خاکہ ۔۔۔ اوکھا منڈا ۔۔۔۔۔ منیرنیازی

ممتاز رفیق

    وہ ایک شہرِ طلسم تھا۔ جس میں  شاہ زادے نے، اپنے افسوں  سے، ایک عمارتِ عالی شان قائم کر رکھی تھی۔ اِس عمارت کا مکیں،  رہتے ہوئے، خود شاہ زادہ، ایک اساطیری حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ شہر میں  اُس کے حوالے سے، عجب ناگوار کہانیاں  گردش کرنے لگی تھیں۔ کوئی کہتا، وہ خود پسندی کے روگ میں  مبتلا ہے، تو کوئی گمان کرتا کہ وہ خوف زدہ ہے۔ تو کوئی گرہ لگاتا کہ وہ اپنے ماضی میں  دفن ہے، اور کوئی، دور کی کوڑی لاتا اور حکم لگاتا کہ وہ دنیائے خیال کا باشندہ ہے۔ حالانکہ اِن تمام افواہوں  میں  کوئی سچائی نہ تھی۔ بات محض اتنی تھی کہ شاہ زادہ، حسن کا شیدائی تھا اور ایسی خوبصورت دنیا میں  زندگی گزارنے کا تمنائی، جیسے خود اُس کے خواب و خیال مجسم ہو گئے ہوں،  اور یہ دنیا جس میں  وہ زندگی کرنے پر مجبور تھا، اُس میں  بدصورتی اور بد ہئیتی، اس کے چاروں  اور، رقصاں  تھی۔ شاہ زادے کے لیے یہ ایک نوع کی سزا تھی، جسے اُسے جھیلنا ہی تھا۔ اپنی اِس بپتا کو سہل کرنے کیلیے، اُس نے آئینہ اختیار کیا، اور اپنے عشق میں  مبتلا ہو کر، زندگی کی ڈور کاٹنے لگا۔

    اِس مردِ خدا کی، شاہ زادگی کا معاملہ بھی عجب تھا۔ دراصل، اُسے اپنا شمار، اُس خلقتِ عام میں  ہونا، ہرگز گوارہ نہ تھا، جو اُس کے اردگرد کی فضا کو، اپنے تنفس کی بُو سے، مکدّر کیے ہوئے تھی، لیکن اِس ماحول سے چھٹکارہ تو اِسی صورت میں  ممکن تھا، اگر وہ اِن عامیوں  سے دور، کسی بلند سنگھاسن پر، براجمان ہوتا۔ اِس شخص کی وجاہت، متاثر کن ڈیل ڈول اور شخصیت سے اظہار پاتے وقار نے مل جل کے، اُسے تیقّن کی اُس منزل پر پہنچا دیا۔ جہاں  آدمی بلا جھجک، کوئی بھی فیصلہ صادر کر گزرتا ہے۔ سُو، منیر نیازی نے، شہزادگی اختیار کی اور کسی شاہ زادے کے سے طور و اطوار اختیار کر کے، اپنے گرد خوش بو کا حصار قائم کرنے کے جتن کرنے لگا۔ اِس کوشش میں  اُس کی یادداشت سے، وہ چھوٹی سی لائبریری بھی محو ہو گئی۔ جو اُس نے کسبِ معاش کے لئے، منٹگمری شہر کی ایک تنگ گلی کی، مختصر سی دکان میں،  کبھی قائم تھی۔

    منیر نیازی نے، اپنے تئیں  تو ایک نیا شخصی جاہ و جلال اختیار کر لیا تھا، لیکن اِس میں  مسئلہ یہ تھا، کہ حیثیت کی تبدیلی، ہمیشہ سے دو طرفہ قبولیت کی متقاضی رہی ہے۔ جب کے یہاں  تو، ایک ہمارا شہزادہ ہی، اپنی بات منوانے پر تُلا ہوا تھا۔ منیر نیازی کے اِس اصرار کے خلاف ایک خاموش ناپسندیدگی فضا میں  ڈولنے لگی۔ جس نے شدّت اختیار کر کے، آخرِ کار انکار کا روپ دھار لیا۔ آدمی کا تنہا رہ جانا، اُس کے دن ہی بے رنگ نہیں  کرتا، اُس کی راتیں  بھی درہم برہم کر دیتا ہے، اور اگر سکون نہ ہو، تو نیند کہاں ؟ اور جب نیند کی دیوی بھٹک جائے،تو خواب بھی رستا بھول جاتے ہیں،  اور ہمارے شاہ زادے کا کل اثاثہ تو بس، خواب ہی تھے۔ اُس نے جیسے تیسے، یہ کڑا وقت کاٹا اور آخر ناچار ہو کے، اُس طلسم کو کام میں  لایا، جو اُس کی تنہائیوں  نے اُسے تعلیم کیا تھا۔ یہ جو قصرِ با کمال ہم دیکھتے ہیں ۔ یہ اُن ہی اسماء ہوش رُبا کا ثمر ہے۔ اِس پُر شکوہ عمارت کا نظارہ، آپ پر ایک قسم کی ہیبت طاری کر دیتا ہے۔ اِس کے کشادہ اور بلند و بالا منقّش دروازے پر دستک دینے سے قبل، آپ کو بہت سا وقت، اپنے حواس و ہمّت اور ارادوں  کو مجتمع کرنے میں  صرف کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو کھٹکا رہتا ہے کہ کہیں،  آپ کی نا وقت کی یہ در اندازی، ہواؤں  سے برسر پیکار شاہ زادے کے اشتعال میں  شدّت کا باعث نہ بن جائے اور ناگاہ آپ پر، بھتنے، بد روح یا مکروہ مخلوق ہونے کا گمان نہ کر لیا جائے۔ خواب نگر کا شاہ زادہ منیر نیازی، اپنی اقلیم میں،  کسی ناپسندیدہ انسان، منظر، پیڑ، پرند یا پگڈنڈی تک کو جگہ دینے کا روادار نہیں  تھا۔ اگر اُسے کسی چیز میں  من چاہی خو ش نمائی نظر نہ آئے تو یا تو، اُسے حقارت سے رد کر دیتا ہے، یا خیال کی رنگ برنگی پنّیاں  چپکا کے اُنھیں  اپنے لیے قابلِ برداشت بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اگر یہ ممکن نہ ہوتا، تو ایک چھوٹا سا خواب تشکیل کر کے اُس کی جگہ لا رکھتا ہے۔ اِس عمارت کی تیاری میں  اُس نے اپنی کتنی ہی راتیں  اور دن سیاہ کر ڈالے۔ اب یہی اُس کی پناہ گاہ تھی۔ جہاں  وہ دنیا جہاں  کی بدصورتی سے منہ موڑے خود اپنی نظارگی میں  گم رہا کرتا، جب اِس مشغلے سے جی سَیر ہو جاتا، تو دنیائے خیال سے کسی کو طلب کر کے، کسی عَالمِ نو ایجاد کا قصّہ لے بیٹھتا اور اگر یہ نہیں  تو اپنے کسی دور پار کے دشمن پر کونے میں  آدم قد آئینے نصب تھے، جنھیں  کچھ اِس ترکیب سے آویزاں  کیا گیا تھا کہ وہ محض،  حسن کو منعکس کیا کرتے۔ یہ عمارت دراصل منیر نیازی کے خوابوں  کا جنگل تھا۔ جس میں  ہر طرف دھنک ایسی رنگا رنگی تھی اور یہ آئینے وہ راتیں ، جن میں  اُس کے خواب نمود پاتے۔ اِس جنگل میں  ایسا لگتا تھا،  جیسے بہار نے دوام حاصل کر لیا ہو۔ یہاں  کے چرند پرند کی خوش رنگی اور آوازیں،  حسن اور نغمے تخلیق کیا کرتے، اور پائیں  باغ کی مہک، منیر نیازی کے مشامِ جاں  کو معطر رکھتی۔ اُس باغ کی ہفت رنگ بیلوں  سے لٹکتے انگوروں  کے خوشے، کہ جن کا ہر دانہ، جیسے آبِ آسودہ کا ایک جام جہاں  خیز تھا۔جنھیں  محض آنکھوں  میں  بسا کے ہی ہمارے شاہ زادے کے قدم لڑکھڑانے لگتے اور آنکھوں  میں  گلابی اُتر آتی، اور عمارت کے اَن گنت کمرے، جن کے شمار کرنے میں  آدمی کو ہندسے کی عاجزی باور آئے، اور کہ جن میں  سے ہر ایک کی سجاوٹ دل فریب اور منفرد، اور اِس سامانِ آرام و عیش میں  حسن و نزاکت کا مرقّع دوشیزۂ فتنہ خیز، جس کی محض ایک جھلک،  آدمی کو دیوانہ بنا دے اور لطف یہ کے ہر کمرے میں  ایک سے بڑھ کے ایک پُر کشش اور دل آرام اور جاں  سوز حسینائیں،  اپنی اپنی آگ میں  دھکی ہوئیں ، کہ انھیں  شاہ زادے کی قربت فراغت سے نصیب نہیں ۔ یہاں  تو وہی، ایک انار سو بیمار کا معاملہ ہے، اگر وہ اُن میں  سے کسی ایک سے ملاقات کی فرصت پاتا بھی ہے تو بس گھڑی بھر کی، اور یہ لمحۂ اختلاط اُس دکھیاری کے آتشِ شوق کو اور سوا کر جاتا ہے۔ اِدھر منیر نیازی ہے کہ اپنے لفظ و خیال کا پٹارا حواس پر بار کیے۔ اپنی زندگی کی تلخیوں  اور ناکامیوں  اور نا آسودگیوں  سے آنکھیں  چُرائے،  رستا بتانے والے ستارے کی رہ نمائی میں،  ماہِ منیر کا تصور کیے سفر کی رات کاٹتا جاتا ہے۔ وہ خوب آگاہ ہے کہ کچھ کوس پرے اُس بے وفا کا شہر ہے جو اُس کی راہ کی دیوار بنے گا۔



    لیکن یوں  آنکھیں  چرا لینے سے حقیقت کہاں  بدلتی ہے۔ ہر یکم کو ایک منحوس دستک اُس کے تمام کئے دھرے پر پانی پھیر دیتی ہے، اور اُسے کچھ نہیں  سوجھتا کہ اِس بار کچھ دن کی مہلت کے لیے مالکِ مکان کو کیوں  کر آمادہ کیا جائے۔ منیر نیازی، مشاعروں  میں  خواہ کتنا ہی تہلکہ مچاتا ہو۔ ادب دوست اُس کے اشعار پر کتنا ہی سرکیوں  نہ دھُنتے ہوں۔ مگر علاج کی غرض سے معالج تک پہنچنے کے لیے تو جیب کا بھاری ہونا از بس ضروری ہوتا ہے اور مشاعرے بازی سے کس شاعر نے اتنی چاندی کمائی، کہ اُسے اتنی فراغت نصیب ہو کہ اُس کا چولہا بھی روشن رہے اور اُس کے وابستگان کی دوا دارو بھی سہولت سے چلتی رہے اور وہ ملبوساتی معاملات و مشکلات سے بھی چنداں  پریشاں  نہ ہوتا ہو اور اس کی نسلِ آئندہ آبرو مندی سے، علم سے بھی آراستہ ہو رہی ہو۔یہ تو وہ چند ضرورتیں  ہیں، جن سے آدمی کا ہر پَل کا واسطہ ہے۔

    اور منیر نیازی جیسا خواب زدہ! اُس کے مطالبات تو اِس سے کہیں  سوا ہوں  گے۔ سب سے بڑھ کے بنتِ انگور ہے کہ اگر وہ میسر نہ ہو تو خواب کیسے تشکیل پائیں،  شام کیسے مہکے؟ تو اب، اگر منیر نیازی خواب نہ دیکھے تو کیا مر جائے؟ سُو وہ خواب دیکھتا ہے اور خوب دیکھتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس کی زندگی ایک مسلسل خواب ہے اور اپنے خوابوں میں  ہمارے شاہ زادے کو جو آسودگی اور اطمینان اور تن آسانی حاصل ہے، یہ دراصل اُس کے اپنے تخیل کی زرخیزی ہے۔ مگر اتنا بھی کسی کو کب مرغوب ہوا۔ ہمارا شہزادہ اچھا بھلا، اپنی خوابوں  کی نگری میں  مست و مگن تھا کہ میلی نگاہوں  کا ہدف ٹھہرا، اور وہ عمارت بھی زمیں  بوس ہوئی، جہاں  اِس جنم جلے نے پناہ لے رکھی تھی۔

    جب اُس نے چھ رنگین دروازوں  والی اِس عمارت کو خیرباد کہا اور اپنی دراز قامت اور سرخ و سفید رنگت اور خوب رُوئی لیے، لباسِ عالی شان زیب تن کیے، پھرتا پھراتا مال روڈ کی پاک ٹی ہاؤس کی دروازے پر آیا تو بدصورتی اور بلاؤں  اور بھتنوں  اور پچھل پیریوں  کا ایک انبوہ کثیر وہاں  موجود تھا۔ پاک ٹی ہاؤس میں  ہفتہ وار تنقیدی نشست میں  پوری مستعدی سے جُگت بازی جاری تھی۔ میں  نے یہیں  منیر نیازی کو پہلی بار دیکھا۔ چوڑے ماتھے پر مٹی مٹی سی سلوٹوں  کا جال اور ایک چمک، جو اُس کی ظفر مندی پر دلیل تھی، سلیقے سے کاڑھے گئے مہین گھنے بال اور سرور کی بوجھ سی مندی مندی درمیانی آنکھیں،  جن میں  مستی تیر رہی تھی، اور بھاری پپوٹے، گویا وہ صبح و شام غرقِ مئے ناب رہنے کی عادی تھی، اور ننھی منّی سی ناک، جس کی نتھنے خاصی کشادگی رکھتے تھے اور مناسب سا دہانہ اور پتلی پتلی ہونٹوں  سی جھانکتے، زردی مائل دانتوں  کی آزاد صفا چٹ دمکتا چہرہ، اور لفظوں  کا ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہونا، اور سانس کی ساتھ فضا میں  بکھرتی بنتِ انگور کی ناگوار سی بو، اور تندرست و توانا جسم، اور لمبے چوڑے ہاتھ پاؤں،  اور بدن پر کڑھا ہوا بوسکی کا کُرتا، اور لٹّھے کی چٹک مٹک کرتی شلوار، اور جگ مگ کرتے کھُسّے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔

    منیر نیازی کے اندر کا دیہاتی ہمک ہمک کر اپنے اظہار کو مچل رہا تھا۔ لیکن وہ ایک نہایت متاثر کن اور اثرانداز ہونی والی شخصیت تھی۔ میں  اُس کی وجاہت سے مرعوب، ٹھٹکا ہوا کھڑا تھا ناگاہ ایک پُر جوش سرگوشی سنائی دی،’’ ارے بابا! یہ تو منیر نیازی ہیں، آؤ ملتے ہیں۔ ‘‘ یہ پروفیسر حسن علی رضوی تھے۔ جنھیں  ہم سب بابا رضوی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے، اور مَیں  اُن ہی کی میزبانی میں  اِن دنوں  لاہور میں  تھا۔ بابا رضوی پُر اسرار علوم کے ایک بڑے آدمی ہیں  لیکن انھیں  حیران کن حد تک، ادیبوں  اور شاعروں  سے دل چسپی تھی۔ شاید اِن دونوں  علوم کے ڈانڈے کسی سرے پر جا کے جڑ جاتے ہیں۔ میں  ابھی گومگو کی کیفیت میں  ہی تھا کہ بابا رضوی نے منیر نیازی سے اپنی انگشتری اتارنے کو کہا۔ منیر نیازی اِس بے ڈھب فرمائش پر لحظہ بھر کو ٹھٹکا اور پھر جانے کیا سوچ کے انگوٹھی اتار، بابا رضوی کے حوالے کی۔ بابا نے منیر نیازی کی آنکھوں  میں  جھانکتے ہوئے بڑے اعتماد سے سوال کیا۔ ’’منیر صاحب !آپ کون سی خوش بو پسند کرتے ہیں ؟‘‘

    ’’خوش بو؟‘‘ منیر نے کچھ نہ سمجھنے کی انداز میں  بابا کی بات دھرائی پھر بے دھیانی سے بولا۔ ’’رات کی رانی، مجھے یہی خوش بو پسند ہے۔‘‘ بابا منہ ہی منہ میں  کچھ بدبدائے اور پھر انگشتری پر پھونک مار کے اُسے منیر نیازی کی طرف بڑھا دیا۔ لیجیے، رات کی رانی، صبح تک لطف لیتے رہیے۔‘‘ منیر نیازی نے الجھی ہوئی نظروں  سے بابا کو دیکھتے ہوئے انگوٹھی کو سونگھا تو مارے حیرت کے اُس کی آنکھیں  پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

    یہ بابا رضوی کا پرانا پینترا تھا۔ وہ جس سے متاثر ہوتے اُسے حیران کرنے کے لیے اپنا یہی چٹکلا آزماتے تھے۔ اِدھر منیر نیازی، پاک ٹی ہاؤس کی دروازے کی طرف رخ کیے تقریباً دہاڑ رہا تھا۔ ’’یہ ہے زندہ جادو، شیطان کے سجنو! لفظوں  کا چہرہ بگاڑنے والی بد روحوں  ! یہ ہے زندہ جادو۔ دیکھو سچ نے سچ کو ڈھونڈ نکالا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے منیر وہیں  بابا کی قدموں  میں  بیٹھ گیا۔یہ کارروائی اِس قدر اچانک ہوئی کہ میرے ساتھ بابا رضوی بھی گھبرا گئے۔ اُنھوں  نے جیسے تیسے منیر کو زمین سے اٹھا کر سینے سے لگایا اور پھر وہاں  سے کھسکنے کی راہ کھوجنے لگے۔ اُنھیں  منیر کی بے پناہ عقیدت اور غیر معمولی رویئے نے بدحواس کر دیا تھا۔ حالاں  کہ، وہ بے حد مضبوط اعصاب کے آدمی تھے۔

    لاہور میں  منیر نیازی کے گرد و پیش کی فضا نہایت ناموافق تھی۔ اُس کے بڑ بولے پن اور اونچی آواز میں  کی جانے والی خود کلامی کی عادت نے اسے اپنی زمین پر ناپسندیدہ بنانے میں  بڑا حصّہ لیا تھا۔ منیرجس شدّت سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ اتنا ہی زیادہ اُس میں  خود مرکزیت کا جذبہ زور پکڑ رہا تھا۔ اِس کی باوجود ہمارے شاہ زادے نے اپنے شعروں  کی فسوں  خیزی سے اردگرد کے کھردرے پن کو ہموار کرنے کے جتن جاری ر کھے، لیکن اُس کے لہجے کی اجنبی نغمگی زیادہ دیر تک مقامیوں  کو اپنا اسیر رکھنے میں  ناکام رہی۔ آخر اُس نے چار چپ چیزیں  اختیار کر کے فیصلہ کیا کہ اب وہ ہر شام، دشمنوں  کی درمیان گزارے گا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ، تیز ہوا کی زد پر کھلا ہوا، ایک تنہا پھول تھا۔اُس کی فن کی پہلی بڑی گواہی دور دیس کے ایک شہر سے آئی۔ جہاں  نقار خانے کی طعام گاہ میں،  نوجوان لڑکے لڑکیوں  کی جھرمٹ میں  گھرا، بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دیتا ہوا، گہری رنگت کا چاق و چوبند دانشور قمر جمیل، اُس دور پار کے شاعر منیر نیازی کے، ہوا کو معطر کرتے ہوئے لفظوں  سے دہکا اور مہکا ہوا،اپنی شاگردوں  کو، خواب نگر کے شاہ زادے کی شاعری کے محاسن تعلیم کر رہا تھا۔اُس کی آواز کی چمک سے اِس طعام گاہ کی نیم روشن فضا میں،  جیسے جگنو جگمگا رہے تھے۔ وہ اپنی جمی ہوئی کھرج دار آواز میں  اپنے کلام کا جادو جگاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ‘‘ منیر نیازی کی شاعری میں  روحِ عصر بولتی سنائی دیتی ہے۔ وہ جدید حسیت کے اعلیٰ ترین شعور کا مالک ہے۔ اُس نے اپنی شاعری سے جو طلسمی دنیا خلق کی ہے، اس کا ہر منظر، ہمیں  ایک جہانِ نو کی سیر کراتا ہے۔ میں  اُس کے مصرعوں  میں  بڑی شاعری کی امکانات دیکھتا ہوں۔

    دلوں  میں  گرو کا کہا ہر لفظ، منیر نیازی کے لیے محبت کا ایک نیا چراغ روشن کر رہا ہے۔ رئیس فروغ، دھیمی آواز میں  منیر کا کوئی مصرعہ دہراتے ہیں۔ سید ساجد، اپنی گول گول آنکھیں  گھماتے ہوئے، شعر مکمّل کرتا ہے۔ فاطمہ حسن، لالی سی لتھڑے ہونٹ باہر کو دھکیلے، چہرے پر عقیدت سجائے،  اپنی تصور میں  منیر کو تصویر کیے کوئی دور کا خواب دیکھ رہی ہے۔ ثروت حسین کے دہکتے گالوں  پر اپنے پسندیدہ شاعر کی تذکرے سے جیسے سرخی دوڑے ہوئے ہے۔ شوکت عابد، اپنی نوٹ بک سنبھالے، گرو کے مکالماتِ جمیل رقم کر رہا ہے۔ اِس نقار خانے میں  منحرفین کی یہ چوپال تقریباً روزانہ ہی اپنے سرخیل کی قیادت میں  یہاں  بیٹھک جماتی ہے۔یہی وہ گروہ ہے، جس نے نثر میں  شاعری کے امکانات کو اپنی منزل قرار دے کے، اپنے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ اُن کا سرپنچ کہ کلام میں  کمال کے درجے پر فائز ہے اور فرانسیسی شعرا کے تخلیقی جوہر کو گراں  مایہ جانتا اور مانتا ہے۔ اُس نے غزل کو از کار رفتہ قرار دے کے نوجوانوں  کے ریوڑ کے ریوڑ کو انحراف کی یہ راہ سمجھائی ہے۔ لیکن اِس وقت گرو جس شاعر کو مرکزِ گفتار بنائے ہوئے ہے اور جس کی شاعری میں  اُسے روح عصر کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اُس کا اثاثہ وہی بوسیدہ صنف ’’غزل‘‘ ہے، جس کے خلاف اُس نے ایک محاذ کھول رکھا ہے۔ مَیں،  جو طلسمِ شعر کا تازہ تازہ اسیر ہوا ہوں،  اِن لڑکے لڑکیوں  سے، تعلق کی ایک ضعیف و قوی ڈور میں  بندھا ہوا ہوں  اور ایک وقت کے راتب کی بو سونگھتا اکثر اِدھر آ نکلتا ہوں۔ اِس ہجوم میں  شامل، مملکتِ شعر میں،  ایک شہزادے کی فتوحات کے چرچے سن رہا ہوں۔ وہ شاعر، جسے اُس کے اپنے شہر میں  نظر انداز کیے جانے کے سزا سنادی گئی ہے اور دور دیس کا ایک ادھیڑ عمر شاعر،اُس کی لیے اپنی آغوش وا کیے، اپنے ہم راہیوں  میں  اُس کے شایانِ شان استقبال کی فضا استوار کر رہا ہے۔ مجھے، قمر جمیل کے جذبے کی یہ کو ملتا بھلی لگ رہی ہے۔

    قمر جمیل کے اِس روز روز کے بھاشن اور نوجوانوں  کے گروہ میں  منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں  ایک سازگار فضا نے، دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کو منیر نیازی کے مفتوحہ شہر میں  بدل دیا۔ اب ہر طرف اُس کی نظموں،  غزلوں  کا چرچا تھا اور پھر ہمارا شہزادہ ایک تواتر سے کراچی میں  ڈیرہ لگانے لگا۔ اِس پورے معاملے میں  سب سے اچھی بات یہ تھی کہ کراچی کے ایک بڑے فعال گروہ نے لاہور کے ایک جیوٹ شاعر کو سب سے پہلے گلے لگایا۔ منیر نیازی کی شاعری کا انکار ہی شاید اُس کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ جب یہاں  اِس پُر جوش انداز میں  اُس کا اعتراف کیا گیا تو وہ، جیسے پھر سے جی اٹھا۔ اُس کے چہرے کی وہ شادابی لوٹ آئی تھی جسے میں  نے لاہور میں  نظارہ کیا تھا اور جو لڑائیاں  لڑتے لڑتے دَم توڑ چلی تھی۔ اُس کے لہجے کا وہ طنطنہ اور اعتماد بھی اُس کا ایک وصف شمار کیا جاتا، اگر اُس سے ہمارے شاہ زادے کی خود پسندی اور کسی حد تک تکبّر،اظہار نہ پا رہی ہوتی۔ یہ سب کچھ اب تقویت پا کے دوبارہ اپنے اصل کرارے پن کی طرف لوٹ رہا تھا، کراچی والوں  کو اُس کی یہ ادا بھی بہت خوب لگی۔ بلکہ ابتدا میں  تو چند نوجوانوں  نے اپنی معصومیت میں  منیر نیازی کے اِس رویے کو اپنا کے ماحول بے سبب مسموم بھی کیا۔ خالی ڈبّوں  کا یہ شور شراباکس کو بھلا لگتا؟ منیر نیازی اگر کچھ کہتا تھا تواُس کی اندر تو خیر ایک طاقت تھی، ایک آگ تھی، جسے اس نے ہمیشہ دہکائے رکھا تھا اور جب اندر کی حرارت ناقابل برداشت ہو جاتی تو وہ انگارے اگلنے لگتا۔ رائٹرز گلڈ کو اکادمی ادبیات میں  ضم کر دیا جائے، گلڈ پر پبلشروں  اور بینکرز کا قبضہ ہو گیا ہے۔ میرے اردگرد بدصورتی کا احساس بڑھ گیا ہے اور میں  ایک مکروہ اور بد ہیئت معاشرے کے ردِّ عمل میں  شعر تخلیق کرتا ہوں  اور انسانی رشتے مسخ ہو چکے ہیں۔ میں  ناپاک لوگوں  سے مکالمہ کر کے خود کو ناپاک نہیں  کرنا چاہتا، اور کہ پنجاب میں  مجھے کم زور کرنے کے لیے ہی قتیل شفائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ میں  مکّار روحوں  کے نرغے میں  ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ ہم ایک اذیت پسندمعاشرے میں  رہتے ہیں۔ جہاں  کوئی ہم پر براہ راست حملہ آور ہوتا ہے تو کوئی نظر انداز کر کے ہمیں  ہلاک کر دیتا ہے۔ اِس قسم کی تلخ نوائی کے بعد، اگر ہمارے شاہ زادے کے تخلیقی جوہر سے انکار کیا گیا یا اُسے نظر انداز کر کے اُس کی روح تک کو زخم زخم کر دیا گیا یا اُسے ہر طرح کے انعام و اکرام سے محروم رکھا گیا تو اِس میں  ایسا عجب کیا ہے؟ یہ تو ہونا ہی تھا۔ اگر کوئی مسخ معاشرے میں  سچ کے پھول کھلانے کے جتن کرے، تو اُسے نیزے کی اَنی کو سینے پر جھیلنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑتا ہے۔

    منیر نیازی کراچی آتا، تو اُس کے گرد بونوں  کا مجمع لگ جاتا۔اِس ہجوم میں  خود کو دیو قیاس کر کے خود پسندی کا شیطان اُسے خوب خوب بہکاتا اور وہ، اپنے انٹرویوز میں  ببانگ دہل اعتراف کرتا کہ ہاں،  خود پسندی میرا دفاعی ہتھیار ہے، اپنی بات کی تاویل وہ کہتا کہ خود پسندی کا شکار صرف وہی ہو سکتا ہے جو اس کا اہل بھی ہو۔ اپنی اسی جھونک میں  وہ یہاں  تک کہہ گزرتا ہے کہ کبھی کبھی میں  سوچتا ہوں  کہ ملک میں  اکیلا مَیں  ہی شاعر ہوں۔ لیکن اِسی کے ساتھ اُسے یہ شکایت ہمیشہ رہی کہ اُسی ہر چیز کی نفی کرنے والے ایجی ٹیٹر کے طور پر پینٹ کر دیا گیا ہے۔ ہمارا شہزادہ کسی کو رہبر بنانے پر بھی آمادہ نہیں  ہے۔ اُسے خطرہ ہے کہ وہ گم کر دیا جائے گا۔ اگر اس گفتگو کے پس منظر میں  ہم اپنے شاہ زادے کے ماضی پر نظر کریں  تو ہمیں  معلوم ہو گا کہ اُسے بہت معمولی سزا جھیلنی پڑی ورنہ اِس انداز میں  گرجنے، چمکنے کی کم از کم سزا سنگساری ہونی چاہیے تھی، یہ کراچی کے دیوانوں  کی محبت تھی جو اُس کی ڈھال بن گئی۔ اب اگر منیر نیازی کے مستقبل کے حوالے سےدیکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ وہ بھی کچھ ایسا تابناک نہیں  ہے کہ اپنی گیارہ کتابوں  پر سوار ہو کے وہ جہاں  تک آ پہنچا ہے۔شاید اِس سے آگے اُس کے لیے زیادہ روشنی نظر نہیں  آتی۔ بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی اننگ مکمّل کر چکا ہے۔ کیوں  کہ پچھلے دو سال سے اُس نے ایک مسلسل چپ سادھ رکھی ہے۔ اب تو اُس کی جانب سی یہ گلہ بھی سنائی نہیں  دیتا کہ اُس کا پبلشر اُسے رائلٹی ادا نہیں  کر رہا۔ اُسے اب اِس بات سے بھی کوئی علاقہ نہیں  رہا کہ شاعری کے نام پر کسے نوازا جا رہا ہے اور کون ہے جسے حق سے محروم کر دیا گیا۔ کیوں  کہ اب، جب وہ خود ہی نہیں  ہے تو شاید اُس کی لیے کوئی اور بھی باقی نہیں  رہا ہے۔ نیرنگیِ زمانہ بھی خوب ہے۔ یہ وہی شخص ہے، جو مخالف سمت سے آنے والے ہوا کے جھونکے پر بھی تلوار سونت لیتا تھا اور آج اس کے آس پاس موت اور بیماریاں  ہیں،  وہ تھکن سے چُور فریاد کناں  ہے، میرے عذابوں  کو شیئر کرو،مجھے پے در پے شکستیں  ہوئی ہیں۔ لیکن اب کون ہے جو اُس کا غم بانٹے، قمر جمیل اب رہے نہیں،  رئیس فروغ بھی جنت مکانی ہوئے، ثروت حسین نے عدم کی راہ لی، سید ساجد کی سانس کی ڈور کاٹ دی گئی۔ سراج منیر عین جوانی میں  خالق حقیقی سے جا ملے اور جو رہ گئے، اُن پر خود اپنا بوجھ بھاری ہے، وہ کسی گرتی ہوئی دیوار کو کیا سنبھالیں۔ ایک لے دے کے فاطمہ حسن ہیں،  جو پوری استقامت سے ایک بڑے شاعر کی پرچھائیں  سے تعلق کی ڈور میں  بندھی ہوئی ہیں۔ لیکن وہ بھی شاید اُس وقت تک جب تک منیر نیازی کی نیوز ویلیو باقی ہے۔ اِس میں  کوئی ایسی بری بات بھی نہیں،  آخر اِس کمزور لڑکی کو بھی تو زندہ رہنا ہے۔ اُس کی سرکاری گاڑی بے مصرف چیزیں  ڈھونے کے لیے نہیں  بنی۔ آخر کب تک وہ ’’ہمدرد عورت‘‘ کی پھبتی سہتی رہے۔ ابھی حال ہی میں  تو وہ جمال احسانی کے بوجھ سے آزاد ہوئی ہے اور منیر نیازی تو یوں  بھی ہمیشہ سے بہت زیادہ کا طلبگار رہا ہے۔ لیکن اب تک، جب کبھی منیر نیازی کراچی آتا ہے۔ فاطمہ حسن ایک پُر جوش میزبان کی طرح اُس کی مدارت کرتی ہے۔ زندہ، مردہ تقریبات اور افراد سے اُس کی ملاقات اور شرکت کو یقینی بناتی ہے اور جواب میں  اِس بے چاری کو ملتا کیا ہے؟بس ایک کالمی، چند سطری خبر اور وہ بھی اندر کے صفحات میں،  اب وہ حساب کتاب کی اتنی کچّی بھی نہیں  کہ گھاٹے کے اِس سودے کا نوٹس ہی نہ لے، لیکن کیا کیجیے کہ ہمارے شاہ زادے کا طلسم بھی خوب ہے جس نے اِس سانولی لڑکی کو کانٹا نگلی مچھلی میں  بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب اگر اتنی مدّت گزر جانے کے بعد منیر نیازی کو دیکھیں،  تو ہم ایک بلند و بالا عمارت کی خستہ حالی دیکھنے کے پُر ملال تجربے سے گزرتے ہیں۔ جس کی دیواروں  میں  دراڑیں  پڑ گئی ہیں ، جب ہم اُسے دیکھ رہے ہوتے ہیں  تو ہمیں  اِس میں  سےجھڑتی مٹّی کی سرسراہٹ صاف سنائی دیتی ہے۔ جب وہ کلام کرتا ہے تو گویا ہم سرگوشیاں  سن رہے ہوتے ہیں ،  اُس کا وہ بلند لہجہ اور دبنگ انداز، جس سے اعتماد اور یقین کے چنگھاڑتے ہوئے دھارے پھوٹا کرتے تھے، لگتا ہے، اُس کے ماضی کے ساتھ دفن ہو گئے۔ آنکھیں  گدلی ہو کر اپنی چمک گنوا بیٹھیں۔ ماتھے پر ظفر مندی کی چمک کی جگہ گہری سلوٹوں  نے لے لی۔ سر کے بال جو پہلی خاصی گھنے تھے اب گویا رہے ہی نہیں،  یہاں  تک کہ بھنویں  بھی اجڑی ہوئی کھیتی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ گال دھنس کے اپنی شادابی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہاتھ پیروں  میں  سے وقت نے توانائی کوچوس ڈالا ہے۔ اب وہ کھڑا ہوتا ہے تو اُس پر، کسی بوسیدہ کمان کا گمان ہوتا ہے۔ اب چار سیڑھیاں  اترنے کے لیے ہمارا شہزادہ، چالیس سے زیادہ سانس بھرنے پر مجبور ہے۔ یہ وہی آدمی ہے، جو حرکت تیز تر اور سفر آہستہ آہستہ پر شاکی ہوا کرتا تھا۔ اب جب حرکت ہی نہ رہی تو سفر کیسا؟ جب خواب زدہ کے پلّے میں  خواب نہ رہیں،  تو وہ ایسا ہی تہی دست ہو جاتا ہے۔

    اب اُس نے لاہور کے نواح میں  ایک پناہ گاہ بنا لی ہے اور وہاں  محصور ہو کے لفظ بھولنے کی مشق میں  جتا ہوا ہے۔ اُس نے مکان میں  اِس کا خصوصی اہتمام رکھا ہے کہ کوئی دروازہ نہ ہو۔ اب اگر کسی کو اُس تک پہنچنا ہو تو اِس کا واحد ذریعہ ایک تنگ سی کھڑکی ہے اور وہ بھی صرف اُسی کے لیے وا ہوتی ہے۔ جسے ہمارے شاہ زادے کا ماضی دہرانے کا ہنر آتا ہو، کہ اب وہ جتنا جیسا ہے بس اپنے ماضی میں  زندہ ہے۔

    جب اُسے مشاعروں  میں  امریکا، برطانیہ اور دیگر ملکوں  میں  مدعو کیا جاتا تھا اور وہ ہر جگہ دھومیں  مچاتا، ایک نشے کے سے عالم میں  ناز نخرے اٹھوایا کرتا تھا۔ لیکن چیتھڑے ہوا لباس کون ملبوس کرتا ہے؟ تو یہ ہے، وہ شاعر شاندار، جو کہتا تھا، میرے روگ خوب صورت خیال اور شعر کہنے سے ختم ہو جاتے ہیں۔ اچھی نظم مجھے تندرست رکھتی ہے۔ جس کے ایک انٹرویو میں  ڈاکٹر طاہر مسعود نے توقّع قائم کی تھی۔

    ’’منیر نیازی کو کتنا ہی نظر انداز کیا جائے لیکن اُس کی شاعری اگر سچّی ہے اور اُس میں  زندہ رہنے کی قوّت موجود ہے تو تن آور درخت گر جائیں  گے، حملہ آور تلوار کو زنگ کھا جائے گا،  دشمن قبیلے کُوچ کر جائیں  گے اور منیر کی شاعری، موسمِ بہار کے تازہ جھونکے کی طرح ہمارے درمیان موجود رہے گی۔‘‘


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close