غزل / قمر جلالوی

اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے

آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے

دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں

ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے

دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد

پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے

اے چمن والو! جنوں کی عظمت دیکھ لی

اِن گلوں کو واقفِ چاکِ گریباں کر چلے

اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں

اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے

اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا

داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close