ہوتی ہے۔ پورا ناول اسی کے گردگھومتا ہے۔وہ ایک بے حد حسین دلت عورت ہے۔ مصنف نے بلایتی کا تعارف یوں پیش کیا ہے:
’’اسے بنائو سنگار کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔اوپر والے نے اسے اوپر سے ہی بنا سجا کر بھیجا تھا۔گوری چٹی، لمبی چھرہری، بھرے ہوئے چہرے پر لمبی ناک، بولتی آنکھیں، گھنے کالے بال۔ دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ چمئین بھی ہے۔پیدا ہوئی تھی تو آگ جیسی۔جسم کے روآں تک بھورے۔ کسی نے کہہ دیا ، یہ تو’بلایت‘ کی لگ رہی ہے۔بس اسی دن سے ہو گئی بلایتی۔‘‘ (ص 30 )
بلایتی ٹینگر کی بیوی ہے۔دونوں کی دس سالہ شادی شدہ زندگی یوں تو اچھی چل رہی ہے لیکن ان کے درمیان ایک خلا ہے۔ بلایتی جس نے سینکڑوں عورتوں کی زچگی کرائی ہے ،خود اس اس کی گود ویران ہے۔ بچے کی خواہش اس کے دل میںمسلسل کچوکے لگاتی ہے۔ یہی خواہش اسے اوجھا جی کے پاس لے جاتی ہے اور وہ اسے بتاتے ہیں ،’’کھیت ہی خراب ہے۔ بیج انکھوا نہیں پا رہا ہے۔ کھیت کو کسی براہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘‘
اب سوال ہے کہ وہ اپنے’ کھیت‘ کو کس براہمن سے شدھ کرائے۔آخرایک رات وہ اپنے مالک ، پنڈت کانا تیواری کے دروازے پر پہونچ جاتی ہے۔پنڈت اسے دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ بلایتی اس سے بنتی کرتی ہے کہ وہ اس کا کھیت شدھ کر دے لیکن پنڈت حوصلہ نہیں جٹا پاتا ہے۔ ذات پات کی خلیج درمیان میں حائل ہو جاتی ہے اور بدنامی کے خوف سے اسے واپس لوٹادیتا ہے۔
بچے کے لئے بلایتی کی تڑپ اور اس کے لئے ہر حد سے گزر جانے کے حوصلے کو مصنف نے بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے اورکردار کے نفسیاتی پہلوئوں کو اجاگر کرنے میں بڑی محنت کی ہے۔ نتیجے میں بلایتی کا کردارپہلے باب میں ہی بہت اہمیت کا حامل بن جاتا ہے اور پورے بیانیہ پر حاوی ہو جاتا ہے۔
پنڈت کانا تیواری ایک انتہائی لالچی، خود غرض، مکار اور جھوٹا انسان ہے۔ دولت کی ہوس میں وہ ہر غلط کام کر گزرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔لیکن اس انداز میں کہ اس کا ظاہری کردار داغدار نہ ہو۔ اسے اپنی امیج کا کتنا خیال ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ رات کی تنہائی میں ،بلایتی جیسی بے حد حسین عورت کے ’آفر‘ کو ٹھکرا کر اپنا دروازہ بند کر لیتا ہے۔
وہ بلایتی کے شوہر ٹینگر کا نام استعمال کرکے مردہ جانوروں ہڈیوں کے کاروبارکا لائسنس حاصل کرتا ہے اور اس کام کے لئے بطور رشوت بی ڈی او صاحب کو بلایتی کا جسم بطور رشوت پیش کرتا ہے:
’’بی ڈی او صاحب کی گدھ جیسی نظر بلایتی پر پڑی تو اسی پر جامد ہو کر رہ گئی۔ چہرہ پستان، کمر، کولہے اور آخر میں لمبی چھر ہری ،اجلی ٹانگیں۔ پنڈت جی کو بھانپتے ذرا بھی دیر نہ لگی۔ کان میں پھسپھسا کر بولے ۔ ’’ہرے رام، ہرے کرشن۔ میں تو صرف مردے کی بات کر رہا تھا حاکم، اگر آپ کی خواہش ہو تو آپ کی خدمت میں زندہ بھی ۔۔۔۔۔؟‘‘ (ص69)
پنڈت کانا تیواری اس کام کے لئے بلایتی کو راضی کرنے کے لئے اس کے دل میں سلگ رہی بچے کی خواہش کی آگ کا بخوبی استعمال کرتا ہے:
’’لیکن مالک ، اوجھا جی نے تو ۔۔۔۔۔ آپ ہی کاہے نہیں؟‘
’ارے تو اس ڈھونگی کی باتوں میں کہاں آگئی؟ وہ تو ڈھونگی تھا ڈھونگی۔ اوجھا وجھا تھوڑے ہی تھا وہ؟ اسی طرح اناپ شناپ بکتا رہتا تھااور اگر تو اس کی بات کو سچ مانتی ہے تو پھر جس طرح براہمن ’دیوتا کا روپ‘ہوتا ہے اسی طرح حاکم لوگ بھی بھگوان کا روپ ہوتے ہیں اور بھگوان پرسنّ ہو جائے تو کیا نہیں ہو سکتا؟
’لیکن مالک ای پاپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ‘ اس کی آواز لرزنے لگی۔
’پاپ پنیہ تو مت دیکھ۔ یہ مجھ پر چھوڑ دے۔ آخر میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔ایک براہمن تجھ سے کہہ رہا ہے اور میرے آدیش سے اگر کوئی پاپ ہوتا بھی ہے تو وہ پاپ نہیں کہلائے گا، پنیہ میں بدل جائے گا۔‘‘ (ص70)
اس کی فطرت کی کمینگی اس وقت انتہا پر پہونچ جاتی ہے جب وہ جانوروں کے اسپتال سے ،مویشیوں میں پھیلی ’گل گھونٹو‘ نامی بیماری کے ویکسین غائب کروا دیتا ہے اور نتیجے میں گائوں کے سارے مویشی دھڑادھڑ مرنے لگتے ہیں اور ہڈیوں کا کاروبار چمک اٹھتا ہے۔لیکن جب معاملہ بگڑ جاتا ہے تو وہ بڑی آسانی سے ٹینگر کو بلی کا بکرا بنا دیتا ہے۔ ٹینگر اسپتال سے ویکسین چوری کرنے اور گائوں کے سارے جانوروں کی موت کا سبب بننے کے جرم میں جیل پہونچ جاتا ہے۔
ناول کے پہلے باب میں ایک اور کردار سامنے آتا ہے۔۔۔۔پنڈت کانا تیواری کا ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بیٹا’من جی بابا‘۔ صغیر رحمانی کی کردار نگاری کا کمال ہے کہ انہوں نے من جی بابا کے کردار کے لئے بچوں جیسی توتلی زبان کا استعمال کیا ہے:
’’من جی بابا نزدیک پہونچے۔ انہوں نے انہیں کانا پھوسی کرتے دیکھ لیا تھا۔ پاس پہونچ کر بولے،
’تالے تاہے۔ ہنتھ لہے ہو تم لود؟‘
پرنام من جی بابا‘
’تھیت ہے، تھیت ہے۔ تم لود ہنتھ تاہے لہے تھے؟‘
’کچھ نہیں بابا ۔ آپ کھیت کی طرف نکلے ہیں کا؟‘
’ہاں ہم تھیتوے تی تلف دھومنے دا لہے ہیں۔‘ وہ آگے بڑھے۔ ‘‘ (ص 58)
یہی بے وقوف سا ، معذور کردار چھٹے باب میں اچانک ایک راکشش کا روپ دھار لیتا ہے اور بلایتی کی عصمت دری کر بیٹھتا ہے۔ وہی من جی بابا جسے بلایتی ایک بیٹے کی طرح مانتی تھی ،اس نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑ لیا۔من جی بابا کی اس حرکت سے وہ بالکل کاٹھ بن گئی۔ گویا وہ اندر سے جمتی جارہی تھی:
’’تھنو۔۔۔ تھنو ۔۔۔ میری بات تھنو ۔۔۔۔ ‘ من جی بابا اسے اپنے حصار میں جکڑ رہے تھے۔
’من جی بابا ۔۔۔۔ کا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔۔۔؟‘ خفگی اور غیر یقینی نے اس کی آواز کو ناتواں بنا دیا تھا۔ اس کی مزاحمت کو کھوکھلا کر دیا تھا۔
’تھالی تلّاتی تاہے ہے۔۔۔۔؟ تلّائو مت۔۔۔۔ تلّائو مت۔۔۔۔ ‘ من جی بابا میں نہ جانے کیسی طاقت آرہی تھی۔ان کا شکنجہ سخت اور تنگ ہوا جا رہا تھا۔اور آخر کار انہوں نے اسے پوال پر زیر کر دیا۔‘‘ (ص269)
عصمت دری کے اس واقعے کے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک تو بلایتی کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو جاتی ہے۔ اس کا ’کھیت‘ آخر کار بارآور ہو گیا تھا۔ دوسرے پنڈت کانا تیواری اپنے بیٹے کی اس ناجائز اولاد کو کسی بھی قیمت پر زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا کہ یہ اس کی صاف شفاف امیج پر ایک بدبو دار دھبہ تھا۔ایک دلت عورت براہمن بچے کو جنم دے یہ بات اسے کسی صورت منظور نہیں ہوتی۔ وہ بلایتی پر بچہ گرانے کا دبائو ڈالتا ہے اور جب وہ نہیں مانتی تو وہ اس کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔آخر اس کشمکش میں نو مہینے گزر جاتے ہیں اورکانا تیواری آخری دائو چلتا ہے۔ ایک رات وہ گائوں کے سارے کتوں کو زہر دلوا دیتا ہے اور پھر اس کے گرگے بڑی خاموشی سے پورے چمار ٹولہ کو آگ لگا دیتے ہیںاور تمام دلتوں کو چن چن کر قتل کر دیتے ہیں ۔صغیر رحمانی نے ناول کے صفحہ 348سے 350 کے دوران اس قتل عام کا نقشہ جس چابک دستی سے کھینچا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ کانا تیواری یہ سارا قتل عام بلایتی کو ختم کر نے کے لئے کرتا ہے لیکن اسے نہیں مار پاتا ہے۔ وہ اپنے شوہر ٹینگر کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور آخر کار ’’کیسر ملے دودھ کی مانند سرخ اور روئی کے پھاہے جیسے نرم‘‘ بچے کو جنم دیتی ہے۔
’تخم خوں‘ میں بلایتی کی کہانی کے شانہ بہ شانہ ایک اور کہانی بھی چلتی ہے۔ دلتوں اور اونچی ذات والوں کے درمیان سیاسی کشمکش کی کہانی۔ سامنت واد اور نکسل واد کی لڑائی کی کہانی۔اس کہانی کی شروعات دوسرے باب سے ہوتی ہے جب بی ڈی او صاحب کانا تیواری کو بتاتے ہیں کہ گائوں میں ساڑھے دس ایکڑ غیر مزروعہ زمین ہے اور سرکار اسے غریبوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔
سرکاری طور پر غیر مزروعہ کہی جانے والی زمین حقیقتاً برسوں سے راجپوتوں، بھومی ہاروں اور براہمنوں کے قبضے میں تھی۔ وہ اپنا حق چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اور دوسری طرف وہ زمین جن دلتوں کو الاٹ کی گئی تھی وہ بھی اپنا حق نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ نتیجے میں ایک کشمکش شروع ہوتی ہے۔پہلے محکمہ جاتی کوششیں اور آخر کار طاقت کا استعمال۔ گائوں کا ایک شخص مانجھی نکسل تحریک سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی کوششوں سے نکسلی اس لڑائی میں کود پڑتے ہیں اور یہ لڑائی خون آلود کشمکش میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ دونوں طرف سے کئی لاشیں گرتی ہیں۔
بیانیہ کے اس حصے نے ملک کے کئی حصوں میں ،خاص طور سے بہار میں جاری نکسل تحریک اور اس کا مقابلہ کرتے سامنت وادیوں کے کئی سیاسی پول کھولے ہیں۔ دونوں ہی اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔یہاں تک کہ بلایتی کی عصمت دری کو بھی ایک سیاسی ایشیو بنا دیا جاتا ہے اور اس کا فائدہ اٹھا کر الیکشن لڑنے اور جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حالانکہ ’تخم خوں‘ صغیر رحمانی کا پہلا ناول ہے لیکن انہوں نے اس ناول میں جس درجے کی کردار نگاری، منظر نگاری اور جزئیات نگاری کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جتنے اچھے افسانہ نگار ہیں اتنے ہی اچھے ناول نگار بھی ہیں۔ناول پہلے صفحے سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ واقعات میں تسلسل ہے اور بیانیہ کہیں بھی بے جا طوالت کا شکار نہیں ہوتا ہے۔
کرداروں کو گڑھنے میں بھی انہوں نے خاصا کمال دکھایا ہے ۔ ہر کردار اپنی جگہ درست اور نپا تلا ہے کہیں کچھ کم یا زیادہ کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ہر کردار اپنی بولی بولتا نظر آتا ہے۔ دلت جو بولی بولتے ہیں وہ بہار کی بولی ہے،بھوجپوری کی آمیزش والی ہندی ۔’ایک ‘ کی جگہ ’ایگو‘ ، ’وہی‘ کی جگہ ’اُوہے‘ ، ’اور‘ کی جگہ ’اوئور‘ ، ’کیوں‘ کی جگہ ’کاہے‘ ، ’وہاں‘ کی جگہ ’اونہاں ‘ وغیرہ جیسے سینکڑوں الفاظ ہیں ۔یہ بولی ناول کو حقیقت کے بالکل قریب کر دیتی ہے۔ ہاںاس کا ایک منفی پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جن کا بہار اور بہاریوں سے کبھی واسطہ نہیں رہا انہیں ناول کے بیشتر مکالمے سمجھنے میں پریشانی ہوگی۔لیکن کہانی کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مصنف کوتھوڑا compromise تو کرنا ہوگا۔ایسے مکالمے لکھنے کے لئے صرف بہاری ہونا ہی کافی نہیں بلکہ دلتوں کے ماحول میں برسوں وقت گزارنا اوران کے کھان پان، رہن سہن اوررسم و رواج کا بھر پور مشاہدہ بھی ضروری ہے۔
مکالموں اور کردار نگاری کے ساتھ ساتھ صغیر رحمانی نے منظر نگاری اور جزئیات نگاری پر بھی بہت توجہ دی ہے جو مصنف کے عمیق مشاہدے کی گواہی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ منظر دیکھئے:
’’ان دونوں نے سڑک چھوڑ کر گائوں جانے والی ترچھی راہ پکڑ لی اور کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں پر چلنے لگے۔ مغرب کی سمت غروب ہوتے سورج کی سرخی رفتہ رفتہ زائل ہوتی جارہی تھی۔ کھیتوں میں سوہنی(کھیتوں کی صاف صفائی) کرنے والی عورتیں’ودیشی گھاس‘ کے بوجھوں کو باندھ رہی تھیں۔ان دنوں کھیت کھیلیانوں میں یہ گھاس، گھاس کی طرح اگ آئی تھی۔اس کی خاصیت یہ تھی کہ جتنا کاٹو اتنا بڑھتی، پھیلتی۔دوسری خاصیت یہ کہ یہ جہاں ہوتی ، وہاں دوسری کوئی گھاس نہیں ہوتی۔جس طرف نظر گھمائو صرف یہی اور یہی۔دوب، سانواں، کھوکھوسا، جمہار، کانڈر اور موتھا جیسی دیشی گھاسیں تو ختم ہی سی ہوئی جارہی تھیں۔تیسری خاص، خاصیت یہ کہ کھیتوں سے ان کی زرخیزی کو چوس لینے کی پوری پوری اہلیت رکھتی تھیں۔کھیتوں کی ایک جتائی کی بجائے کئی کئی جتائی کرنی پڑتی ۔‘‘ (ص 214)
ناول میں جنسی عمل کی منظر کشی صغیر رحمانی نے جس خوبصورتی سے کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ پورا کا پورا بیڈ سین لکھ جانا اور وہ بھی اس طرح کہ رائی کے برابر فحاشی اور پھوہڑ پن نہ ہو، یہ کمال ہے۔بلایتی جب بی ڈی او صاحب کے پاس پہونچتی ہے اس وقت کا منظر دیکھئے:
’’اچانک اسے احساس ہوا ، اس کے اجلے ، دودھ جیسے پیروں پر نیلے نیلے چکتوں کے نشان اگ آئے ہیں۔وہ سہر اٹھی۔ سانپ اسی راستے اوپر چڑھا تھا اور اس سے ایسے لپٹ گیا تھا جیسے چندن کا پیڑ ہو۔
’حا ۔۔۔ کم‘
اس کے منھ سے سسکاری نکل گئی۔ وہ پلنگ پر اینٹھنے لگی۔ سانپ اس کے جسم سے چھال نوچ کر الگ کرنے لگا پھر اس نے اپنے کینچل بھی اتار دئیے۔جب وہ کینچل سے باہر آیا تو بے قابو ہو گیا۔ تھوتھنے رگڑنے لگا۔ منھ سے پھنکار نکالنے لگا۔ اس کا پورا جسم اس کے لعاب سے چپ چپ کرنے لگا۔ وہ بے رحمی سے اسے چاٹتا رہا۔ اچانک وہ نیچے سرک گیا۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ پھر اپنی لپلپاتی زبان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تڑپنے لگی اور اس کے منھ سے بھی نہ جانے کیسی کیسی آوازیں نکلنے لگیں۔
’حاکم ۔۔۔۔ حا ۔۔۔۔کم۔۔۔‘
وہ چھٹپٹاتی رہی اور سانپ ۔۔۔ چپڑ ۔۔۔ چپڑ۔۔۔۔ چاٹتا رہا۔ چہرہ گیلا ہو جاتا تو الگ ہو کر ہانپنے لگتا۔ عجیب نظروں سے مجبور،بے بس سا اسے دیکھنے لگتا۔
جب وہ اٹھ کر اپنے آپ کو سمیٹ رہی تھی ، اس نے دیکھا، سانپ کا دانت، جس کا زہر اگلنے میں وہ پورا دن ناکام رہا تھا۔فالج زدہ چوہے کی طرح جھول رہا تھا۔‘‘ (ص 79)
مجموعی طور پر اس ناول کو اردو دلت ڈسکورس کی راہ میں ایک سنگ میل سمجھا جائے گا اور صغیر رحمانی کو اس ناول کے لئے یاد رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر خورشید اقبال


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

1 thought on “تخم خوں : اردو میں دلت ڈسکورس پر مبنی پہلا بھرپور ناول”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close