محبت کی پیدائش / سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو

(خالد سیٹی بجا رہا ہے۔ سیٹی  بجاتا بجاتا خاموش ہو جاتا ہے۔ پھر ہولے ہولے اپنے آپ سے کہتا ہے۔)

خالد:اگر محبت ہاکی یا فٹ بال میچوں میں کپ جیتنے ، تقریر کرنے  اور  امتحانوں میں پاس ہو جانے کی طرح آسان ہوتی تو کیا کہنے تھے۔۔۔  مجھے سب کچھ مل پاتا۔ سب کچھ (پھر سیٹی بجاتا ہے) نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں اس چھوٹے سے باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے پر میں خوش نہیں ہوں۔ میں بالکل خوش نہیں ہوں۔

حمیدہ:(دھیمے لہجے میں) خالد صاحب!

(خالد خاموش رہتا ہے)

حمیدہ:(ذرا زور سے)خالد صاحب!

خالد:(چونک کر) کیا ہے؟کوئی مجھے بلا رہا ہے؟

حمیدہ:میں ہوں !۔۔۔ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔

خالد:اوہ!حمیدہ۔۔۔ کہو، یہ ضروری کام کیا ہے۔۔۔ میں یہاں یونہی لیٹے لیٹے اونگھنے لگ گیا تھا۔ کیا کسی کتاب کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟۔۔۔  مگر تم نے مجھے اتنا قابل کیوں سمجھ رکھا ہے۔۔۔ فلسفے میں میں اتنا ہوشیار نہیں جتنی کہ تم ہو۔ عورتیں فطرتاً فلسفی ہوتی ہیں۔

حمیدہ:میں آپ سے فلسفے کے بارے میں گفتگو کرنے نہیں آئی۔ افلاطون  اور  ارسطو اس معاملے میں میری مدد نہیں کر سکتے جتنی آپ کر سکتے ہیں۔

خالد:میں  حاضر ہوں۔

حمیدہ:میں بہت جرأت سے کام لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ آپ یقین کیجئے کہ میں نے بہت بڑی جرأت کی ہے۔۔۔ بات یہ ہے۔۔۔  مجھے شرم محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ اس میں شرم کی کونسی بات ہے۔۔۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ پرسوں رات میں نے اباجی کو امی جان سے یہ کہتے سنا کہ وہ آپ سے میری شادی کر رہے ہیں۔

خالد:(خوش ہو کر) سچ مچ؟

حمیدہ:جی ہاں۔۔۔ میں نے یہ سنا ہے کہ بات پکی ہو گئی ہے۔۔۔   اور  اس فائنل کے بعد ہم بیاہ دیئے جائیں گے۔

خالد:(خوشی کے جذبات کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے) حد ہو گئی ہے۔۔۔  مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں۔۔۔ یہ چپکے چپکے انھوں نے بڑا دلچسپ کھیل کھیلا۔۔۔  دراصل بات یوں ہوئی ہے کہ میں نے اپنی امی جان سے ایک دو مرتبہ۔۔۔ تمہاری تعریف کی تھی  اور  کہا تھا کہ جو شخص حمیدہ جیسی۔۔۔  حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی پیاری لڑکی کا شوہر بنے گا۔۔۔  وہ کس قدر خوش نصیب ہو گا۔ (ہنستا ہے)حد ہو گئی ہے۔۔۔  میں یہاں اسی فکر میں گھلا جا رہا تھا کہ تم کہیں کسی  اور کی نہ ہوجاؤ (خوب ہنستا ہے)۔۔۔  دیکھو نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں۔۔۔  اس باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے۔۔۔  اور  میں بھی خوش ہوں۔۔۔  کس قدر خوش (ہنستا ہے) حمیدہ اب تمہیں ہم سے پردہ کرنا چاہئے۔۔۔  ہم تمہارے ہونے والے شوہر ہیں۔

حمیدہ:مگر مجھے یہ شادی منظور نہیں۔!

خالد:شادی منظور نہیں۔۔۔  پھر تم نے یہ بات کیوں چھیڑی؟۔۔۔  میں تمہیں نا پسند ہوں کیا؟

حمیدہ:خالد صاحب!میں اس معاملے پر زیادہ گفتگو کرنا نہیں چاہتی۔ میں آپ سے صرف یہ کہنے آئی تھی کہ اگر ہماری شادی ہو گئی۔ تو یہ میری مرضی کے خلاف ہو گی۔ ہماری دونوں کی زندگی اگر ہمیشہ کے لئے تلخ ہو گئی تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ میں نے اپنے دل کی بات آپ سے چھپا کر نہیں رکھی، جو فرض میرے ماں باپ کو ادا کرنا چاہئے تھا۔ میں نے ادا کر دیا ہے آپ عقل مند ہیں۔ روشن خیال ہیں۔ اس لئے میں آپ کے پاس آئی۔ ورنہ یہ راز قبر تک میرے سینے میں محفوظ رہتا۔

خالد:یہ جھوٹ ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

حمیدہ:ہو گا۔ مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔

خالد:اس میں میرا کیا  قصور ہے؟

حمیدہ: اور اس میں میرا کیا قصور ہے؟

خالد:حمیدہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل تمہاری  اور صرف تمہاری محبت سے بھرا ہے۔

حمیدہ:لیکن میرا دل بھی تو آپ کی محبت سے بھرا ہو۔۔۔  میرے اندر سے بھی تو یہ آواز پیدا ہو کہ حمیدہ آپ کو چاہتی ہے۔۔۔  میں بھی تو آپ سے جھوٹ نہیں کہہ رہی۔۔۔ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی محبت اس وقت مجھ پرکیا اثر کر سکتی ہے جب میرا دل آپ کی محبت سے خالی ہو۔

خالد:ایک دیا دوسرے دیئے کو روشن کر سکتا ہے۔

حمیدہ:صرف اس صورت میں جب دوسرے دیئے میں تیل موجود ہو۔۔۔  یہاں میرا دل  تو بالکل خشک ہے آپ کی محبت کیا کر سکے گی۔ میں نے آج تک آپ کو ان نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھا جو محبت پیدا کر سکتی ہیں۔۔۔  اس کے علاوہ کوئی خاص بات بھی تو نہیں ہوئی جس سے یہ جذبہ پیدا ہو سکے۔۔۔ لیکن میں آپ کے بارے میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ اچھے نوجوان ہیں با اخلاق ہیں۔ کالج میں سب سے زیادہ ہوشیار طالب علم ہیں۔ آپ کی صحت آپ کی علمیت، آپ کی قابلیت قابل رشک ہے۔ آپ ہمیشہ میری مدد کرتے رہے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میرے دل میں آپ کی محبت ذرہ بھر بھی نہیں ہے۔۔۔  میر ا خیال ہو سکتا ہے کہ درست نہ ہو۔ پریہ تمام خوبیاں جو آپ کے اندر موجود ہیں ضروری نہیں کہ وہ کسی عورت کے دل میں آپ کی محبت پیدا کر دیں۔

خالد:تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مجھے اس کا احساس ہے۔

حمیدہ:تو کیا میں امید رکھوں کہ آپ مجھے اس بے مرضی کی شادی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

خالد:مجھ سے جو کچھ ہو سکے گا۔ ضرور کروں گا۔

حمیدہ:تومیں جاتی ہوں۔۔۔ بہت بہت شکریہ!

(چند لمحات تک خاموشی طاری رہتی ہے۔۔۔ خالد درد ناک سروں میں سیٹی بجاتا ہے۔۔۔)

خالد:(سسکیوں میں )نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں۔ اس چھوٹے سےباغچے کی پتی پتی خوشی سے تھرتھرا رہی ہے۔ میں خوش نہیں۔ بالکل خوش نہیں ہوں۔

(اسی روز شام کو خالد کے گھر میں)

ڈپٹی صاحب:(خالد کا باپ۔ دروازے پر آہستہ سے دستک دے کر)بھئی میں ذرا  اندر آ سکتا ہوں۔

خالد:آئیے آئیے۔ اباجی!

ڈپٹی صاحب:میں نے بہت مشکل سے تمہارے ساتھ چند باتیں کرنے کی فرصت نکالی۔ یوں کہو کہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ تم بھی گھر میں موجود ہو اور مجھے بھی ایک، آدھ گھنٹے تک کوئی کام نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ تمہاری ماں نے تمہاری شادی کی بات چیت پکی کر دی ہے لڑکی حمیدہ ہے جس کو تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تمہاری کلاس میٹ ہے  اور میں نے سنا ہے کہ تم دل ہی دل میں اس سے ذرا۔۔۔ محبت بھی کرتے ہو چلو اچھا ہوا۔۔۔  اب تمہیں  اور کیا چاہئے۔۔۔  امتحان پاس کرو اور دلہن کولے آؤ۔

خالد:پر اباجی،  میں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ حمیدہ کی شادی مسٹر بشیر سے ہو گی جو پچھلے برس ولایت سے ڈاکٹر ی امتحان پاس کر کے آئے ہیں۔

ڈپٹی صاحب:شادی اس سے ہونے والی تھی مگر حمیدہ کے والدین کو جب معلوم ہوا کہ وہ شرابی  اور آوارہ مزاج ہے تو انھوں نے یہ خیال موقوف کر دیا لیکن تمہیں ان باتوں سے کیا تعلق۔۔۔ حمیدہ تمہاری ہو رہی ہے۔ ہو رہی ہے کیا ہو چکی ہے۔

خالد:حمیدہ راضی ہے کیا؟

ڈپٹی صاحب:ارے راضی کیوں نہ ہو گی؟جب ڈپٹی ظہور احمد کے بیٹے خالد کی شادی کا سوال ہو، تو اس میں رضامندی کی ضرورت ہی کیا ہے۔

خالد:مجھے بنا رہے ہیں آپ؟

ڈپٹی صاحب:رہنے دواس قصے کو، مجھے  اور بہت سے کام کرنا ہے۔ اچھا تومیں چلا۔۔۔  پر ایک  اور بات بھی تو مجھے تم سے کرنا تھی۔ تمہاری ماں نے ایک لمبی چوڑی فہرست بنا کر دی تھی۔۔۔ ہاں یاد آیا۔۔۔  دیکھو بھئی نکاح کی رسم پرسوں یعنی اتوار کو ادا ہو گی۔ اس لئے کہ حمیدہ کا باپ حج کو جانے سے پہلے اس فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہتا ہے۔۔۔  ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ، ایسا ہی ہونا چاہئے  اور جب تمہاری ماں کہہ دے تو پھر اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں رہتی۔۔۔ میں نے ان لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ ہم سب تیا رہیں۔ تمہیں جن لوگوں کوInvite   کرنا ہو گا کر لینا۔ مجھے اس درد سری میں مبتلا نہ کرنا بھئی، میں بہت مصروف آدمی ہوں۔

خالد:بہت اچھا اباجی!

ڈپٹی صاحب:ہاں ایک  اور  بات۔۔۔ ممکن ہے کہ میں تم سے کہنا بھول جاؤں اس لئے ابھی سے کان کھول کر سن لو۔۔۔ (رازدارانہ لہجہ میں) شادی کے بعد اپنی بیوی کو سر پر نہ چڑھا لینا۔ ورنہ یاد رکھو، بڑی آفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی ماں کی طرف دیکھ لو، کس طرح مجھے نکیل ڈالے رکھتی ہے۔

خالد:(ہنستا ہے)۔۔۔ نصیحت کا شکریہ!

ڈپٹی صاحب:شکریہ وکریہ کچھ نہیں تم سے جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا خیال رکھنا  اور  بس۔۔۔ تومیں چلا۔۔۔  نکاح کے ایک روز پہلے مجھے یاد دلا دینا۔ تا کہ میں کہیں  اور نہ چلا جاؤں۔

خالد:بہت اچھا اباجی!

(دروازہ بند کرنے کی آواز)

خالد:(ہولے ہولے گویا گہری فکر میں غرق ہے) بہت اچھا اباجی۔۔۔  بہت اچھا اباجی۔۔۔  میں نے کتنی جلدی کہہ دیا بہت اچھا اباجی۔۔۔  بہت اچھا۔۔۔ جو کچھ کہا ہوا ہے۔۔۔ اب اس کے سوا  اور چارہ ہی کیا ہے۔۔۔ نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑتی رہیں گی باغیچوں میں پتیاں خوشی سے تھرتھراتی رہیں گی  اور یہ دل ہمیشہ کے لئے اجڑ جائے گا۔۔۔  اجڑ جائے گا!

(تیسرے روز کالج میں پرنسپل کا دفتر)

(گھنٹی بجائی جاتی ہے پھر دروازہ کھولا جاتا ہے۔)

چپراسی:جی حضور!

پرنسپل:خالد کو اندر بھیج دو۔

چپراسی:بہت اچھا حضور!

(دروازہ کھولنے  اور بند ہونے کی آواز پھر خالد کے آنے کی آواز)

پرنسپل:(کھانستا ہے) تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟

(خالد خاموش رہتا ہے۔)

پرنسپل:(با رعب لہجے میں)تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟

خالد:کچھ نہیں۔ میرا دل کوڑے کرکٹ سے صاف ہے۔

پرنسپل:تم گستاخ بھی ہو گئے ہو؟

خالد:کالج میں اگر کوئی گستاخ لڑکا نہ ہو تو پرنسپل اپنی قوتوں سے بے خبر رہتا ہے اگر اس کمرے کو جس میں آپ رہتے ہیں ترازو فرض کر لیا جائے تو میں اس ترازو کی وہ سوئی ہوں جو وزن بتاتی ہے۔

پرنسپل:تم مجھے اپنی اس بے ہودہ منطق سے مرعوب نہیں کر سکتے۔

خالد:یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔

پرنسپل:(زور سے) تم خاک بھی نہیں جانتے۔

خالد:آپ بجا فرما رہے ہیں۔

پرنسپل:میں بجا نہیں فرما رہا۔ اگر میرا فرمانا بجا  ہوتا تو کل تم ایسی بے ہودہ حرکت کبھی نہ کرتے جس نے تمہیں سب لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کر دیا ہے اب تم میں  اور ایک بازاری غنڈے میں کیا فرق رہا ہے۔

خالد:آپ سے عرض کروں؟

پرنسپل:کرو۔ کرو کیا عرض کرنا چاہتے ہو تمہاری یہ نئی منطق بھی سن لوں !

خالد:بازاری غنڈہ چوک میں کھڑا ہو کر جو اس کے دل میں آئے کہہ سکتا ہے مگر میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ مجھ میں اتنی قوت نہیں ہے کہ اپنے دل کا تالا کھول سکوں جو تہذیب آج سے بہت عرصہ پہلے لگا چکی ہے بازاری غنڈہ مجھ سے ہزار درجے  بہتر ہے۔

پرنسپل:جو تھوڑا بہت تم میں  اور اس میں باقی رہ گیا ہے اب پورا کر لو۔۔۔  میں تمہیں اپنے کالج سے باہر نکال رہا ہوں۔

خالد:مگر۔۔۔

پرنسپل:مگر وگر کچھ بھی نہیں۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں میرے کالج میں ایسا لڑکا ہرگز نہیں رہ سکتا۔۔۔ جو بد چلن ہو، آوارہ ہو۔ کالج میں شراب پی کر آنا ایسا جرم نہیں کہ سزا دیئے بغیر تمہیں چھوڑ دیا جائے۔



خالد:اپنے آپ پر دوبارہ  غور فرمائیے۔ اتنی جلدی نہ کیجئے۔۔۔  آپ مجھے اپنے کالج سے ہمیشہ کے لئے باہر نہیں نکال سکتے۔

پرنسپل:(غصے میں) کیا کہا۔

خالد:میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے اپنے کالج سے کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔۔۔  آپ کو۔۔۔ آپ کو۔۔۔ میرے چلے جانے سے کیا آپ کو نقصان نہ ہو گا؟

پرنسپل:نقصان؟تمہارے چلے جانے سے مجھے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ تم جیسے دو درجن لڑکے میرے کالج سے چلے جائیں۔ خس کم جہاں پاک!

خالد:آپ میرا مطلب نہیں سمجھے پرنسپل صاحب!مجھے افسوس ہے کہ اب مجھے خود ستائی سے کام لینا پڑے گا۔ آپ کے سامنے یہ کالا بورڈ جو لٹک رہا ہے اس پر سب سے اوپر کس کا نام لکھا ہے۔ آپ بتانے کی تکلیف گوارا نہ کیجئے۔ یہ اسی آوارہ  اور بد چلن کا نام لکھا ہے ، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی اے میں وہ صوبے بھرمیں اول رہا۔ اس بورڈ کے ساتھ ہی ایک  اور  بورڈ لٹک رہا ہے جو آپ کو بتا سکتا ہے کہ ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کا ہوشیار سے ہوشیار طالب علم بھی آپ کے کالج کی کالی بھیڑ خالد کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ تقریر میں اس نے تین سال تک کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ آپ کے پیچھے ایک  اور تختہ لٹک رہا ہے۔ اگر آپ کبھی اس پر نظر ڈالیں تو آپ  کو معلوم ہو سکتا ہے کہ خالد جب سے آپ کی ہاکی ٹیم کا کپتان بنا ہے شکست ناممکن ہو گئی ہے۔ فٹ بال کی ٹیم میں مجھ سے بہتر گول کیپر آپ کہاں سے تلاش کریں گے؟اخبار لکھتے ہیں کہ میں لوہے کا مضبوط جال ہوں ، سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔۔۔  اور پچھلے برس میچ میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ تو آپ کو بچانے کے لئے کس نے آگے بڑھ کر ڈھال کا کام دیا تھا اسی خاکسار نے۔۔۔ آپ اپنے فیصلے پر دو بارہ غور کیجئے۔

پرنسپل:کیا اب احسان جتلا کر تم مجھے رشوت دینے کی کوشش کر رہے ہو۔

خالد:پرنسپل صاحب آج کل دنیا کے سارے دھندے اسی طرح چلتے ہیں بچہ جب روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ مگر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پڑوس میں اگر بن ماں کا یتیم بچہ رونا شروع کر دے تو میری ماں دودھ کی بوتل لے کر ادھر کبھی نہیں دوڑے گی۔۔۔ آپ نے آج تک مجھ پر اتنی مہربانیاں کی ہیں تو محض! اس لئے کہ مجھ میں خوبیاں تھیں  اور آپ مجھے پسند کرتے تھے  اور میں نے اس روز آپ کو اس لئے بچایا تھا کہ وہ میرا فرض تھا۔ میں آپ کو رشوت نہیں دے رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سزا دے کر رہیں گے۔ میں خود سزا چاہتا ہوں۔ مگر کڑی نہیں۔۔۔ رشوت تو وہاں دی جاتی ہے جہاں بالکل اجنبیت ہو۔

پرنسپل:تم تقریر کرنا خوب جانتے ہو۔

خالد:(ہنس کر)یہ کالا بورڈ بھی جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے یہی کہتا ہے۔

پرنسپل:خالد۔۔۔ میں حیران ہوں کہ تم نے کالج میں شراب پی کر ادھم کیوں مچایا۔۔۔ تم شریر ضرور تھے ، مگر مجھے معلوم نہ تھا۔ تم شراب بھی پیتے ہو۔ تمہارے کیریکٹر کے بارے میں مجھے کوئی شکایت نہ تھی۔ مگر کل کے واقعہ نے تمہیں بہت پیچھے ہٹا دیا ہے۔

خالد:جب کھائی پھاندنا ہو تو ہمیشہ دس بیس قدم پیچھے ہٹ کر کوشش کی جاتی ہے ہو سکتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک گہری کھائی پھاندنے کی کوشش کی ہو۔

پرنسپل:مجھے افسوس ہے کہ تم اس کوشش میں اوندھے اس گہری کھائی میں گر پڑے ہو۔

خالد:ایسا ہی ہو گا۔ مگر مجھے افسوس نہیں۔

پرنسپل:تواب تم کیا چاہتے ہو؟

خالد:میں کیا چاہتا ہوں؟۔۔۔ کاش کہ میں کچھ چاہ سکتا۔ آپ سے میری صرف یہ  گزارش ہے کہ سزا دیتے وقت پرانے خالد کو یاد رکھئے۔ بس۔!

پرنسپل:تمہیں ایک سال کے لئے کالج سے خارج کر دینے کا حکم میں لکھ چکا ہوں یہ  سزا تمہاری ذلیل حرکت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس لئے تم معلوم کر سکتے ہو کہ پرانے خالد کو میں نے ابھی تک دل سے محو نہیں کیا۔

خالد:میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ ایک سال کے بعد جب خالد پھر آپ کے پاس آئے گا۔ تو وہ پرانا ہی ہو گا۔

پرنسپل:اب تم چپ چاپ یہاں سے چلے جاؤ اور دیکھو۔ اس غم کو دور کرنے کے لئے کہیں شراب خانے کا رخ نہ کرنا۔

خالد:ایک بار جو میں نے پی ہے۔ وہی عمر بھر کے لئے کافی ہے آپ بے فکر رہیں۔

(دروازہ کھلنے  اور بند کرنے کی آواز)

(دروازے بند کرنے کے ساتھ ہی دس پندرہ لڑکوں کی آوازوں کا شورپیدا کیا جائے یہ لڑکے خالد سے طرح طرح کے سوال پوچھیں۔)

۱۔کیوں خالد کیا ہوا؟

۲۔سال بھرکے لئے Expel    کر دئیے گئے؟

۳۔پر میں پوچھتا ہوں۔ شراب پی کر تمہیں کالج ہی میں آ کر ادھم مچانا تھا؟

۴۔تم نے سخت غلطی کی، شراب تومیں بھی پیتا ہوں ، مگر کسی کو کانوں کان

خبر نہیں ہوتی؟

۵۔کیا جانے اس کے سر پرکیا وحشت سوار ہوئی؟

۶۔پہلی دفعہ پی  اور بری طرح پکڑے گئے میرے یار؟

۷۔اب کیا ہو گا؟

خالد:(تنگ آ کر)بکواس نہ کرو۔ جو کچھ ہو چکا ہے تمہارے سامنے ہے جو کچھ ہو گا وہ بھی تم دیکھ لو گے۔ دنیا کی نگاہوں سے کوئی چیز پوشیدہ بھی رہی ہے؟

(کالج کے گھنٹے کی آواز ٹن ٹن ٹن)

خالد:جاؤ۔ جاؤ اپنی اپنی کلاس Attend   کرو۔۔۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔

(چند لمحات کے بعد خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔)

خالد:بڑے بڑے معرکہ خیز میچوں میں حصہ لیا ہے بڑی بڑی چوٹیں کھائی ہیں مگر یہ تھکن جواس وقت محسوس ہو رہی ہے آج تک کبھی طاری نہیں ہوئی۔باغیچے کی اس جھاڑی کے پاس حمیدہ نے میرے دل کے ٹکڑے کئے تھے۔ اب یہیں تھوڑی دیر بیٹھ کران کو جوڑتا ہوں۔۔۔  دل ٹوٹا ہوا ہو مگر پہلو میں ضرور ہونا چاہئے۔۔۔  اس کے بغیر زندگی فضول ہے۔۔۔

(وقفہ)

۔۔۔ اس وقت مجھے کسی ہمدرد کی کتنی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔۔۔  مگر۔۔۔

(گیت)

کون کسی کا میت منوا

کون کسی کا میت!

راگ سبھا ہے دنیا ساری

جیون دکھ کا گیت

منوا کون کسی کا میت

رام بھروسے  کھینے والے

نیا کو منجدھار!

اپنے ہاتھوں آپ ڈبو دے

کیوں ڈھونڈے پتوار

ڈبو دی۔۔۔  اپنے ہاتھوں سے آپ ڈبو دی۔۔۔

حمیدہ:خالد صاحب۔

(خالد خاموش رہتا ہے۔)

حمیدہ:(ذرا بلند آواز سے)خالد صاحب!

خالد:(چونک کر)کیا ہے؟۔۔۔ اوہ!حمیدہ تم ہو۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔  شاید گا رہا تھا۔

حمیدہ:میں سن رہی تھی۔

خالد:سن رہی تھیں۔۔۔ کیا سچ مچ؟۔۔۔ تو معلوم ہو گیا نا تمہیں کہ میں کتنا بے سرا ہوں۔۔۔  اور یہ گیت جو میں گا رہا تھا کتنا اوٹ پٹانگ تھا۔ ہاں تو۔۔۔  کیا تمہیں کسی بات کے بارے میں کچھ پوچھنا ہے؟

حمیدہ:میں یہ پوچھنے آئی ہوں کہ کل آپ نے میری غیر حاضری میں کیا کیا؟

خالد:اوہ۔۔۔ تم کل کی بات پوچھ رہی ہو۔ مگر جو کل کی بات ہو چکی۔۔۔  اس کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گی؟

حمیدہ:کیا آپ نے سچ مچ کل شراب پی کر یہاں شور و غل مچایا؟

خالد:یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔

حمیدہ:مجھے یقین نہیں آتا۔

خالد:کہ میں نے تمہارے کہے پر عمل کیا ہو گا؟

حمیدہ:(حیرت سے)میرے کہے پر؟میں نے آپ سے شراب پینے کو کبھی نہیں کہا۔

خالد:تو کیا زہر پینے کو کہا تھا؟

حمیدہ: اور اگر میں نے کہا ہوتا تو؟

خالد:میں کبھی نہ پیتا۔

حمیدہ:کیوں؟

خالد:اس لئے کہ میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں تم محبت کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر میں اس محبت کی شکست پر خود کو ہلاک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پرانے عاشقوں کا فلسفہ میری نگاہوں میں فرسودہ ہو چکا ہے جب تک میں زندہ رہ سکوں گا تمہاری محبت اپنے دل میں دبائے رہوں گا۔تم میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تو میرے زخم ہمیشہ ہرے رہیں گے۔۔۔ جب ایک روگ اپنی زندگی کو لگایا ہے تو کیوں نہ وہ عمر بھر تک ساتھ رہے۔ تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں تو اس  کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی محنت کا گلا گھونٹ دوں۔

حمیدہ:تو آپ نے صرف میری محبت کی خاطر اپنے آپ کو رسوا کیا؟

خالد:ظاہر ہے۔

حمیدہ:لیکن کیا آپ کو اس رسوائی کے علاوہ کوئی  اور  راستہ نظر نہ آیا؟

خالد:کئی راستے تھے لیکن مجھے یہی اچھا نظر آیا۔ تم خود دیکھ لو گی کہ ہینگ پھٹکری لگے بغیر رنگ چوکھا آئے۔۔۔ آج شام ہی کو جب تمہارے گھر میرے کالج سے نکال دینے کی خبر پہنچے گی تو تمہارا وہ کام فوراً ہو جائے گا۔ جس کے لئے تم نے مجھ سے امداد طلب کی تھی۔ نہ میں نے اپنے والدین کی عدول حکمی کی  اور نہ تمہیں اپنے ماں باپ کو ناراض کرنے کا موقع ملا۔ بتاؤ کیا میں نے غلط راستہ منتخب کیا۔

حمیدہ:لیکن یہ بدنامی، یہ رسوائی، جو آپ نے مول لی؟

خالد:مجھے اب شادی نہیں کرنا ہے۔۔۔ جو یہ رسوائی  اور بدنامی میرے حق میں غیر مفید ہو گی۔

حمیدہ: اور اگر آپ کو شادی کرنی پڑی تو؟

خالد:پاگل ہو گئی ہو۔۔۔ جب تم ایسے مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہو جس سے تم محبت نہیں کر سکتیں تومیں کیونکر ایسی عورت سے شادی کر سکتا ہوں جس سے میں محبت نہیں کرتا؟

حمیدہ:ممکن ہے آپ کوکسی سے محبت ہو جائے !

خالد:یہ ناممکن ہے جس طرح تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی اسی طرح میرے دل میں  اور کسی کی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔۔۔  مگر اس گفتگو سے کیا فائدہ۔۔۔ میری روح کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے۔

حمیدہ:آپ نے کیسے کہہ دیا کہ میرے دل میں محبت پیدا نہیں ہو سکتی؟

خالد:میں نے یہ کہا تھا کہ تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی؟

حمیدہ:اگر ہو جائے؟

خالد:(حیرت زدہ ہو کر)یعنی کیا؟

حمیدہ:میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو جائے۔۔۔ ایکا ایکی مجھے ایسا محسوس ہونے لگے کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا۔

خالد:اپنے دل سے پوچھو۔

حمیدہ:ایسی بات پوچھی نہیں جاتی اپنے آپ معلوم ہو جایا کرتی ہے۔۔۔  پڑوسی کے مکان میں اگر آگ لگ جائے تو کیا آپ دوڑے ہوئے اسی کے پاس جا کر پوچھیں گے۔ کیوں صاحب!کیا واقعی آپ کا مکان جل رہا ہے۔

خالد:میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔

حمیدہ:میں ٹھیک سمجھا نہیں سکتی پر اب سمجھنے  اور سمجھانے کی ضرورت ہی کیا ہے جو کچھ آپ چاہتے تھے  اور جس کے متعلق مجھے وہم و گمان بھی نہ تھا۔ آج ایکا ایکی ہو گیا ہے۔

خالد:کیا ہو گیا ہے۔

حمیدہ:میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گئی ہے۔۔۔ اتوار کو ہمارا نکاح ہو رہا ہے۔

خالد:محبت؟میں۔۔۔ تم۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ نکاح۔۔۔ کیسے؟

حمیدہ:مجھے آپ سے شادی کرنا منظور ہے جب گھر میں آپ کے کالج سے نکال دیئے جانے کی بات شروع ہو گی تومیں سارا واقعہ بیان کر دوں گی۔۔۔  اس طرح کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو گی۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ کا ایک برس ضائع ہو گیا۔

خالد:ایک برس ضائع ہو گیا۔۔۔ میں تمہیں اپنا بنانے کے لئے اپنی زندگی کے سارے برس۔۔۔ پر میں کیا سن رہا ہوں۔

حمیدہ:میں اب جاتی ہوں۔ مجھے پرنسپل صاحب سے مل کر یہ کہنا ہے کہ میں اس سال امتحان میں شریک نہیں ہو رہی اگلے برس ہم اکٹھے امتحان دیں گے۔

(چند لمحات خاموشی طاری رہتی ہے۔)

خالد:نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں اس باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھر تھرا رہی ہے  اور میں کس قدر حیرت زدہ ہوں۔۔۔  کس قدر حیرت زدہ ہوں۔

فیڈ آؤٹ


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close