حرف اکادمی کے زیر اہتمام پروفیسر اعتبار ساجد کے اعزاز میں شام اور محفل مشاعرہ

حرف اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام معروف شاعر، ادیب وسکالر پروفیسر اعتبار ساجد کے اعزاز میں ایک شام اور محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظ جہاں زیب طاہر نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ محمد رفاقت نے ہدیۂ نعت ؐپیش کیا۔ نسیم سحر اوررحیم یار خان سے آئے ہوئے جبارو اصف مہمانان اعزاز تھے جبکہ حلیم قریشی مسندِ صدارت پہ تشریف فرما تھے۔ پروفیسر اعتبار ساجد نے اپنی گفتگو میں کہا کہ حرف ہی میری پہچان ہیں،حرف کی حرمت مجھے مقدم ہے،راولپنڈی سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں میری کامیابی میں میرے دوستوں کا بہت ہاتھ ہے جنہوں نے مجھ سے ہمیشہ تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاعر کا انداز بیاں شاعرانہ ہو نہ ہو لیکن شاعری جاندار ہونا چاہئے اس کے بغیر کوئی بھی کلام عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر پاتا۔ علم و ادب میں نوجوانوں کی کاوشیں لائق ستائش ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں میرے راولپنڈی کے بہت سے دوست اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں جن کی کمی مجھے آج محسوس ہو رہی ہے۔ محفل مشاعرہ میں حلیم قریشی، اعتبار ساجد، نسیمِ سحر، جبار واصف ، کرنل سید مقبول حسین ،اطہر ضیا، جنید آذر، محبوب ظفر، ضیا الدین نعیم، عبدالقادر تاباں، میر تنہا یوسفی،محمد صالح، احمد ظہور، طاہرہ غزل، بشیر رانجھا، رفعت وحید ،اسلم ساگر، میجر حسن اسماعیل ،انصر حسن، مظہر مسعود، بشری سعید ، شعیب نوید خان، صبا کاظمی ، ظہور نقی، محمد گلِ نازک، نصرت یاب نصرت، حامد شاہ بخاری، عقیل شاہ، آصف نواز، صدیق سرمد، جیا قریشی، رخسانہ سحر، عثمان مظہر ، سلیم شرمانی، صغیر انور، ایم اے دوشی، سلطان حرفی، سمیرا کاجل، محمد اقبال شاہد، نجم الثاقب، خالد سعید اور محمد شاہد ازل نے اپنے کلام سے محفل کو رونق بخشی۔

رپورٹ: سید عارف سعید بخاری
سیکرٹری نشر و اشاعت، حرف اکادمی پاکستان

Show More

1 thought on “حرف اکادمی کے زیر اہتمام پروفیسر اعتبار ساجد کے اعزاز میں شام اور محفل مشاعرہ”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close