جاپان پہنچتے ہی ہم لکھ پتی بن گئے۔۔۔ مگر

جاوید دانش

میرے گھر والے ، رشتہ دار ، دوست احباب ، رفیق رقیب اور محلے ٹولے والے یہ پڑھ کر خوش ہولیں کہ آخر کار زندگی میں پہلی بار (اور شاید آخری بار ) ہم لکھ پتی بن ہی گئے ۔
خالہ چاچی کی پیشین گوئیاں کہ ’’ بندے نے کتاب قلم کے چکر میں خود کو تباہ کر ڈالا ۔ اور یہ آوارگیاں دیکھو کیا گل کھلاتی ہیں ۔‘‘ __ دھری کی دھری رہ گئیں ! بھئی قسمت کے لکھے کو کون بدل سکتا ہے ‘ چلو عزیزوں کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔
مارچ کی۶؍ تاریخ ہے ، دوپہر کے تین بجا چاہتے ہیں ، میں کیتھے پیسی فِک کی ایک تام جھام فلائٹ سے صرف ۰۲؍ منٹ پہلے اتارا گیا ہوں ۔ کسٹم وغیرہ کے بعد میں نے موسم کا اندازہ کرتے ہوئے اپنا اکلوتا گرم لانگ کوٹ نکال کر پہن لیا ہے ۔ سردی صرف ۷؍ڈگری ہے مگر ناریتا ایئر پورٹ کا ماحول گرم ہے ۔ لوگوں کی بھیڑ رواں دواں ہے ۔ جلد ہی میں نے اندازہ کر لیا کہ موٹی موٹی دھندے کی باتیں انگلش میں لکھی ہیں ۔ باقی ہر سو جاپانی کادور دورہ تھا ۔ کیوں نہ ہو – میں ٹوکیو پہنچ چکا تھا ۔ ابھی میں لابی کا معائنہ کر رہا تھا کہ ایک بینک مل گیا ۔ لوگ لائن میں لگے اخبار پڑھ رہے تھے ۔ کچھ ادھر ادھر سے بھی آکر کاؤنٹر سے چپک جاتے تھے اور حیرت یہ تھی کہ سامنے والا خاموشی سے اخبار پڑھ کر اپنے صبر کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔گویا کہ جاپانی بڑے صابر ہوتے ہیں ۔ ہوتے ہوں گے ، سچ پوچھو تو اصل صبر میں کررہا تھا کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی مسکرارہا تھا ‘ کیوں کہ اہلِ جاپان پر اپنا پہلا امپریشن میں خراب کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ ایک بات پر اور کوفت ہورہی تھی کہ کاؤنٹر پر بیٹھی دوشیزہ کرنسی کے تبادلے کا حساب کیلکولیٹر کی جگہ ایک لکڑی کے فریم میں لگے چھوٹے چھوٹے دانے پر کررہی تھی ! جی ہاں وہی فریم یا چوکھٹا جسے ہمارے یہاں چینی بچے اسکول لے جاتے نظر آتے ہیں ۔ حد ہوگئی ، ساری دنیا کو الیکٹرانک گیجٹ اورکیلکو لیٹر فراہم کرنے والی قوم خود روایتی حساب کتاب میں مست ہے ۔ یعنی ہماری عادتیں بگاڑ کر خود الگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جاپانی اپنی قدیم روایت کو اب تک سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اس قبول صورت و سیرت دوشیزہ نے مسکراتے ہوئے موشی موشی کہا ۔ جاپانی کا یہ واحد لفظ تھا جسے میں جانتا تھا ، باقی کام کی باتیں آج سے سیکھنا تھیں ! میں نے بھی بڑے جاپانی انداز میں موشی موشی یعنی ہیلو کہتے ہوئے امریکن ایکسپریس کے آٹھ سو ڈالر والے ٹراویلرس چیک بڑھادیئے ۔ اس نے جیسے ہی چینی چوکھٹا اٹھایا میں نے فوراً روکا اور انگلش میں پوچھا ’’ بی بی ! اس قدیم جمع اور ضرب کے مشکل کشا کو آپ کی شیریں زبان میں کیا کہتے ہیں بھلا ؟ پہلے تو وہ اس بے جا باز پُرس پر چونکی پھر معاملے کو سمجھتے ہوئے بصد خلوص بتایا ۔’’ سور بان ‘‘ میں بھی بصد احترام جاپانی آداب بجالا نا چاہتا تھا کہ اس نے ایک فارم پُر کرنے کو بڑھادیا ۔
جب تک میں فارم پُر کرتا رہا ، وہ اس چینی کیلکو لیٹر پر حساب کرتی رہی ۔ پھر مجھ سے چیکس پر سائن کرایا ۔ اس کے بعد چند بہت بڑے نوٹ ساتھ کچھ چھوٹے اور مٹھی بھری ریزگاری ایک چھوٹی سی بید والی ٹوکری میں رکھ کر میرے آگے بڑھایا اور لگی مسکان بکھیرنے ، جب میں ٹوکری خالی کرچکا تو اس نے ایک رسید بڑھاتے ہوئے آخری دستخط کی گذارش کی ، میں نے سائن کرکے رسید کی نقل اسے واپس لوٹا دی ۔ اس نے کچھ کہا جس کا مطلب شکریہ کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا ۔ نوٹ بٹورتے ہوئے رسید پر نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ ہاتھ میں دس ہزار کے دس بڑے نوٹ یعنی ایک لاکھ اور کچھ سو روپے کے نوٹ اور ڈھیر ساری ریزگاری تھی ۔ پہلے یقین نہ آیا پھر ایکسچینج ریٹ دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ حساب چینی کیلکو لیٹر واقعی بالکل درست کرتے ہیں ۔ فوراً ذہن میں ایک کوندا سا لپکا کہ حضرتِ دانش آخر تم لکھ پتی بن ہی گئے ۔ اب دیکھیں ایک لاکھ اور کچھ ین کیا گل کھلاتے ہیں ۔ گوپیسے کو میں نے عام لوگوں کی طرح کبھی ہاتھ کا میل نہ سمجھا ،یہ اور بات ہے کہ پیسہ مجھے میلا کچیلا سمجھ کر ہمیشہ مجھ سے دور بھاگتا رہا ہے ۔ پھر بھی طرفین کو ایک دوسرے سے کوئی گلہ نہیں ۔ ہم اپنی قلندری اور آوارگی میں مست ہیں ، پیسہ بینک میں خوش اور محفوظ ____سنتے ہیں لکھ پتی بن جانے پر ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے ، مگر اس عجیب و غریب کیفیت کا صحیح اندازہ نہیں ہورہا تھا ۔ ہوسکتا ہے لاکھ ین کی گرمی کو موسم کی سرد ہوا نے ٹھنڈا کر رکھا ہو اور اس کے وزن کا اندازہ میرے بیگ سوٹ کیس نہیں ہونے دے رہے تھے ۔ ہاں ! جیب میں جھولتی ریزگاری سے یہ بات صاف تھی کہ اس ملک میں خوش حالی کی طرح ریزگاری کی بھی کمی نہیں ہے ۔ ہمارے وطن کی طرح نہیں کہ خوش حالی کی طرح ریزگاری بھی عنقا ہے ! میں نے بیگیج اسٹوریج کا معلوم کیا اور سفری معمول کے مطابق بڑاسوٹ کیس وہاں جمع کرنے پہنچا ۔ دو جاپانی نوجوانوں نے بغیر مسکرائے میرا استقبال کیا اور بڑے مشینی انداز میں ۰۰۳ ین ____ روزانہ کی فیس بتادی ۔ میرا پروگرام کم از کم ہفتے بھر کا تھا ۔ جو بڑھ بھی سکتا تھا ۔ ۰۰۱۲ین دیتے ہوئے مجھے لگا چارج کچھ زیادہ ہے ، ارے تمام ایئر پورٹ مہنگے ہوتے ہیں یار ____اب اتنا سوچنا کیا!
ٹورسٹ انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھی دوشیزہ اپنا میک اپ ری ٹچ کررہی تھی ، ساتھ والی محترمہ ایک چھوٹے سے کیلکو لیٹر سے کھیل رہی تھیں ۔ غور سے دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ یہ میک اپ گائیڈ کمپیوٹر ہے یعنی اس میں اگر کوئی حور بانو اپنی جلد کی ٹائپ اور رنگ فیڈ کر دے تو یہ آفت گائیڈ بتائے گا کہ کون سا رنگ یا غازہ اس کے چہرے کو مزید پُر کشش اور قدرتی بنائے گا ۔ اچھا ، جہاں ضرورت ہے ’’ یعنی حساب میں ‘‘ انگلیوں کا استعمال ہورہا ہے اور جہاں ضرورت نہیں وہاں برقی میک اپ گائیڈ استعمال کی جارہی ہے ‘مجھے اس سے کیا ، ہر ترقی یافتہ قوم کی اپنے طرز کی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ خبر دار جو کسی کی ذاتیات میں تاک جھانک کی ۔ مجھے میک اپ میں الجھا دیکھ کر بچیاں قدرتی طور پر مسکرائیں اور انگلش میں پوچھا ، میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں ؟ میں نے ایک پرچی ان کے آگے بڑھادی اور بتایا مجھے اس پتے پر جانا ہے ۔ انھوں نے ٹوکیو کا نقشہ نکال کر میرے آگے پھیلا دیا اور بتایا ’’ یہاں آپ کھڑے ہیں ، داہنے ہاتھ پر باہر شٹل والی بس کھڑی ہے ‘ یہ آپ کو سٹی ریلوے اسٹیشن لے جائے گی ۔ وہاں سے آپ ٹرین لے کر نی پوری اتر جائیں اور وہاں سے ایک اور ٹرین آپ کو ہیگاشی جو ُ جو ُ لے جائے گی، باہر نکل کر ٹیکسی لے لیں ‘ بس! میں نے شکریہ اداکیا اور چلتے چلتے پوچھا کہ اس بس ، ٹرین اور ٹیکسی کا کرایہ تقریباً کیا ہوگا اور دیر کتنی لگے گی ۔ محترمہ نے دوبارہ کسی چارٹ پر دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے کہا یہی کوئی ڈھائی تین ہزار ین اس کے بعد لڑکی نے کیا کچھ کہا مجھے سنائی نہیں دیا مگر یہ اندازہ ہوگیا کہ یہ لکھ پتی والا ٹائٹل چند دنوں کا مہمان ہے ۔ ابھی میں ایئر پورٹ سے باہر نہیں آیاتھا اور پانچ ہزار ین ہنسی خوشی خرچ کر چکا تھا ۔ سنا تھا ٹوکیو بہت مہنگا شہر ہے مگر اب یقین ہو چلا ہے کہ یہ دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے ۔
کے سی اسٹیشن پر اسکائی لائن ایکسپریس بہت خوبصورت اور صاف ستھری لگی ۔ پلین کی طرح کشادہ اور آرام دہ نشستیں ، سرخ قالین ، ایئر کنڈیشنڈ ، زیادہ تر مسافر جاپانی ، تھوڑے امریکن ، اپنے طرز کا میں فردِ واحد ۔ جب باہر کے نظارے سے فرصت ملی تو میں نے ڈبے کا معائنہ کرنا شروع کیا ۔ میرے سامنے چند جاپانی مرد اور عورتیں منہ پر سفید نقاب لگائے بیٹھے تھے ، جیسے ہمارے یہاں جین مذہب کے ماننے والے لگائے رکھتے ہیں ۔ یہ بدھ مت کے بعدجین مذہب یہاں کب آپہنچا ____ مگر جلد مجھے اندازہ ہوا کہ بہت سارے لوگ ایسے نقاب میں تھے ۔ پتہ چلا سردی سے بچنے کے لیے اس کا استعمال عام ہے ۔
سُپر ایکسپریس ایئر لائنز نے ڈیڑھ گھنٹے میں ’’ نی پوری ‘‘ پہنچادیا ۔ وہاں سے جے آر لائن کی ٹرین لے کر کوئی پندرہ منٹ میں ہیگا شی جو ُ جو ُ پہنچا۔ باہر نکلتے ہی ٹیکسی مل گئی ۔ ڈرائیور انگلش نہیں جانتا تھا ۔ میں نے دوبارہ اپنے ٹھکانے کی پرچی دکھائی ۔ میٹر ڈاؤن ہوتے ہی ۰۷۴ین مجھے منہ چڑا رہے تھے ۔ ہمیں چلے پانچ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک چوراہے پر ٹیکسی پولیس والے کے سامنے رکی ۔ ڈرائیور نے مجھے گاڑی میں چھوڑا اور خود اتر کر پولیس والے سے کچھ بات کرنے لگا ۔ یہ سب اچانک ہوا ۔ میں گھبرایا کہ کس مصیبت میں گرفتار ہونے والا ہوں ۔ دو منٹ بعد پولیس اپنی چوکی سے ایک ڈائری لیے میری طرف آتا دکھائی دیا ۔ ہیلو کہتے ہوئے اس نے کہا معاف کیجیے ڈرائیور کو انگلش نہیں آتی ۔ سیدھے جاکر بائیں ہاتھ والی گلی مڑ جائیں ۔ تین مکان کے بعد والا مکان آپ کا پتہ ہے ۔ آپ خود نمبر دیکھ کر گاڑی رکوالیں ۔ میں نے شکریہ ادا کیا کہ یہاں پولیس والے بڑے شریف ہوتے ہیں ۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم ایکومینشن کے سامنے کھڑے تھے ۔ ۰۰۷ین کا بل ادا کر کے میں بلڈنگ کا سرا ڈھونڈنے لگا ۔ ایک گھومتی ہوئی سیڑھی بلڈنگ کی پسلی سے اوپر جارہی تھی ۔ مجھے پانچویں منزل پر جانا تھا ۔ اس وقت ٹورانٹو کے لفٹ یاد آرہے تھے ۔ ایک تو سفر کی تھکن ، ین کی آئس کریم کا بڑی تیزی سے گھلنا اور پانچویں منزل ؟
کال بیل پر انور صاحب نے دروازہ کھولا اور لپک کر بڑی گرم جوشی سے بغل گیر ہوئے اور پھر پانچ منٹ تک ایئر پورٹ نہ پہنچنے کا کفارہ ادا کرتے رہے ۔ دراصل ان کی دوپہر کی کلاس تھی اور وہ فرصت نہیں نکال پائے تھے ۔ میں نے بات رکھنے کے لیے (اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں سے واپس لیا جو وہ مصافحے کے بعد چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھے ) کہا ، میاں میں صحیح سالم پہنچ گیا ، بس اب گرم گرم چائے ہوجائے ۔ انور میاں دوبارہ چہکے ’’ مجھے یقین تھا کہ آپ پتہ ڈھونڈ نکالیں گے ، آخر آپ جہاں گرد ٹھہرے ! اس توصیفی کا منٹ پر میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔ فلیٹ دو کمروں کا سادہ بلکہ بے حد سادہ اور صاف ستھرا تھا ۔ فرش پر اصلی تنکوں والی چٹائی بچھی نہیں بلکہ چپکی تھی ، یعنی ہمیشہ کے لیے بچھادی گئی تھی ۔ ڈنر ٹیبل قدرے نیچے جس کے گرد کرسیوں کے بجائے چٹائی پر بیٹھ کر کھانا کھانے کا اہتمام تھا ‘اصلی چٹائی اور بغیر کرسی کی ٹیبل اور فرشی اہتمام تک میرا کلکتے والا فلیٹ بالکل جاپانی تھا ۔ اس کا احساس ہمیں پہلے نہ تھا ۔ ہم لوگ خواہ مخواہ نیچے بیٹھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کوئی جاپان آکر دیکھے نیچے بیٹھنے میں کیسا سرور اور آنند ملتا ہے ۔ دیوار پر ایک جاپانی لینڈاسکیپ والا کلینڈر اور ایک بڑا روح افز ا پوسٹر امریکن سنگر ’ ماڈونا ‘ کا لگاتھا ۔ میں نے بیٹھتے ہوئے آواز لگائی ’’ تو ماڈونا آجکل آپ کی منظورِ نظر ہے ۔‘‘ کچن سے انورکے ہنسنے کی آواز آئی ، صرف میری نہیں بلکہ سارے جاپانی نوجوانوں کی ‘ماڈونا اور مائیکل جیکسن کے لیے طلبا پاگل ہیں ۔ چائے کی ٹرے سنبھالے انور آئے اور میز پر رکھ دی ، پھر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کلکتہ اور دیگر دوستوں کی خیریت پوچھی ‘ سب ٹھیک ہے ۔ ارے ہاں تمہاری چٹائی اور پوسٹر میں ایسا الجھا کہ تمھارے خطوط نکالنا ہی بھول گیا ۔ انور نے کہا یہی یہاں کا اسٹائل ہے ۔ جاپانی ہوتے تو بڑے ماڈرن اور رنگین مزاج ہیں مگر ان کا طرزِ رہائش بہت سادہ ہوتا ہے مگر راستے میں بڑے خوبصورت مکان اور کاٹج میںدیکھتا آرہا ہوں ۔ ہاں خوبصورت تو یہ ضرور ہوتے ہیں مگر صرف مکان کا صدر دروازہ اور آنگن جس میں پیڑپودے ، پھولوں سے لدی کیاریاں ،چھوٹا سا مصنوعی جھرنا اور چھوٹا سا تالاب جس میںتیرتی رنگ برنگی گولڈ فش ‘مگر اندر کا ماحول بہت سادہ ، پھر زیادہ تر لوگ زمین پر ہی سوتے ہیں اور آج آپ کو بھی فرش پر ہی آرام کرنا ہوگا اور ہم دونوں ہنس پڑے ‘میاں ! میں نے اتنا سفر کیا ہے کہ اب پلنگ اور بستر دونوں کی قید سے آزاد ہوں اور پھر آج تم سونے کی بات کیسے کرنے لگے ۔ آج تو شب بیداری ہوگی ۔ کچھ ٹورانٹو کی سنو ، کچھ ٹوکیو کی بتاؤ بھائی ‘میں نے اپنا بیگ کھول کرچند خطوط انور کو بڑھادیئے ، ساتھ ہی گنگو رام کے رس گلوں کا ڈبہ! اوہ شکریہ‘ انور کا چہرہ رس گلے دیکھ کر تمتما اٹھا ۔ وطن سے دور لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کس قدر خوش ہوجاتے ہیں ۔ انور نے جوش میں کہا ’’ بھائی اس ڈبے میں مٹھائی نہیں وطن کی شیریں یادیں بند ہیں ‘بھئی اور بھی بہت کچھ لاسکتا تھا مگر راستے میں رکتا ہوا آیا ہوں ، ویسے مجھے امید نہ تھی کہ تم سے ملاقات ہوگی ۔
انور میرے کلکتہ کے نوٹنکی گروپ کے ساتھی خورشید کے دوست جاوید صاحب کے سالارِ جنگ تھے ۔ کلکتے سے رخصت ہوتے وقت خورشید نے انور کا فون نمبر دیا تھا ۔ میں نے معاملہ کنفرم کرنے کی غر ض سے ہانک کانگ سے بے شمار فون کیے مگر ہر دفعہ انور کے روم میٹ آزاد صاحب سے بات ہوتی ۔ میرے پہنچنے کی خبر ان لوگوں کو ہوگئی تھی مگر میں خود انور سے ایک بار بات کرنا چاہتا تھا ۔ اس شش و پنج میں ہانک کانگ سے صرف ۰۰۵؍ ڈالر خرچ ہوچکے تھے ۔ آخیر دن میں نے رات گئے فون کیا اور انور میاں سے بات ہوئی ۔ انھوں نے ایئر پورٹ نہ پہنچنے کی مجبوری بتائی مگر راستہ سمجھا دیا اور خوش آمدید کہا ! باتوںہی سے مجھے انور ملنسار نوجوان لگا ۔ ملنے پر اس کی خوش مزاجی بھی سامنے آئی ۔ ہم لوگ اس ملاقات سے خوش تھے ۔
ایک تو انور میاں کی طبیعت اچھی ، دوسرے ان کے بہنوئی کا حسنِ اتفاق سے میرا ہم نام ہونا (صرف جاوید کی حد تک ) یعنی نام اور رشتے کی نزاکت نے مہمان نوازی میںچار نہیں بلکہ کئی چاند لگادیئے تھے ۔ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ ہم لوگ پہلی بار ملے ہیں ۔ انور اپنے خطوط ختم کر کے اٹھے اور چائے سے کپ دوبارہ بھرنے لگے ۔ اہلِ کلکتہ کی طرح جاپانی بھی چائے بہت پیتے ہیں مگر یہ دیسی نہیں ، ان کی چائے کھوچا کہلاتی ہے ، کل آپ کو پلاؤں گا ، انور نے کہا ۔ اتنے میں آزاد صاحب آگئے ، ان سے بھی تعارف ہوا ، بات تو کئی بار فون پر ہوچکی تھی ، انور کے کہنے پر آزا د صاحب کچھ شاپنگ کرنے چلے گئے !



انور نے بتایا کہ آزاد بھائی میری طرح اسٹوڈنٹ ہیں اور ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے ۔ ہم دونوں جاپانی زبان کا ڈپلوما کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد میرا پروگرام آٹو موبائیل انجینئرنگ کرنے کا ہے ۔ ہم لوگ پارٹ ٹائم جاب بھی کر رہے ہیں کیوں کہ ٹوکیو کی مہنگائی کا آپ اندازہ نہیں کرسکتے ۔ ‘‘ میں نے فوراً لقمہ دیا ،نہیں مجھے اس مہنگائی کا خوب اندازہ ہوچکا ہے __ انور نے ہنستے ہوئے کہا ’’حضور ابھی تو آپ آئے ہیں ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا !میں نے کہا کہ مہنگائی تو بے پناہ ہے مگر لوگ اچھے لگتے ہیں ۔ میں نے پولیس والا واقعہ سنایا ۔ پتہ چلا ایسی پولیس چوکی ہر چوراہے پر موجود ہے اور یہ لوگ بڑی خندہ پیشانی سے راہنمائی کرتے ہیں ۔ میں نے کہا لگتا ہے یہاں جرائم کم ہیں اور پولیس والے کارِ خیر میں لگادیئے گئے ہیں ۔ انور بولے ، ہاں کلکتہ اور نیو یارک کی طرح نہیں مگر انڈر ورلڈ والے کسی بڑے شہر سے کم نہیں ، مگر عام پبلک امن پسند اور ایماندار ہے ۔
آزاد صاحب لدے پھندے شاپنگ کر کے لوٹے ۔ انور نے کہا بھائی آپ فریش ہوجائیں ، جب تک ہم کچھ کھانا تیار کرلیں ۔ میں نے کپڑے اٹھائے اور باتھ روم میں گھس گیا ۔ مجھے ہانگ کانگ کے چُن کنگ مینشن والے باتھ روم یاد آگئے ۔ جاپانی باتھ روم سائز میں اتنا سا ہی بڑا تھا مگر صاف ستھرا ،گرم اور ٹھنڈے نل کے علاوہ ایک اسٹیل کا چوکور ٹنکی نما ٹب بھی تھا ۔ میں نے لٹیا ڈبو ڈبو کر دیسی اسٹائل میں خوب نہایا اور لباس تبدیل کر کے باہر آگیا !ارے ! بہت جلد فارغ ہوگئے ۔ آپ نے شاید ہاٹ ٹب کا استعمال نہیں کیا ، انور نے پوچھا ! اچھا آپ اسے ہاٹ ٹب کہتے ہیں اور استعمال سے کیا مرادہے ، نہاتو لیا بھائی ۔ انور میاں مسکرائے __ نہانے کے بعد اس ٹب میں اتر کر بیٹھتے ہیں بڑا آرام ملتا ہے __ مگر اس میں بیٹھتے کیوں کر ہو ! میں چھ فٹا انسان اس میں سماتا کیسے بھائی ۔ جاوید بھائی ! جاپانی لوگ اسی طرح نہاتے ہیں اور یہ ٹب ان کے قد کے مطابق ٹھیک بھی ہے __ میرے مسکرانے کی باری تھی ۔ جی ہاں ، اسی لیے اکثر جاپانی شرٹ کی آستین مجھے چھوٹی پڑجاتی ہے اور میں اکسٹرا لارج خریدتا ہوں __ اچھا آپ لوگ اب آجائیں ، کھانا تیار ہے ۔ آزاد صاحب نے آواز لگائی !
ہم لوگ اپنی باتیں چھوڑ کر کھانے کی میز کے گرد جمع ہوگئے ۔ ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ میز ہلنے لگی ۔ مجھے لگا کہ میرا جیٹ لیگ ہے اسی لیے چیزیں ڈولتی لگ رہی ہیں __ دوسرا نوالہ اٹھارہا تھا کہ سالن کا پیالہ چھلک پڑا ۔ اب تک انور خاموش تھے مگر آزاد صاحب کے لب ہل رہے تھے ۔ پہلے میں سمجھا کہ بھائی نیک مسلمان ہے ، کھانے سے پہلے کی دعا پڑھ رہا ہے ۔ مگر اب دعا کی جگہ آزاد صاحب تھوڑی اونچی آواز میں کسی کلمہ کا ورد کرنے لگے ۔ پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا کیوں کہ قرأت کا لہجہ بنگلہ دیشی تھا اور مصیبت میں ہر عقل مند آدمی اپنی مادری بھاشا کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ انور میاں بڑے تسلی دینے والے انداز میں مسکرائے اور بولے زلزلہ ہے ! کیا __ نوالہ میرے حلق میں پھنستا ہوا محسوس ہوا ۔ حیرت بھی ہوئی کہ یہ لوگ بیٹھے کیوں کر ہیں اور باہر بھی شور شرابا نہیں __ کمرے میں مکمل سناٹا تھا ، تھوڑے تھوڑے وقفے سے دیوار پر کلینڈر کھڑکھڑانے اور دریچے کے شیشے بجنے کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ یہ وحشت کوئی ایک منٹ جاری رہی ، پھر سب معمول پر تھا ۔ انور بڑی دیر کے بعد بولے ، یہ تو اکثر ہوتا رہتا ہے ، مگر آ ج آپ کے آنے کی خوشی میں زمین کچھ زیادہ جھوم اٹھی ۔ سب ہنس کر اپنے خوف کو چھپانے لگے ۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، جاپانی ایسا مکان بناتے ہیں کہ زلزلے کے جھٹکے سے کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ لکڑی کے یہ مکان لوہے کے فریم پر کھڑے ہیں ۔ بہت کم ایسا ہوا کہ زلزلے سے شدید نقصان ہوا ہو ۔ میںنے پوچھا سال میںکتنی بار آزادبھائی کلمہ دہراتے ہیں ۔ انور نے کہا جناب ہفتے میں کم از کم ایک بار اور مہینے کے دو جھٹکے تو کہیں نہیں گئے ۔ مگر آج معاملہ کچھ زیادہ ہی تھا ۔
میں نے اپنے ہوش میں پہلی بار ایسا تجربہ حاصل کیا تھا ۔ زمین کا لرزنا اور درو دیوار کا کانپنا پھر تمام تر تسلی کے باجوود میزبان کا رنگ اڑا اڑا سا تھا ۔ ایسا ہی ایک واقعہ کلکتے والا مجھے یاد آگیا ۔ میں کوئی ۸؍ سال کا تھا ۔ رات گئے اچانک چیخ و پکار سے سب کی آنکھیں کھل گئیں ، میری والدہ نے لپک کر مجھے اپنے کلیجے سے چمٹایا ہوا تھا ۔ باہر عورتیں چیخ رہی تھیں ، کچھ مرد مومن زور زور سے اذان دے رہے تھے ۔ پہلے ہم لوگ سمجھے کہ کوئی فساد ہوا کیوں کہ ان دنوں رائٹ کا دور تھا __ عجیب افراتفری مچی تھی ۔ پتہ چلا کہ زلزلہ ہے ۔ مجھے اندازہ نہ ہوا کہ زلزلہ کیسا ہوتا ہے کیوں کہ زمین سے زیادہ میری اماں کانپ رہی تھیں ۔ آج اندازہ ہوا کہ زمین کیسے لرزتی ہے !
اس دوران ہم لوگ اپنے اپنے خیالوں میں گم خاموشی سے کھاتے رہے ۔ ڈنر کے بعد کافی کا دور چلا ۔ آزاد صاحب نے موضوع بدلنے کے لیے فلم ’’ نام ‘‘ لگادی ۔ فلم کے ساتھ ہم لوگ باتیں بھی کرتے جارہے تھے ۔ پتہ چلا آزاد صاحب آٹھ سالوں سے مختلف ممالک کی سختیاں جھیل کر جاپان آئے ہیں ، مگر بنیادی طور پر خوش نہیں ۔ سسٹم کی خامیاں ، تعصب اور مہنگائی – وہ کہیں اور جاناچاہتے تھے ۔ میں نے بتایا کہ یہ چھوٹی چھوٹی خامیاں اور تکالیف تو ہر ملک میں موجود ہیں ۔ آپ یہ دیکھیں آپ چاہتے کیا ہیں ۔ رہی تعصب کی بات تووہ تھوڑا بہت شمالی امریکہ میں بھی موجود ہے ۔ مگر ہم لوگ خود کو مین اسٹریم سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اس سے اس کا احساس کم ہوجاتا ہے ۔ پھر کیا تعصب اور مصیبتیں اپنے وطن میں نہیں ۔ مجھے اپنے ’’ اردو انٹر نیشنل ‘‘ والے دوست اشفاق حسین کا شعر یاد آگیا :
ہم اجنبی ہیں یہاں پر مگر وطن سے کم
دھواں دھواں سا ہے منظر مگر وطن سے کم
اور اگر اتنے حساس ہیں تو معاف کیجیے اپنا محلہ نہ چھوڑناتھا آپ کو ! بھائی کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ تو قربان کرنا پڑتا ہی ہے ۔ اسی دوران فلم کا ایک گیت کم بخت ماحول کو اور بوجھل کرگیا ۔’’چٹھی آئی ہے …‘‘گیت بے شک اچھا تھا مگر بہت میلو ڈرامیٹک تھا ۔ زلزلے کا لرزہ اور گیت کا درد لیے محفل برخواست ہوئی __ دوسری صبح ۷ بجے آزاد کو کام پر جانا تھا __ تھکا ہوا تھا اس لیے امید کے خلاف جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ پتہ نہیں کب تک میاں انور اور آزاد صاحبان وطن کی مٹی کو یاد کرتے رہے __ !


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close