غزل ۔۔۔۔۔ حفیظ میرٹھی

یہ بات نرالی دلِ خوددار کرے ہے
تڑپے ہے مگر درد سے انکار کرے ہے

دُنیا کا یہ انداز سمجھ میں نہیں آتا
دیکھے ہے حقارت سے کبھی پیار کرے ہے

تسلیم اسے کوئی بھی دل سے نہیں کرتا
وہ فیصلہ جو جبر کی تلوار کرے ہے

اس دشمنِ ایماں نے کیا شیخ پہ جادو
کافر جو کہے ہے وہی دیندار کرے ہے

اب اپنے بھی سائے کا بھروسہ نہیں یارو
نزدیک جو آئے ہے وہی وار کرے ہے

تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

شرماتا ہوں فنکار سمجھتے ہوئے خود کو
جب جھوٹی خوشامد کوئی فنکار کرے ہے

یہ ناچتی گاتی ہوئی اس دور کی تہذیب
کیا جانیے کس کرب کا اظہار کرے ہے

مانگے ہے حفیظ اور ہی کچھ شعر کا بازار
کچھ اور طلب شعر کا میعار کرے ہے


یہ غزل آپ کو کیسی لگی؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

1 thought on “غزل ۔۔۔۔۔ حفیظ میرٹھی”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close