پدماوتی/پدماوت

تحریر: محمد علی صدیقی

میں نے فلم دیکھی اس تجسس کے ساتھ کہ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے جو راجپوتوں کی آن بان شان کے خلاف ہو سکتا ہے۔

میں نے دیکھا کہ فلم میں راجپوتوں کی آن بان شان کے خلاف تو کچھ نہیں ہے لیکن خلجیوں کی آن بان شان کے خلاف سب کچھ ہے۔

فکشن اور تخلیق کے نام پر خلجی حکمرانوں کی تصویر بری طرح مسخ کی گئی ہے۔ فلم دیکھ کر یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ وحشی لٹیرے تھے جن کا تہذیب سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا تابناک ماضی مسلمانوں کی اثاث ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہاں مسلمانوں کے اس تابناک ماضی کو مسخ کرنے کی کوئی منظم اور منصوبہ بند سازش چل رہی ہو۔
پہلے مسجدوں پر جھگڑا۔ انھیں مسجدوں کے نیچے مندروں کی قبریں نظر آنے لگیں۔ پھر تاج محل کی بنیادوں میں انھیں کسی مندر کے آثار نظر آنے لگے۔
اسکے بعد مسلم حکمرانوں کو ولن ثابت کرنے کی باری آئی اور شہنشاہ اورنگزیب اتنا بڑا ولن ثابت ہوا کہ اسکے نام سے منسوب سڑکوں کے نام بدل دئے گئے۔ پھر باری ٹیپو سلطان شیر میسور اور مجاہد آآزادی کی آئی۔ انھیں ٹیپو سلطان میں بھی ایک ولن نظر آنے لگا

اور اب علاو الدین خلجی۔

فلم بننے سے لے کر ریلیز ہونے تک وہ ہنگامہ مچا کہ راجپوت جان لینے اور جان دینے پر تل گئے۔ پھر اس احتجاج نے اس طرح کروٹ بدلی کہ جس دن فلم ریلیز ہوئی وہی راجپوت سنیما ہالوں کے باہر گلاب کے پھول تقسیم کرتے نظر آئے اور فلم دیکھ کر نکلنے والے ہر فرد کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ فلم میں تو راجپوتوں کی شان بڑھائی گئی ہے۔
چونکہ شروع سے راجپوتی آن بان شان ہی جھگڑے کی وجہ تھی اس لئے مسلمان بے فکر رہے اور یہ خیال ہی پیدا نہیں ہوا کہ فلم میں علاؤالدین خلجی کی تصویر بھی مسخ کی جا سکتی ہے۔ اور ہوا یہی۔ انتہائی غیر محسوس طریقے سے فلم تماشہ بینوں کے ذہن پر یہ ٹائر چھوڑ جاتی ہے کہ خلجی حکمراں انتہائی وحشی، ظالم ، لٹیرے اور تہذیب سے کوسوں دور تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close