غزل / ماجد صدیقی

چہرۂ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے

بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے

اُس کے لیے جو خود شامت ہے بستی بھر کی

جانے کونسی ساعت، ساعتِ شامت ٹھہرے

جس کے طلوع پہ خود سورج بھی شرمندہ ہے

اور وہ کون سا دن ہو گا جو قیامت ٹھہرے

اہلِ نشیمن کو آندھی سے طلب ہے بس اتنی

پیڑ اکھڑ جائے پر شاخ سلامت ٹھہرے

کون یزید کی بیعت سے منہ پھیر دکھائے

کون حسین ہو، دائم جس کی امامت ٹھہرے

خائف ہیں فرعون عصائے قلم سے تیرے

اور بھلا ماجد کیا تیری کرامت ٹھہرے


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close