امام بخاری کی نیپکن / مشرف عالم ذوقی

 ’’ادب کے لئے مذہب ایک ’اسنابری‘ ہو جاتا ہے

جنگ کے نتائج کے نتائج کے طور پر، مذہب میں نئے نئے راستوں کے منہ کھل گئے /

اور شاعر، خدا کو فیشنیبل رومالوں کی طرح استعمال کرنے لگے /

اس کے باوجود۔ بہت ہی معمولی رومال …‘‘

 … کافکا سے ایک مکالمہ

نیپکن ہے ؟

ارے نہیں۔ نیپکن کا کیا کرنا ہے ؟ نیپکن کو بھول گئے تھے، صلاح الدین قریشی۔ ابھی دن ہی کتنے گزرے ہیں۔ خدا قسم۔ کیا وہ جانتے تھے کہ نیپکن کیا بلا ہے۔ پہلی بار اپنے شہر کے ایم۔ ایل۔ اے کے ساتھ لنچ کرتے ہوئے وہ زور سے چونکے گئے۔

 ’کیا___ کھانے کے بعد نمکین۔ میٹھا تو سنا ہے سر …‘

 ’ارے ہم ہاتھ پوچھنے کو بول رہے ہیں۔ آپ بُڑبکے رہ گئے صلاح الدین قریشی۔ ‘

لیکن ٹھیک یہی ’لطیفہ‘ اِس واقعہ کے دوسرے ہی دن انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ بھی دُہرایا تھا۔ نیپکن کے نام پر ’تیسرے نمبر کی بیوی قریشہ بھی چونکی تھی۔ ‘ پگلا گئے ہیں کیا آپ۔ ارے کھانے کے بعد لوگ تو میٹھا مانگتے ہیں۔ ‘ زور زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے صلاح الدین قریشی نے رنگین، کچھ ’لنگی‘ اسٹائل کا نیپکن ہاتھ میں اُٹھاتے اور ہاتھ پوچھتے ہوئے ایم۔ ایل۔ اے صاحب والا جملہ دہرایا تھا۔ ’بڑبک، کوئی کیا کہے گا۔ نیپکن بھی نہیں جانتی کیا۔ ارے اِیہے ہے …

 ’تو کیا۔ ہاتھ نہیں دھوئیں گے ؟‘

 ’پونچھ لیا۔ ‘ صلاح الدین قریشی فخر سے مسکرائے تھے۔ سب بڑے لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہاں کا پانی سے ہاتھ دھونے کی فرصت ہوتی ہے۔ کھایا پیا___پونچھ لیا۔ ایسے۔

بیوی کی آنکھوں میں حیرانی کی کیسی چمک تھی، صلاح الدین قریشی کے لئے ٹھہر کر اِسے دیکھنا اہم نہیں تھا۔ اہم تھا تو صرف یہ سوچنا کہ اب وہ بھی بڑے آدمیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک بڑے آدمی یا ایک بڑا مسلمان …

دلچسپ یہ تھا کہ اِس چھوٹے سے نیپکن کے ٹکڑے میں برسوں کی تاریخ سما گئی تھی۔

دلّی کی جامع مسجد۔ مغلوں کی حکومت …  تہذیب کے سنہرے برس یا ماضی کے جھروکوں میں بند تہذیب کی نشانیاں، اردو اخباروں سے اُچھل اُچھل کر دل و دماغ میں جگہ بناتے امام بخاری اور اُن کے خاندان کی تاج پوشی کی خوبصورت کہانیاں ___ دیکھا جائے تو سب کچھ یکایک ہوا تھا۔ دلّی، جامع مسجد، بخاری اور نیپکن___ یکایک ہی، اگر اِسے صرف محاورہ نہیں مانا جائے تو پیالے میں ’طوفان‘ جمع ہو گیا تھا۔

تین بیویوں والے صلاح الدین قریشی کو جیسے من مانگی مرادیں مل گئی تھیں۔

l

سیاست کا نشہ یکایک نہیں چڑھتا۔ آہستہ آہستہ چڑھتا ہے اور جب چڑھتا ہے تو آنکھوں پر کالی پٹّی باندھ دیتا ہے۔ دور کیوں جائیں، بچپن میں صلاح الدین قریشی نے ابا کے ساتھ فتوحہ کی سڑکوں پر وہ منظر دیکھا تھا۔ جادوگر کھرانا آنکھوں پر پٹّی باندھے موٹر سائیکل دوڑا رہا تھا___ فتوحہ، مین روڈ کے دونوں طرف، آنکھوں میں چمک لئے کھڑے لوگوں کے درمیان یہ دانتوں سے انگلی کاٹنے والا منظر تھا___

 ’سب نظربندی کا کمال۔ ‘

ابا کہتے تھے ___ ہنستے تھے ___ ’وہ اپنی نہیں، تمہاری آنکھوں پر پٹّی باندھ دیتا ہے۔ ہوsہوs

 ’لیکن …‘

 ’آنکھ بند کر چل سکتے ہو کیا؟ ہوsہوs پھر ابا دنیا بھر کے جادوگروں کے قصّے لے کر بیٹھ جاتے۔ ایسی ایسی کہانیاں، ایسے ایسے کرشمے، کہ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے، ابا کو نہار رہا ہوتا۔ تب پہلی بار مذہب کے کرشمے  کے بارے میں بھی، اُس کے دل میں ایک چھوٹا سا وہم پیدا ہوا تھا۔ بڑے بھائی، سلیمان قریشی جو اُس سے کم سے کم 9-10 سال بڑے تھے، سمجھایا تھا۔

 ’جادوگروں اور پیغمبروں میں فرق ہوتا ہے۔ مذہب ایک اندھے عقیدے کا نام ہے۔ راستہ ذرا سا بھی مڑا تو دوزخ کا دروازہ حاضر …‘

تب یہی کوئی پندرہ سال کی عمر رہی ہو گی۔ بڑے ہوتے صلاح الدین قریشی کے دماغ میں کھُرانا جادوگر، موٹر سائیکل اور پٹّی بندھی آنکھوں کی جو تصویر کل سمائی، اُس نے پھر حافظے سے نکلنے کا نام نہیں لیا۔ ہاں، بڑے ہونے تک وہ اس نتیجے پر ضرور پہنچ چکا تھا کہ سیاست کی جادوگری، جادوگر کے کرشمے سے بھی کہیں زیادہ بڑی اور بھیانک ہے اور یہاں جو کرشمہ ہو سکتا ہے، وہ بڑا سے بڑا جادوگر بھی نہیں دکھا سکتا۔ یہی وہ وقت تھا، جب مذہب ناگ پھنی کے پودے کی طرح صرف چھونے کے احساس سے بھی چبھنے لگا تھا۔ کبھی ڈھیروں سوال کھڑے کرتا۔ اُڑن کھٹولے سی فنتاسی، کہانیاں، جادوگر کے ڈبّے سے نکلنے والے چوزے کی طرح اُسے گھیر کر بیٹھ جاتے۔ الگ الگ کمروں میں عقیدت و احترام سے نماز ادا کرتے بھائی بہنوں کا چہرہ نظر آتا تو کھڑکی سے باہر جھانکتی آنکھوں میں ایک لمحہ کو شرمندگی کا احساس پیدا ہو جاتا۔

امّی کہتی___ ’نماز پڑھا کر بیٹے۔ طبیعت کو سرشاری ملتی ہے۔ ‘

ہاتھوں میں تسبیح لئے ابا اُس کے پاس آ کر رُک جاتے۔ ’اب بڑے ہو گئے ہو۔ جتنا کہنا تھا۔ کہہ لیا لیکن___ نماز پڑھو گے تو روح کو ٹھنڈک ملے گی۔ ویسے بھی ماحول اچھا نہیں ہے …‘

 ’ماحول … ؟‘

ابا کے ساتھ ٹہلتے ہوئے صلاح الدین کی آنکھوں میں کتنے جلتے دیئے ایک ساتھ لرز کر رہ جاتے۔

ابا آہستہ آہستہ لفظ چبا رہے ہوتے ___ ’میاں آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو رہا ہے ہمارا۔ پہلے لباس گیا۔ پھر نشانیاں ___ تہذیب کی اپنی نشانیاں ہوتی ہیں۔ کل جن پر ہم فخر کیا کرتے تھے۔ صدیوں کی بادشاہت۔ تاریخی مقامات۔ وقت میں بھی دیمک لگتی ہے صاحبزادے …  ہے …  ہے …  تہذیبوں کے چراغ گُل ہو گئے۔ پچھلی بار دلّی گیا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

 ’کیوں بھلا؟‘

جامع مسجد کا کیا حشر کر دیا ہے جاہلوں نے۔ اردو بازار ایک گندہ مچھلی بازار بن کر رہ گیا ہے۔ یہ محض عمارتیں نہیں ہیں صاحبزادے۔ تہذیبی وراثت ہیں۔ نشانیاں ہیں۔ انہیں کھو کر ہم کہیں نہیں ہیں۔ ایک راز کی بات سنو …‘ ابا کی سرمہ لگی آنکھوں میں فانوس روشن تھے ___ ’سیاست میں اب اِسی دروازے سے آنا ہو گا۔ ‘

 ’یعنی جو راستہ اردو بازار سے ہو کر جاتا ہے … ؟‘

ابا چپ تھے۔

 ’اردو بازار سے جامع مسجد اور لال قلعہ تک۔ لال قلعہ سے …‘

ابا ایک بار پھر خاموش تھے۔

 ’سیاست نہیں ابا۔ یہ راستہ مسلمانوں کی سیاست سے ہو کر جاتا ہے ___‘ صلاح الدین کے دل میں آیا کہ پوچھیں، کہ کیا سیاست میں آنے کے لئے اس راستے کی پونچھ پکڑنا ضروری ہے ابا___؟‘

لیکن تب تک جامع مسجد سے بلند ہونے والے سیاسی خطبوں نے جتا دیا تھا کہ ابا نے کتنا پہلے مسلمانوں کی سیاست کے دروازے کو دیکھ، جانچ اور پرکھ لیا تھا۔ پہلی بیوی کی اچانک موت دوسری سے دل نہ ملنے اور طلاق دینے کے بعد تیسری قریشہ سے ’ٹانکا‘ جڑنے تک     صلاح الدین سیاست میں آنے کا من بنا چکے تھے۔ وہ بھی مسلمانوں کی سیاست میں ___ لیکن وہ یہ بھی جان رہے تھے کہ معاملہ جتنا سیدھا سیدھا نطر آتا ہے، اُتنا ہے نہیں۔ بلکہ کہا جائے تو ٹیڑھی کھیر ہے۔

 ’بانس پر چڑھنے کا تجربہ رکھتے ہیں کیا؟ نہیں نا۔ پھسل جائیے گا …‘

صلاح الدین کے سیاست میں آنے کی خبر ملتے ہی یہ پہلا جھٹکا ملا تھا، ربانی گوشت والے کی دکان سے ___ صبح صبح گوشت لانے والی عادت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اس سے دو فائدے تھے۔ قاعدے سے دیکھیں تو ذات برادری۔ لیکن وقت کے ساتھ پیشے بدل گئے تھے۔ پہلے یہاں ربانی کا باپ بیٹھتا تھا اور ابا گوشت لانے جاتے تھے ___ لیکن بچپن سے ہی ابا کی انگلیاں تھامے، قصائی ٹولہ کی گلیاں ناپتے صلاح الدین کو بھی اچھا بُرا گوشت سمجھنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ کبھی کبھی کسی دن نہیں آنے پر ربانی مذاق بھی جڑ دیتا___ ’آ جایا کرو صلاح الدین بابو۔ گوشت کی بوٹیاں، کاٹھ کے ٹھیہے پر کاٹتا ہوا وہ دوسرا لقمہ جڑ دیتا___ ایمان بھی تازہ رہتا ہے اور ذات برادری بھی …  وہ کیا کہتے ہیں …  ’انڈر اسٹینڈنگ‘ بھی باقی رہتا ہے …‘

بس اسی بات پر صلاح الدین کے اندر تک آگ لگ جاتی تھی۔ س … سالہ … قریشی ہونے مطلب یہ تو نہیں کہ اُن کا خاندان بھی یہی کاروبار کرتا رہا ہو …  مگر وقت گزرتے ہی سیاست میں آنے کا خیال آتے ہی اُسے سمجھایا گیا تھا …  میاں پہلے اپنا ایک منچ تو بنا لو___ قریش منچ۔ رجسٹریشن کرالو___ مہینے میں ایک بار میٹنگ کر لو۔ اردو اخبار تو کچھ بھی چھاپتے رہتے ہیں۔ لیٹر پیڈ پر رجسٹریشن نمبر ہو گا تو آپ کی ہر خبر شائع ہو گی۔ یہی تو راستہ ہے میاں۔ ’بڑی سیاست‘ میں جو بھی واقعہ پیش آتا ہے، قریش منچ کے پیڈ پر ایک خبر بنا کر بھیج دو۔ ہر پارٹی کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے، جن کے پاس 20-25لوگ ہوں۔ ضرورت پڑے تو قصائی ٹولہ کے چھوکروں کو ٹرک میں بٹھاؤ اور نیتا کے گھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر آؤ۔ یہی شارٹ کٹ ہے میاں جی___ سب یہی کرتے ہیں …  خبریں چھپنے لگیں گی تو لوگ بھی جاننے لگیں گے۔ نیتا لوگ بھی پوچھیں گے ___ کون ہے یہ صلاح الدین قریشی___ بس بن گئی نا دھاک۔ سینہ چوڑا کرو اور قریشی برادری کا نام اونچا کرو۔

مگر ’بانس پر چڑھنے ‘ کا تجربہ والی بات کہہ کر ربانی گوشت والے نے صلاح الدین کے، سیاست کی طرف بڑھتے پاؤں کو روکنے کی کوشش ضرور کی تھی اور یہاں بھی سیاست سے بھرا ہوا داؤ کھیلا تھا صلاح الدین نے۔ آنکھیں بھر کر دیکھا ربانی کو۔ کپڑے اُدھاڑے بیٹھا تھا۔ چالیس، بیالیس کی عمر۔ آس پاس والے سب ڈرتے تھے  اُس کے نام سے۔ یہ بھی سننے میں آیا تھا۔ کئی قتل کر چکا ہے۔ مگر پولس ہاتھ رکھنے سے ڈرتی ہے۔

آنکھ بھر کر دیکھا صلاح الدین نے۔ پھر ریل کو پٹری پر لانے کی کوشش کی۔

 ’کیوں ___؟ پھر کوئی بانس پر چڑھے ہی نہیں، کیونکہ تجربہ نہیں ہے …‘

 ’یہ تو میں نے نہیں کہا …  گوشت کاٹتے کاٹتے ربانی چونکا۔ ‘

 ’ہم تو منچ بناچکے ہیں ربانی بھائی …‘ یہ صلاح الدین کی طرف سے پھینکا گیا سکسر تھا …

 ’کیا؟‘

دیکھتے نہیں۔ دیش بھر میں مسلمانوں کا، کیا حال ہو رہا ہے۔ توڑنے والے مسجد توڑ کر مندر بنا دیتے ہیں اور جو یہاں کی بھی مسجد توڑی جانے لگی تو … ؟‘

لال آنکھیں لئے لوہے کے ’چاپڑ‘ کو گھڑاک سے کھلّی پر دے مارا ربانی نے …  آنکھیں غصّے میں اُبل رہی تھیں۔ کوئی ایسا کر کے دکھائے تو …  دس …  پندرہ …  ایک سانس میں وزنی گالیوں کا بخار کم پڑا تو صلاح الدین مسکرائے …

 ’اب بتائیے۔ منچ چاہئے کہ نہیں۔ آپ کہتے ہیں۔ بانس پر کون چڑھے گا۔ اِدھر تو ہم بانس پر چڑھنے کا من بنا چکے ہیں۔ آپ چڑھائیں گے بانس پر۔ آپ کے ساتھ ہم چڑھیں گے۔ اب بولئے …

 ’معنے … ؟‘

 ’معنے یہ ربانی بھائی کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے …‘

ربانی نے اپنے لئے بھائی کا لفظ سنا تو اُس کا سینہ چوڑا ہو گیا …

 ’مطلب سمجھائیے۔ ‘

 ’قریش منچ کے آپ سکریٹری ہیں آج سے ___ دفتر ہو گا، ہمارے گھر کے پچھواڑے والا کمرہ۔ ‘

 ’ہم سکریٹری ہیں …‘

گوشت کاٹنا چھوڑ ربانی نے پھٹی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھا۔ چاپڑا اور کھلی کو کنارے کرتے ہوئے، ٹھیل اُسے گوشت کا پولیتھن تھماکر، ’اُگھاڑی‘ ہوئی شرٹ دو بار ننگے بدن پر ڈال کر ایسے اُٹھا، جیسے کوہ نور ہیرا حاصل ہو گیا ہو …

 ’آپ عظیم ہیں صلاح الدین بابو …‘

 ’نہیں۔ اس میں عظیم ہونے جیسی کوئی بات نہیں۔ منچ بن چکا ہے۔ کل کو ہم پارٹی سے بھی جڑیں گے  یا اپنی پارٹی بنائیں گے۔ مگر طے رہا۔ آپ ہمارا ساتھ دیں گے۔ ‘

 ’یہ بھی بھلا پوچھنے کی بات ہے۔ ‘

صلاح الدین کے تیزی سے بڑھتے قدم کو ایک بار پھر ربانی گوشت والے نے ٹوکا تھا___

 ’سنیئے … ’سنیئے صلاح الدین بابو۔ وہ کیا کہتے ہیں …  لیٹر پیڈ پر ہمارا نام چھپے گا نا …‘

 ’کیا بات کرتے ہیں آپ۔ سکریٹری ہیں۔ آپ کا نام نہیں چھپے گا تو کس کا چھپے گا …‘

ربانی کی آنکھوں میں چمک تھی___ ایسی چمک جو تازہ گوشت میں ہوتی ہے۔

2

سیاست کا پہلا قلعہ اس آسانی سے فتح ہو جائے گا، یہ سوچنا بھی صلاح الدین کے لئے مشکل تھا۔ ربانی کو شامل کئے جانے والی بات پر پہلا اختلاف تو گھر سے ہی شروع ہوا۔ قریشہ نے ڈرائنگ روم میں زور زور سے ہونے والی گفتگو سن لی تھی۔ چائے کے بہانے ’ذرا اِدھر تو آئیے ‘  کا فرمان جاری کرنے والی قریشہ کے چہرے پر ناراضگی تھی …

 ’کیا بات کرتے ہیں …  وہ گوشت والا …‘

 ’تم نہیں سمجھو گی قریشہ …‘

 ’اب وہ گوشت والا آپ کی برابری کرے گا۔ یہی سمجھانا چاہتے ہیں نا آپ … ؟‘

 ’نہیں، یہ نہیں سمجھانا چاہتے ہیں …‘

 ’پھر کیا سمجھانا چاہتے ہیں۔ آپ ہی بتائیے …‘

 ’باہو بلیوں کا زمانہ ہے۔ ٹی وی نہیں دیکھتی ہو کیا۔ جیسے اکھاڑے میں پہلوان اُتارے جاتے ہیں، ویسے آج کل پارٹی میں یہ ’باہو بلی‘ اُتارے جاتے ہیں …

قریشہ کے چہرے پر آنے والی چمک نے ظاہر کر دیا تھا کہ وہ میاں کی سیاست کے اِس توڑ کو سمجھ چکی ہے۔ صلاح الدین نے آرام کی سانس لی۔ قریشہ تو مان گئی لیکن شاید ابا حضور کا زمانہ ہوتا تو وہ ہرگز نہیں مانتے۔ لمحہ بھر میں صلاح الدین ایوبی سے لے کر اسلامی تاریخ کے اوراق اُلٹ پلٹ دیئے جاتے۔ جس کا مفہوم ہوتا کہ اسلام ’باہوبلیوں ‘ یا تلوار کے بل پر نہیں، اپنے اعمال سے پھیلا ہے۔ یہ تو یہودیوں کی سازش ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کر دیا جائے۔

اباّ کے انتقال تک گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا۔ سلام بھائی کے گھر کے آگے بندھی ہوئی خصّی، بکریوں کی فوج اُسے ناگوار گزرتی تھی۔ وہ پنج وقتہ نمازی تھے۔ گھر میں بچے بچیوں کی لمبی فوج تھی، جن کی روزانہ کی چیخ وپکار بٹوارے والی دیوار سے آتی ہوئی صلاح الدین قریشی کے مزاج کو ناگواری میں بدل دیتی تھی۔ کہاں تو نمازی پرہیزگار___ ہر سال بچو ں کی لائین لگا دی___ ٹھیک ہے، بچے ہو گئے تو اُن کی ڈھنگ سے پرورش تو کیجئے ___ بس، مسلمان صرف آبادی بڑھانے پر دھیان دیتے ہیں۔ اس لئے آر ایس ایس والے اِن سے چڑھتے ہیں۔

پہلے چھوٹا سا کباڑا کا بزنس شروع کیا صلاح الدین قریشی نے۔ بزنس میں فائدہ ہوا۔ چودہ طبق روشن ہو گئے ___  مگر ’صلاح الدین کباڑی والے ‘ کا نام اُن کے ’ایستھیٹک‘ کو بوجھل کر دیتا تھا۔ پیسے کی ریل پیل شروع ہو چکی تھی۔ فتوحہ مین مارکیٹ میں کپڑوں کی دکان کھل گئی۔ قسمت یہاں بھی چمکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مین مارکیٹ میں کپڑوں کے تین شوروم کھل گئے۔

کہتے ہیں، پیسے آتے ہیں تو آگے کے دس دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ پھر کیا تھا، ایم ایل اے اور ایم پی کے یہاں بھی آنا جانا شروع ہو گیا اور یہ وہی پارٹی تھی، جہاں پہلی بار صلاح الدین قریشی نے ’نیپکن‘ کا استعمال کیا تھا___ نیپکن کو نمکین سمجھنے والی بات پر ٹھہاکہ لگاتے ہوئے ایم ایل صاحب نے ہی سب سے پہلے اُسے سیاست میں آنے کی دعوت دی تھی۔

 ’ہم آپ کا احسان بھولے نہیں ہیں۔ الیکشن میں آپ کے لوگوں نے بڑی مدد کی ہے …‘

 ’سوتو ہے …  اب آپ ہماری مدد کیجئے نا …‘

 ’سب سے پہلے اپنے شہر کے مسلمانوں کو جوڑیئے، میرا مطلب ہے، ایک کیجئے ___ چلئے مانتے ہیں، قریشی برادری پرآپ کا کنٹرول ہے اور باقی برادری پر___؟ ہم تو ایسے ناپتے ہیں صلاح الدین صاحب …‘ ایم پی نے کھانے کے بعد باہر نکلی آرام چیئر پر اپنے پاؤں پسارتے ہوئے کہا___ ’سمجھئے ‘ ہی یاں روپئے میں دس آنا مسلمان ہیں تو آپ کے حصے میں ایک آنا بھی نہیں آیا___ پورے دس آنا کو اپنے قبضے میں کیجئے نا …‘

 ’لیکن یہ کیسے ہو گا …‘

 ’تھوڑا اس شہر سے باہر نکلئے ___ باہر___ ایک پالٹکس جامع مسجد کی بھی ہے ___ ہے کہ نہیں ؟ وہاں بھونپو پر بخاری ایک بات بولتے ہیں۔ ہی یاں آگ لگ جاتی ہے ___ کاہے ؟ کاہے کہ دلّی کی جامع مسجد بولتی ہے …‘

 ’وہ امام ہیں بڑے آدمی ہیں ___‘ صلاح الدین قریشی کہتے کہتے ٹھہرے۔

 ’آپ لوگ اُن کی آواز پر ناچتے ہیں کہ نہیں۔ ‘

 ’سب ناچتے ہیں۔ ‘

 ’کاہے ناچتے ہیں ؟ امام ہیں تو نماز پڑھائیں۔ پولٹکس میں آنے کی کیا ضرورت تھی …  مسکراتے ہوئے ایم ایل اے صاحب نے گولڈ فلیک کا سگریٹ جلالیا۔ مسکرائے ___ ’تو مانتے ہیں نا آپ ___کہ سیاست میں دم ہے۔ سیاست سب کو نچا سکتی ہے۔ آپ بھی ناچئے …‘

 ’ہم کیسے نچائیں ___ اور ایک بات جان لیجئے۔ امام صاحب کی مسلمانوں پر گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ جب سے انہوں نے فرقہ پرست پارٹی کا ہاتھ تھاما ہے، مسلمان اُنہیں اپنا نیتا تسلیم نہیں کرتے …‘

 ’یہی تو …  یہی تو آپ غلط سوچتے ہیں صلاح الدین۔ ایم ایل اے صاحب سنجیدہ  تھے ___ ’اس ملک میں مسلمانوں کی آواز آج بھی امام ہیں۔ آپ نہیں ہیں۔ وہ پارٹی بدلیں یا بلڈر بن جائیں ___ سرکار کو مسلمانوں کے کسی بھی مسئلہ پر بات کرنی ہو گی نا، تو وہ آپ کے پاس نہیں آئیں گے۔ امام کے پاس ہی جائیں گے ___ باقی معاملے، مقدمے بازیاں تو چلتی ہی رہتی ہیں سیاسی سنکٹ کو کیسے ٹالنا ہے، یہ آپ نہیں امام جانتے ہیں اور جان لیجئے۔ آج کے زمانے میں بدلو اور دل بدلو کچھ نہیں ہوتا۔ نام بکتا ہے ___ لوگ، پچھلا، ماضی سب کچھ بھول جاتے ہیں ___ آپ پہلے امام صاحب کی پونچھ پکڑیئے ___ تھوڑا لائم لائٹ میں آئیے۔ پھر مرضی آپ کی___ چاہیں تو آپ اُن کی پونچھوا چھوڑ دیجئے۔ جس پارٹی کی چاہیں، پونچھ پکڑ لیجئے اور ہاں سنئے۔ ‘

 ’کیا؟‘

 ’سنا ہے وہ کوئی اپنی مسلم پارٹی بنانے جا رہے ہیں۔ انہیں پورے دیش کے مسلمانوں کا  ساتھ چاہئے ___‘ ایم ایل اے صاحب ہنسے تھے ___ پونچھ پکڑنے کا یہ بالکل صحیح ٹیم ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں۔ یہی ہے …  رائٹ چوائس بے بی … اہا‘۔

حقیقت یہ ہے کہ امام بخاری کی نیپکن سے سیدھے سروکار ہونے کا قصّہ بھی یہیں سے جڑا تھا___ اور سچ پوچھئے تو ایک وقت تھا، جب بڑے بخاری کی ایک آواز سے پورے ملک کے ماحول میں گرمی آ جاتی تھی۔ لوگ انتظار کرتے تھے۔ کب جمعہ آتا ہے، کب دلّی کی شاہی مسجد سے مسلمانوں کے لئے نیا فرمان جاری ہوتا ہے۔ صلاح الدین قریشی، شاہی مسجد اور بخاریوں کے ’نشاۃ ثانیہ‘ سے واقف تھے۔ کہاں تو سمرقند و بخارا اور کہاں جامع مسجد سے جڑی ہوئی شاہی وراثت لیکن اس شاہی وراثت میں پہلے بھی کم پیوند نہیں لگے ___ جب ایمرجنسی کے دنوں میں اندرا جی کی بات پر، ’نسبندی پر مسلمانوں کا جھکاؤ‘ جیسے فیصلے پر بڑے بخاری نے آرام سے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اپنا فیصلہ جاری کر دیا تھا___ کیا ہندی اور انگریزی اخبار___ اردو اخباروں میں تو بخاری ہی بخاری تھے ___ تب ٹی وی کہاں تھا___ چینل کہاں تھے ___ کالے چشمے اور رعب دار سفید چہرے والی تصویر اپنے آپ میں کافی تھی۔ جس کا خوف آرام سے ہندو محلے میں محسوس کیا جا سکتا تھا___ لیکن یہیں سے بڑے بخاری کے لئے مخالفت کا بازار بھی گرم ہوا تھا۔ سیدھے سادھے کٹر پنتھی مسلمانوں کو نسبندی کرائے جانے کی بات آسانی سے ہضم نہیں ہوئی۔ کچھ نے تو اُسے مغل شاہی مسجد کے حجرے میں، وزیر اعظم کے ذریعہ بھیجے گئے نمائندے سے خفیہ اور منافع بخش سمجھوتے کا نام دیا تھا۔ تب ایک زمانہ تھا، جب بڑے بخاری کے خلاف میں لکھی گئی تحریریں یا اخبار ورسائل جامع مسجد کے گلیاروں میں نذرآتش کر دیئے جاتے تھے لیکن ’اس خفیہ سمجھوتے ‘ سے مخالفت کا بازار بھی کھلا، ساتھ ہی مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے لئے بھی___ مسلمانوں کے ہر طرح کے مسائل کو سلجھانے کے لئے، شاہی مسجد کے دروازے کھل گئے۔

کہتے ہیں دلّی بولتی ہے اور سارا ہندستان سنتا ہے ___ شاہی مسجد کے گلیاروں سے نکلتی آوازیں فتوحہ کے گلی کوچوں میں بھی آرام سے پھیل جاتی تھیں ___ تب ابا زندہ تھے ___ اباّ جو کہا کرتے تھے کہ قومیں اپنی نشانیوں سے پہچانی جاتی ہیں …  لیکن اِن نشانیوں کے پالنہار اب سمجھوتہ پرست ہو گئے ہیں۔ موقع پرست___ ایسے موقع پرست، مسلمانو ں کے قائد نہیں ہو سکتے۔ برصغیر کی 800 سالہ مسلم دور حکومت میں بنائی گئی مسجدیں اور یادگار آج زوال کے قریب ہیں تو ان کا ذمے دار کون ہے ___؟ اباّ، مولانا عبدالکلام آزاد جیسے کمزور مسلمان رہنماؤں کی مثال لے کر آ جاتے تھے۔ جن کی کانگریس سے خوشامد اور چاپلوسی کی کہانیوں نے کتاب لکھنے اور رسالہ نکالنے سے الگ، کبھی انہیں ایک بہتر قائد بننے نہیں دیا___

اباّ کہتے تھے ___ آٹھ سو برسوں کی حکومت۔ بھلانے میں وقت لگتا ہے بیٹے۔ وشوہندو پریشد جیسے نیتاؤں کو یہی تو ہضم نہیں ہوتا۔

لیکن اباّ اپنی داستانوں میں مغلیہ حکومت کے زوال اور انگریزوں کے عروج کا قصّہ مسلم حکمراں کی کمزوریوں اور عیاشیوں سے تعبیر کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ذرا سی کرسی اور پاگل پن کا نشہ تغلق سے بخاریوں تک پھیلا ہوا تھا___ ایک بار تنقید کے دروازے کھلتے ہیں تو تسلیوں کے دس دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ اُنہی دنوں چھوٹے بخاری کے امام سے ’بلڈر‘ بن جانے کا بھی دھماکہ ہوا تھا___ پھر بجرنگ اور شیوسینا کے طرز پر ’آدم سینا‘ بنانے اور آدم سینا‘ میں شامل ناموں کو سرکاری خفیہ فائل تک پہنچانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔

حقیقت یہ تھی کہ شاہی وراثت کے مینار اور گنبد ذرا سا دھندلے پڑ گئے تھے ___ شاہی مسجد سے آتی صداؤں میں اب پہلے جیسی گرمجوشی اور تمازت نہیں رہ گئی تھی۔ کالے فریم سے جھانکتی آنکھیں اپنا خوف اور رتبہ کھو رہی تھیں ___ ملک میں فرقہ پرستی کے رتھ گھومنے، بابری مسجد کے مسمار ہونے کے بعد سے لے کر مسلم سیاست میں اُٹھاپٹک تو کافی ہوئی لیکن دوسرے مسلم نیتاؤں کے ساتھ بخاری خاندان کا اثر بھی زائل ہوتا رہا___ ایک وقت وہ بھی آیا جب بڑے بخاری  مسلسل اپنی مخالفت سے گھبراکر، اپنا تاج اپنے بیٹے کو سونپ کر، شاہی محل کے گلیاروں میں اوجھل ہو گئے ___ نئے امام بنے بخاری حکمراں، فرقہ پرست پارٹی کا ساتھ دینے کے لئے نہ صرف بدنام ہوئے بلکہ رہی سہی کسر چھوٹے بخاری نے پوری کر دی، جو بہار کے چھوٹے شہروں سے فتوحہ تک حکمراں پارٹی کی حمایت میں لگاتار دورے کر رہے تھے۔

صلاح الدین قریشی ایک بھیانک ’اگنی پریکشا‘ سے گزر رہے تھے۔ سچ اور غلط کی تعریفیں کسی قدیم زمانہ کی یاد دلاتی تھیں۔ کہاں اس گلوبل تہذیبی، گاؤں میں ماضی کے ایسے اوراق یاد رکھے جاتے ہیں ___ یاد رکھا جاتا ہے تو صرف حال۔ ممکن ہے آپ کا مستقبل خوبصورت ہو اور آپ کا حال شاندار مگر آپ کا ماضی تو وہی رہتا ہے۔ آلودہ اور داغدار___

اباّ کی باتیں کہیں دھُند میں اُتر گئی تھیں۔ قریش منچ کی آئندہ میٹنگ میں بخاری کو خط بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جسے تھوڑی بہت تنقید کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ قریش منچ کے خوبصورت لیٹر پیڈ پر، محلے کے صحافی نبی احمد سے لیٹر ڈرافٹ کرایا گیا اور خط شاہی مسجد کے پتہ پر بھیج دیا گیا اور اتفاق دیکھئے ___ ایک ہی ہفتہ کے اندر جامع مسجد کے خوبصورت لفافے اور پیڈ پر جواب بھی آ گیا تھا۔ فوراً ملنے کو کہا گیا___ بلکہ یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ہو سکے تو بیوی اور بچوں کے ساتھ آئیے ___

قصّہ کوتاہ، لنگی جیسے دکھنے والی نیپکن کی کہانی تھوڑا اور آگے بڑھی۔

4

چار خانے کی لنگی، وہ بھی گھٹنے تک موڑ کر باندھنے والے، ربانی گوشت والے سے شروع شروع میں، صلاح الدین کو پریشانیوں کا سامنا تو کرنا پڑا لیکن برادری والوں کو ایک جٹ کرنے میں اُس کا بڑا ہاتھ رہا___ چار خانوں کی لنگی کی جگہ اُس نے کُرتا پائجامہ بھی پہننا شروع کر دیا تھا۔ اردو اخباروں میں قریش منچ کی چھپی خبروں میں اب اُس کا نام بھی آنے لگا تھا۔ یہ سب باتیں ربانی کو اب بڑا آدمی سمجھنے میں مدد دے رہی تھی اور ربانی گوشت والا ان سب کے لئے صلاح الدین کا شکر گزار تھا، جس نے چاپڑ سے بوٹی بوٹی گوشت کاٹنے والے کے اندر ایک مسلم سیاستداں کو ڈھونڈ نکالا تھا …  اور بقول ربانی، ’پالیٹشین‘ ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی آسمان سے تھوڑے ٹپکتے ہیں …‘

ربانی گوشت والے کی دو ایک باتوں سے صلاح الدین کو شروع شروع میں الجھن کا سامنا تو کرنا پڑا لیکن بعد میں اُس کے بھی نتیجے اچھے نکلے۔ جیسے ایک بار اُس کی غیر موجودگی میں ربانی نے قصاب ٹولہ کے قصابوں کی ایک ایمرجنسی میٹنگ بلالی___ مُدّعا تھا گوشت کی قیمت میں اضافہ اور دوسرا، قصاب کے پیشے کو عزت کی نظروں سے دیکھا جائے ___ اُن دنوں وہ کپڑے کے شوروم کی خریداری کے لئے باہر گیا تھا۔ واپس آنے پر پٹنہ سے شائع اردو اخباروں میں ربانی کی چھپی خبروں پر اُسے تعجب کی بجائے غصّہ آیا لیکن اس کا اظہار کرنے سے  وہ قاصر تھا___ لیکن اسی کا دوسرا پہلو تھا، جو اُسے ایک صحافی دوست نے سمجھایا کہ عوام کے درمیان بڑی بڑی خبروں کی بجائے ایسی خبروں کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو چھوٹے طبقے سے جڑی ہوں ___ خاص طور سے جن میں چھوٹے چھوٹے مسائل پر دھیان دیا گیا ہو___ ہاں ایسی خبروں سے قریش منچ کو فائدہ ہوا لیکن زیادہ اُچھل کود مچانے اور نئی تکنالوجی کے غیر ضروری استعمال سے ربانی گوشت والے کو کافی نقصان بھی سہنا پڑا تھا___ ہوا یوں کہ اُس میٹنگ کے بعد، دبئی اور یو اے ای سے آنے والوں کے منہ سے ڈبہ بند گوشت کے بارے میں سنتے سناتے ربانی نے اپنے پیشے کو نئی تکنالوجی کے آئینہ میں اُتارنے کی پہل کر ڈالی۔ ٹین کے ایک سائز کے ڈبے خریدے گئے ___ ’قریش مٹن کارنر‘ کا لیبل چپکایا گیا___ ربانی تو اُس پر قریش منچ کا لیبل چپکانا چاہتا تھا، لیکن منچ سے جڑے لوگو ں کی مخالفت کا ڈر بھی تھا___ فتوحہ میں سائنس پڑھنے والے طلباء سے مشورہ ہوا۔ پلیٹ کے اندرونی حصّے کو سوڈیم اور کیلشیم کے ذریعے جمانے کی کوشش کی گئی۔ شروع میں ایسے 100 ڈبوں کو جانچ کے طور پر تیار کرنے کی ذمے داری تھی مگر بُرا ہو سائنس کا، جس نے کبھی بھی ربانی جیسے لوگوں کا ساتھ نہیں دیا___ ڈبے سے بدبو آنے لگی___  ناکام تجربہ کا وقت وہی تھا، جس کے ٹھیک دوسرے دن صلاح الدین اپنی بیوی قریشہ کے ساتھ امام بخاری سے ملنے کے لئے ٹرین پکڑنے والے تھے۔ ڈبہ بند گوشت کے ناکام تجربہ کے باوجود مطمئن، ربانی اور منچ سے جڑے دوسرے لوگ ٹرین تک دونوں شوہر بیوی کو چھوڑنے آئے۔ سارا معاملہ سیاست سے جڑا ہوا تھا___ جیسے وہاں سے واپس آتے ہی صلاح الدین قریشی، مسلم سیاست میں کسی نئے باب کی شروعات کرنے جا رہے ہوں۔

دلّی پہنچنے، جامع مسجد کے قریب رفیق ہوٹل میں کمرہ لینے، فون پر گفتگو کے بعد دوسرے دن سات بجے ملنے کا وقت اور رات کا کھانا ساتھ میں کھانے کی اجازت مل چکی تھی۔ پتہ نہیں کیوں، اِن سب سے گزرنے کے دوران اُسے وہ منظر بار بار یاد آتا رہا، جو اُس نے فتوحہ کی سڑکوں پر___ آنکھ پر پٹّی باندھے موٹر سائیکل چلاتے جادوگر کو اباّ کی انگلیاں تھامے کبھی دیکھا تھا۔

5

اباّ نے کہا تھا، تہذیبیں اور قومیں اپنی نشانیوں سے بھی جانی جاتی ہیں لیکن نشانیاں کہاں ___ دھندلی ہوتی نشانیوں کے ساتھ پرانی دلّی کے بازار آباد تھے ___ اردو بازار، مچھلیوں کی بدبو اور سڑک پر افراتفری کے ماحول کوئی نئے نہیں تھے۔ نئے تھے تو اِس بار دیوار پر لگے ہوئے، امام مخالف پوسٹر، جن کے بارے میں صلاح الدین نے سنا تو تھا، لیکن ایسے ’تاریخی پوسٹروں ‘ کے دیدار پہلی بار ہوئے تھے۔

شام کی بتیاں جل چکی تھیں۔ پرانے بازار کی رونق اپنے عروج پر تھی۔ جامع مسجد کے ٹھیک پیچھے بنا جنت نشاں، مغلیہ سلطنت کے دور کی یاد دلانے کے لئے کافی تھا۔ یہی وہ جگہ تھی، جہاں امام نے اُن کی ملاقات کی جگہ مقرر کی تھی۔ صلاح الدین نے سن رکھا تھا کہ اس جنت نشاں میں کچھ بیش قیمت جنگلی پرندے بھی ہیں۔ جیسے کرشن مرگ، بلیک بک، پاڈا ہرن، ہاگ ڈیر۔ وہی جنگلی جانور  جن کے ’غیر ضروری استعمال‘ پر منیکا گاندھی کا قہر برستا تھا، یا سلمان خاں جیسے ہیرو کو جیل کی ہوا کھانی پڑتی تھی …  لیکن امام کا معاملہ اور پولیس ایسے ’مذہبی سنتوں ‘ کی مخالفت میں کھڑی نہیں ہو سکتی۔ جامع مسجد کی لمبی، نہ ختم ہونے والی سیڑھیاں بتا رہی تھیں کہ اسی، پہلی سیڑھی سے آخری سیڑھی تک، مسلم سیاست کے تمام داؤ پنچ کھیلے جاتے ہیں …  اِن سیڑھیوں سے گزرنے اور جنت نشان میں پہنچنے تک صلاح الدین کی جگہ قریش منچ کا ڈائریکٹر لے چکا تھا۔ جسے آنے والے مستقبل کی تیاریوں کی اینٹ یہیں سے رکھنی تھی___ پہلی اینٹ۔

جنت نشاں کے باغوں میں قمقمے روشن تھے۔ قریشہ کے لئے سب کچھ نیا تھا اور حیرت میں ڈالنے والے۔ میاں جی کی حیثیت اور بڑھتے رتبے سے ایسا سروکار شاید پہلی بار ہوا تھا۔

پھر جیسے ایک جھماکہ ہوا۔ بخاری آ گئے تھے۔ اُن کے شامل کچھ لوگ تھے، جن سے آہستہ لب ولہجہ میں بات کرتے ہوئے اُنہوں نے پلٹ کر اُن دونوں کی طرف دیکھا تھا۔ پھر امام نے کچھ اشارہ کیا۔ ایک نوکر نفیس ٹرے میں شاہی چائے اور کچھ میووں کی پلیٹ رکھ کر کچھ دور پر کھڑا ہو گیا۔ بخاری نے قریب آ کر سلام کیا۔ ہاتھ ملایا اور خبر پوچھی۔ قریشہ سے پوچھا دلّی پہلی بار آئی ہیں، یا پہلے بھی آئی تھیں، پھر جواب کی پروانہ کرتے ہوئے، سیدھے اپنی گفتگو پر آ گئے۔

 ’آزادی کے بعد مسلمانوں کی حیثیت کو کسی نے بھی نہیں سمجھا۔ ایک نے بھی نہیں ‘ …  وہ تھوڑا رُکے، گلا کھکھار کر پھر بولے۔ ’آپ کیا سمجھے۔ ہم پارٹی بدل رہے تھے۔ مسلمانوں کی آزمائش تھی تو آزمائش ہماری بھی تھی۔ کہاں چلیں، کدھر چلیں۔ کانگریس کو بھی دیکھا۔ پھر سوچا بھاجپا کو بھی دیکھا جائے۔ دیکھنے میں کیا ہرج ہے۔ ‘

چشمہ سے جھانکتی آنکھیں جیسے صلاح الدین کے اندر تک اُتر گئی تھیں۔ آزادی کے بعد مسلمان بہت بری حالت میں رہے، آپ کو تو احساس ہو گا۔ ایک نفسیاتی ڈر کے سائے میں۔ اقلیت۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی اپنی پارٹی ہو، تو آپ زیادہ بھروسہ کر سکتے ہیں …  مسلمانو ں کی پارٹی۔ مجھے ہر شہر میں ایسے لوگ چاہئیں جو ہماری نمائندگی کر سکیں۔ آپ کریں گے … ؟

خوشبوؤں سے معطر فضا نے صلاح الدین کو کہیں اور ہی پہنچا دیا تھا___ کبھی یہاں سے شاہی سواریاں گزرتی ہوں گی۔ ممکن ہے کبھی شاہی دربار بھی رہے ہوں۔ پھولوں کے گلیاروں سے آتی مہکتی خوشبوؤں کے درمیان وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ یہاں کس مقصد سے آیا ہے …

 ’’وہ ہمیں دلتوں سے بدتر بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں۔ سارے سرکاری چہرے ایک جیسے ہیں۔ سب مسلمانوں پر اپنی روٹیاں سیکنا چاہتے ہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ آپ سیکنے دیتے ہیں۔ اس لئے، آپ سیکنے مت دیجئے ___ آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کا کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ اپنا کاروبار خود سنبھالئے ___ اپنا مستقبل خود لکھئے ___ ذرا سوچئے، سبھی ممکنات کے باوجود کیا آپ کی اقلیت آبادی کا کوئی شخص وزیر اعظم ہو سکتا ہے ___؟ ہو سکتا ہے ___ آج نہ کل وہ اکثریت میں بھی آ جائے۔ کیوں ؟ کل کس نے دیکھا ہے ___ اسی لئے چھوٹے شہروں  میں چھوٹی سطح پر بھی مجھے آپ جیسے نمائندوں کی ضرورت ہے …‘‘

چشمے کے اندر سے چمکتی بخاری کی آنکھوں نے پانسا پھینکا___ ’سوچئے مت ساتھ دیجئے۔ ساتھ دینے کا وقت ہے۔ تنقید کا وقت نہیں۔ پھر دیر ہو جائے گی …  مسلمانوں کو آپ جیسے سیاسی لیڈروں کی ضرورت ہے ___ محنتی اور جاں باز۔ وہ آہستہ سے بولے ___ اور جن کے پاس پیسہ کی بھی طاقت ہو۔ ‘

ٹھیک یہی وقت تھا، جب خدمت گار نے آ کر بتایا۔ کھانا لگ چکا ہے …

انتہائی لذیذ ترین کھانے کے دوران نیپکن نے اپنا جلوہ دکھایا تھا۔ صلاح الدین چپ تھے ___ چپ سے زیادہ ’حیران‘ اور جذباتی___ جامع مسجد کے گلیاروں میں لگے مخالف پوسٹر اور دنیا بھر کے الزام، الزام سے الگ جو شخص سامنے تھا، وہ ہزاروں طرح کی مخالفت کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی نمائندگی۔

سرپر آسمان روشن تھا۔ پھولوں کی کیاریوں میں قمقمے روشن تھے۔ جنت نشاں کے جنتی گلیارے میں آسمان کی ٹھنڈک کے سائے میں ___ تمام سیاسی لفظوں کے ساتھ، بالکل اچانک کھانا ختم کرتے کرتے ایک لفظ چپکے سے داخل ہو گیا …

 ’نیپکن … ؟‘

 ’کیا؟‘

 ’نے …پ … کن …‘

پتھر کی میز پر چنے ہوئے مخملی دسترخوان پر، خوبصورت قابوں، پلیٹوں کے درمیان ایک انتہائی حسین گلاس میں گلدستے کی صورت نیپکن نظر آ رہے تھے۔ صلاح الدین نے مڑ کر دیکھا …  قریشہ نے کھانا ختم کرتے ہوئے ایک نیپکن نکال لیا تھا۔ انتہائی سفید خوبصورت نیپکن …  جیسے کوئی سفید طلسماتی چادر ہو، جس کا ذکر اُس نے ’داستانِ امیر حمزہ‘ جیسی کتابوں میں کبھی پڑھا تھا مگر  صلاح الدین کو اُلجھن قریشہ کے اس طرح چونکنے اور پھسپھسانے کے لہجے پر ہو رہی تھی۔ کمبخت …  اِس میں حیرانی کی کون سی بات ہے۔ نیپکن دیکھا نہیں کیا___ جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو___ اب تو وہ گھر بھی لانے لگا ہے ___ اور تو اور، دعوت پارٹی کے موقع پر بھی نیپکن کا ہی استعمال کرتا ہے …  مگر یہ نیپکن …  شاہی نیپکن، جس کے ذکر کے ساتھ جنت نشاں کی وہ وادیاں بھی شامل ہیں، جہاں کسی زمانے میں مغلیہ حکومت کی سرگوشیاں بھی اپنا سر نکالتی ہوں ___

 ’سنئے نا …  رکھ لوں …  یادگاری کے طور پر …‘ ایک اُڑتی نظر امام صاحب کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے قریشہ، صلاح الدین کے کان کے پاس پھسپھسا رہی تھی …

 ’کیوں۔ ہاتھ دھونا ہے کیا۔ یہ لیجئے نا …‘ امام نے اشارہ کیا۔ چاندی کے خوبصورت کٹورے میں لیموں کے ٹکڑے کے ساتھ گرم پانی بھی موجود تھا۔

 ’جی …  میں کہہ رہی تھی …  نیپکن …‘ ڈرتے ڈرتے قریشہ نے اِس بار صلاح الدین کی طرف بغیر دیکھے اپنے دل کی بات کہہ دی …  ’نشانی کے طور پر رکھ لوں … ؟‘

 ’ارے …  ہاں …  ہاں …  کیوں نہیں …  ضرور___‘ امام صاحب ہنس رہے تھے۔ ’رکھ لیجئے نا …  نشانیاں …‘ وہ تھوڑا مسکرائے تھے …  ’قومیں اپنی نشانیوں کے ساتھ بھی جانی جاتی ہیں …‘

ایک لمحے کو چونک گئے تھے صلاح الدین …  برسوں پہلے اباّ نے بھی تو یہی کہا تھا …  دلّی میں آٹھ سو برسوں کی نشانیاں دھندلی اور ختم ہونے لگی تھیں …  اب ایک نشانی نیپکن کے طور پر …  ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ لہرائی۔ صلاح الدین نے دیکھا، قریشہ اپنے پرس میں شاہی نیپکن کو حفاظت کے ساتھ رکھ رہی ہے۔

نیپکن کا سفرا بھی جاری تھا۔ اِس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد دلّی سے فتوحہ پہنچنے پر اِسی نیپکن نے سیاست کی ایک نئی بساط بچھائی تھی۔

6

ہوا کچھ یوں کہ قریش منچ کے چمک جانے کے بعد سے ہی سدانند بابو اُس پر ڈورے ڈالتے رہے تھے۔ بہار میں برسوں سے حزب مخالف کا رول نبھانے والے سدا نند بابو ایم ایل اے کے چناؤ میں کئی بار ہار چکے تھے۔ چھوٹے شہر میں ملنا ملانا تو ہو ہی جاتا ہے، لیکن وہ ایک ایسی پارٹی سے منسلک تھے جہاں ملنے ملانے کے جرم میں اپنے ہی لوگوں کے ذریعے وہ تنقید کے شکار بھی ہو سکتے تھے ___ فتوحہ جیسے شہر میں تنگ مذہبی پارٹی والے نیتاؤں سے ملنے ملانے کو یوں بھی اچھا تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ دس بیس برسوں میں فرقہ پرستی کے اندھڑ نے اُسے سدانند بابو سے دور رکھا تھا جبکہ قاعدے سے دیکھیں تو دونوں ایک ہی عمر کے تھے ___ صلاح الدین اور سدانند دونوں نے ایک ساتھ ہی اسکول اور کالج کا سفر طے کیا تھا___ لیکن جن سنگھ والی ذہنیت سے جڑا سدا نند کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اپنی جگہ نہیں بنا پایا___ لگاتار چلنے والے سیاسی اُٹھا پٹخ کے درمیان اِدھر صلاح الدین سیاست کے نئے باب پڑھنے لگے تو اُدھر سدانند، صلاح الدین کے سہارے مسلمانوں کے درمیان اپنی ساکھ بنانے کو بے چین تھے۔ بچپن کا کلاس میٹ___ مانے گا  کیسے نہیں۔ راجنیتی میں کوئی دھرم ایمان ہوتا ہے ___ ہوتا ہے ووٹ بینک___ اصل تو یہی ہے۔ قریش منچ کے دفترمیں صلاح الدین سے ملنے آنے والے سدانند بابو نے چلتے وقت ایک شگوفہ اور جڑ دیا۔

 ’کل بھابھی کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاؤں گا …  کھلاؤ گے نا؟ نان ویج۔ بہت دن ہو گئے یار …‘

 ’کیوں نہیں …‘ دلّی سے لوٹے صلاح الدین کو سدانند کی تجویز میں سیاست سے جڑی کوئی بات نظر نہیں آئی۔

صلاح الدین مطمئن تھے ___ قریش منچ کے بڑھتے اثر کو کیش کرنے کے لئے دوسری پارٹیاں بھی اُن کے پاس آئیں گی___ سیاست میں مستقبل کے بیج تو ایسے ہی پھوٹتے ہیں۔ اب چاہے امام ہوں یا سدانند___ ملنا تو سب سے ہی پڑے گا۔ تبھی اپنا راستہ چننے میں اُسے آسانی ہو گی۔

اور یہ دوسرے دن کا قصّہ ہے۔ جب نیپکن ایک ’زندہ اور سلگتا ہوا مسئلہ‘ بن کر ایک بار پھر اُس کے سامنے آیا تھا۔

قریشہ صبح سے ہی کھانا بنانے میں جٹی تھی۔ پلاؤ، قورمہ۔ بہار میں عام طور پر بریانی کا رواج نہیں ہے۔ فتوحہ میں تو بالکل بھی نہیں مگر بھلا ہو ٹی وی چینلوں کا، جس نے بریانی، حیدرآبادی بریانی کا نام لے کر منہ کا ذائقہ بڑھا دیا تھا۔ کئی لوگوں سے قریشہ نے بریانی بنانے کا طریقہ پوچھا۔ ایک دو بار، اچھا بُرا بنانے کی پریکٹس بھی کی۔ آہستہ آہستہ کامیابی ملی تو گھر میں بریانی بننے کا رواج شروع ہو گیا۔ ہاں، یہ الگ بات تھی کہ صلاح الدین کو بریانی کا حساب پسند نہیں تھا۔ وہ کہتا بھی تھا۔ چاول میں گوشت ڈال دو۔ یہ گوشت کے ساتھ انصاف نہیں ہے ___ بریانی بن گئی۔ گوشت کے اور ائیٹم بھی تیار ہو گئے۔

رات 9بجے سدانند ’پارٹی جیپ‘ پر آیا___ اکیلے ___ پہلے وہ قریش منچ کے پیچھے والے دفتر میں بیٹھا صلاح الدین کو اپنی پارٹی کا منتر پلاتا رہا___ یہ بتانے کی کوشش کرتا رہا، کی اب پارٹی میں ’بھید بھاؤ‘ کا دور ختم ہو چکا ہے ___ اب تو اُس کی پارٹی میں مسلم جوان نیتا بھی شامل ہیں ___ اُس نے یہ بھی کہا، آئندہ آنے والے چناؤ میں اُس کی پارٹی کا مستقبل روشن ہے۔ قریش منچ چاہے تو آسانی سے مسلم ووٹوں کے بٹوارے کو روکا جا سکتا ہے …  سیاست میں ہم گھوڑے ہوتے ہیں۔ گھوڑا گھاس سے یاری کرے گا تو کھائے گا کیا …  ہو …  ہو …  ہو …‘

تیز ٹھہاکے، قہقہوں کے درمیان کھانے کا دور چلا اور یہیں وہ حادثہ ہو گیا، جس کے بارے میں صلاح الدین انجان تھے ___ قورمہ، بریانی، نان پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد جب سدانند نے نیپکن کہا، تو وہ آہستہ سے بولے …  چلئے بیسن پر ہاتھ دھولیں …

 ’ارے یار …  یہ دلّی والوں نے اب عادت خراب کر دی ہے۔ نیپکن ہی بڑھانا۔ رکھتے ہونا؟‘ سدانند بابو نے پھر ٹھہاکا لگایا___ رکھتے ہو یا ابھی بھی فتوحہ کے فتوحہ ہو …‘

اپنی طرف سے مطمئن صلاح الدین آگے بڑھے۔ چلمن کے اُس پار قریشہ کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ پہلے سوچا، آواز دے کر بلا لیں۔ پھر اتنا ’ماڈرن‘ بننا اچھا نہیں لگا صلاح الدین کو۔ چلمن کے پار کھڑی قریشہ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا تھا۔

 ’نیپکن تو نہیں ہے۔ ‘

 ’نہیں ہے۔ ابھی تو لایا تھا۔ ‘

 ’ختم ہو گئی۔ ‘

 ’دیکھو شاید کہیں کوئی ٹکڑا۔ ‘

 ’دیکھ لیا، نہیں ہے …‘ کہتے کہتے اچانک قریشہ کو یاد آ گیا …  ارے ہاں ہے …‘

 ’ہے تو پھر لاتی کیوں نہیں …‘

 ’وہ پرس میں …  قریشہ نے یاد دلانے کی کوشش کی___ ’بھول گئے۔ دلّی میں …  امام صاحب کے ہی یاں …‘

سدانند بابو امام صاحب کی نیپکن میں ہاتھ پونچھتے ہوئے اب بھی ہنس رہے تھے ___

 ’کھانا مزیدار تھا …  لیکن ہماری تجویز کے بارے میں سوچئے گا ضرور۔ ‘

نشانیاں دھندلی ہو گئی تھیں۔

سدانند کی جھوٹی رکابی میں مڑا تڑا شاہی نیپکن، گوشت کی چوسی گئی، بڑی چھوٹی ہڈّیوں کے درمیان چھپ گیا تھا___

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close