نعتِ پاک / تلک راج پارس

ہمیں باطل خداؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے
زمانے کی جفاؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

مرے سرکار پر جو روز کوڑا ڈال دیتی ہے
یہودن کی خطاؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

لگا دی سامنے آنے سے اس پہ روک آقا نے
کہ ہنداں کی جفاؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

معافی مانگتا ہوں رب سے توبہ کرکے روتا ہوں
مجھے اپنی خطاؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

نبی سے ملنے آیا ہے وہ نابینہ وحی آئ
انہیں اپنی اداؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

جنابٍ سودہ نے بنوائ وہ گرواتے ہیں دیوار
انہیں ایسی خطاؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

جنہیں تکلیف سے دنیا میں رہنا پڑتا ہے پارس
نبی کو ایسی ماںؤں کا بہت افسوس ہوتا ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close