گاندھی جی کے بندر

سلیم خان

معروف گاندھیائی مفکر اور  دانشور شری سنکی لال اگروال کے دفتر سے جب ہم نکلے تو ان کی میز پر سے تینوں بندر غائب تھے۔ ہم وہاں سے نکل کر سیدھے وردھا کے سیوا گرام پولس تھانے پہنچ گئے۔ دروازے پر سپاہی عجیب سنگھ بیٹھا اونگھ رہا تھا وہ گویا بیک وقت گاندھی جی کے تینوں بندروں کی ذمہ داری ادا کر رہا تھا۔ نہ دیکھ رہا تھا نہ سن رہا تھا اور نہ ہی کچھ بول رہا تھا۔ ہم نے سوچا موقع غنیمت ہے ورنہ اس کی سیوا کے بغیر اندر حاضری ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔ ویسے ہم لوگوں کو اپنے دفتر اس سرکاری افسران کی خدمت پر ایک محدود رقم خرچ کرنے کی پیشگی اجازت دے رکھی تھی اگر کوئی غیر معمولی مطالبہ کیا جاتا تو اس کی خصوصی اجازت لینی پڑتی تھی۔ پہلے اس کی نوبت کم ہی آتی تھی لیکن اب یہ معمولی بات ہو گئی تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا ہم سیواگرام آشرم سے گاندھی جی کی عینک کی چوری اور اس شکایت میں تاخیر کی تحقیق و تفتیش کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔

پولس تھانیدار کھڑک سنگھ کا دفتر ویران پڑا تھا۔ ہم نے سوچا کہ تھانیدار صاحب بھی شاید اسی مہم پر کہیں باہر نکلے ہوئے ہیں اس خوش فہمی میں گرفتار ہم واپس لوٹے تو اچانک ہمیں آواز آئی ابے یہ تو اب بھی سورہا ہے؟ ہم نے چاروں طرف دیکھا ہمارے آس پاس نہ کوئی آدم نہ آدم زاد!ایک سپاہی تھا جو سورہا تھا پھر یہ آواز کیسی؟اس سے پہلے کہ ہم کسی نتیجے پر پہنچتے دوسری آواز آئی اوئے چپ کر ورنہ جاگ جائے گا تو مسئلہ ہو جائے گا۔ اس بار ہم نے کان لگا کر آواز کوسننے کی کوشش کی تو ہمیں محسوس ہو ا گویا یہ آوازیں ہمارے جھولے کے اندر سے آ رہی ہیں۔ ہمارے لئے یہ دلچسپ انکشاف تھا۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنے جھولے میں ہاتھ ڈالا تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جھولے کے اندر وہ تینوں بندر براجمان تھے۔ ہم نے ان میں سے ایک کو باہر نکالا تو وہ کمبخت اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔ ہم نے کڑک کر پوچھا تم کون ہو؟

وہ بولا صاحب میں۔ میں تان سین ہوں تان سین۔

اور تمہارے ساتھ یہ دونوں کون ہیں ؟

ان میں سے ایک تو نین سکھ ہے اور دوسرا مونی بابا ؟

اچھا تو یہ اندر باتیں کون کر رہا تھا ؟ وہ بولا صاحب یہ میں کیسے جان سکتا ہوں ؟ آپ تو دیکھ ہی رہے ہیں میرے دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھسی ہوئی ہیں۔

ہم نے سوچا بندر کی بات درست ہے ہمیں اس سے یہ سوال ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اب ہم نے دوسرا ہاتھ جھولے میں ڈالا اور دوسرے بندر کو باہر نکال لیا اس نے اپنی آنکھوں کو ڈھانک رکھا تھا ہم سمجھ گئے یہ نین سکھ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ہم نے پوچھا کیوں تم نے ابھی ابھی کچھ کہا یا نہیں ؟ وہ بولا صاحب آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں اس تان سین سے نہیں پوچھتے جو آپ کو بے وقوف بنا رہا ہے ؟

یہ الزام ہمارے لئے بڑا تضحیک آمیز تھا ہمیں بندر کی بات پر بہت غصہ آیا اور ہم اپنا بنیادی سوال بھول گئے۔ ہم نے پوچھا کیوں ؟بھلا یہ ہمیں کیوں کر بے وقوف بنا سکتا ہے ہم تو پہلے ہی سے اچھے خاصے احمق آدمی ہیں۔

نین سکھ بولا اچھا تو آپ اب بھی نہیں سمجھے اس کا مطلب ہے آپ نہ صرف بے وقوف بلکہ سچے آدمی بھی ہیں۔

 ہم نے کہا ہو سکتا ہے لیکن یہ تو تم نے ہمیں دوسری بڑی گالی دے دی خیر یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ؟

کامن سینس صاحب کامن سینس ! اگر یہ ہماری باتیں نہیں سن سکتا تو اس نے آپ کا سوال کیسے سن لیا؟اور آپ کو جواب کیسے دے دیا ؟

 ایک معمولی سے بندر نے ہماری عقل کے چودہ طبق روشن کر دئیے تھے اور ہمیں ڈارون کے فلسفے پر یقین آنے لگا تھا لیکن اس سے پہلے کے ہم سنبھلتے تان سین بول پڑا۔ صاحب یہ جھوٹا ہے اول درجے کا ریا کار آپ اس کی ایک نہ سنیں آپ تو نہایت عقلمند آدمی ہیں۔ تان سین کی زبان سے اپنی تعریف سن کر ہم پسیج گئے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ اس کائنات کی سب سے عقلمند ہستی اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ اس بندر کی ذات ہے جو ہمیں عقلمندی کا سپاس نامہ عطا کر رہی ہے ورنہ اس سے قبل ایسی غلطی کسی سے سرزد نہیں ہوئی تھی۔ ہم نے مسکرا کر پہلے بندر کا شکریہ ادا کیا اور کہا تمہاری بات درست ہے لیکن آخر تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ؟

تان سین مسکرایا اور بولا آپ عقل کے اندھے تو نہیں ہیں لیکن آپ کی بینائی کے بارے میں میرے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ کہیں آپ گاندھی جی کی عینک خود اپنے لئے تو تلاش نہیں کر رہے ؟

اپنے چہیتے بندر کی اس بات نے ہمیں چونکا دیا ہم نے کہا گاندھی جی کی عینک استعمال کریں میرے دشمن۔ میری تو آنکھیں ابھی تک صحیح سلامت ہیں ماشا اللہ۔

 سو تو میں دیکھ رہا ہوں۔ بڑی خوبصورت غزال آنکھیں ہیں آپ کی لیکن میں اس کے اندر پائی جانے والی قوت بصارت کی بات کر رہا تھا۔

 اپنی آنکھوں کی اس تعریف کے بعد ہم یکسر شرما گئے اور لجاتے ہوئے اٹھلا کر بولے کیسی باتیں کرتے ہو ؟ میری بصارت کو کیا ہو گیا ہے ؟ اچھی بھلی تو ہے۔

 اچھا اگر ایسا ہے تو آپ دیکھ نہیں رہے کہ اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ اب جس کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہو وہ بھلا کیسے دیکھ سکتا ہے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا ؟

نین سکھ بولا جھوٹ اور سچ کے درمیان تمیز کرنے کی خاطر آنکھوں کی نہیں کان کی ضرورت پڑتی ہے میری تو آنکھیں بند ہیں لیکن اس کاذب نے کانوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود سب کچھ سن رہا ہے اور پٹر پٹر بول رہا ہے۔ نین سکھ کی بات نہایت معقول تھی لیکن چونکہ تان سین کے خلاف تھی جو ہماری تعریف اور توصیف بیان کرتا رہا تھا اس لئے اس کی دلیل کو تسلیم کرنا ہمارے لئے مشکل ہو گیا۔ آخر حقِ  نمک بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ؟ ہم نے کہا کہ بھائیو میں تم دونوں کے دلائل سے خاصہ کنفیوز ہو چکا ہوں اور فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ کون حق پر ہے کون باطل۔

میری یہ بات سن کر تان سین باغ باغ ہو گیا گویا اس کی من مراد پوری ہو گئی ہو۔ وہ بولا آپ واقعی نہایت حق پسند اور صاف گو صحافی ہیں۔ آپ خود اپنے خلاف بھی کسی حقیقت کا اعتراف کرنے سے نہیں کتراتے۔ ہم نے پھر ایک مرتبہ اپنی پیٹھ تھپتھپائی اور دعا کی کہ کاش یہ بندر حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں موجود ہوتا جو صحافیوں کی تکریم کرتی ہے اور انہیں اعزاز سے نوازتی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ہمیں بھی صحافت کے میدان میں پدم بھوشن نہ سہی پدم شری کا خطاب تو مل ہی جاتا۔ ہم نے شکر و احسان کے جذبات سے سرشار ہو کر اپنے پسندیدہ بندر کی جانب دیکھا اور اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیرنے لگے۔

اس منظر کو دیکھ کر نین سکھ جس نے آنکھوں پر ہاتھ ر کھا ہوا تھا چراغ پا ہو گیا اور بولا جناب یہ آپ کو اپنی باتوں میں الجھا رہا ہے آپ کی بیجا تعریف بیان کر کے آپ کو بہلا پھسلا رہا ہے۔

یہ تہمت ہمارے لئے ناقابلِ برداشت تھی۔ ہم بولے دیکھو تم اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہو۔ ڈارون نے تمہارے بارے میں جو بھی کہا ہو لیکن تم یہ نہ بھولو کہ تم آخر ایک بندر ہو بندر کیا سمجھے۔

میری یہ تضحیک آمیز جھڑکی تان سین پر گراں گزری۔ اس لئے کہ وہ جو بھی تھا تو بالآخر ایک بندر ہی اور یہ اس کی ساری برادری کی توہین تھی۔ اس نے رسوائی کے اس کڑوے گھونٹ کو کسی طرح زہر مار کیا اور بولا جناب آپ اس احمق کے باعث ہماری برادری کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کریں اگر اپنے کنفیوژن کو دور ہی کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے تیسرے بھائی مونی بابا کا تعاون لیں جو آپ کے جھولے سے ہنوز بند ہے ؟

نین سکھ نے اس تجویز پر زوردار قہقہہ لگا کر کہا لو اس کی سنو یہ اس مونی کو اپنے حق میں گواہ بنا رہا ہے جس نے از خود اپنی زبان بند کر رکھی ہے۔ اس کے ایک منہ پر دو دو ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دلیل بھی معقول تھی۔ نین سکھ ویسے تو ساری باتیں معقول کرتا تھا لیکن اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ نہ صرف ہماری تعریف بیان کرنے سے احتراز کرتا تھا بلکہ وقتاً فوقتاً ہماری تذلیل بھی کر دیتا تھا۔ اس کے باعث ہمارے دل میں اس کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے تھے جو اس کی ہر معقول بات کو جلا کر بھسم کر دیتے تھے۔

اس موقع پر تان سین پھر ہماری مدد کے لئے آگے آیا اور کہنے لگا اس عقل کے اندھے کو دیکھئے۔ کیا صحیح بات کو کہنے کے لئے بھلا زبان لازمی ہے ؟

ہمارے پاس اس سوال کا جو جواب تھا وہ اس نین سکھ کے حق میں تھا جو ہمارا دشمن تھا اور تان سین کے خلاف تھا جو ہمارا دوست تھا اس لئے ہم نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ لیکن نین سکھ اس موقع پر خاموش نہیں رہا بلکہ بولا جناب عالی آپ اس کے سوال پر خاموش کیوں ہیں بولتے کیوں نہیں ؟ کیا انسان زبان پر تالا لگا کر سچ بات کہہ سکتا ہے ؟



اس سے قبل کہ ہم مجبور ہو کر اپنی من بھر بھاری زبان کو جنبش دیتے تان سین بول پڑا۔ دراصل یہ احمق آج بھی اس پتھر کے زمانے میں جی رہا ہے جب اظہار رائے کے لئے زبان کی مجبوری تھی، سائنسی ترقی سے بالکل بے بہرہ ہے بیچارہ۔

نین سکھ نے جب اپنے بارے میں بے بہرہ کا لقب سنا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا اور چیخ کر بولا بہرہ ہو گا تو اور تیرا باپ۔ میری تو سماعت الحمد للہ سلامت ہے۔

تان سین مسکرایا اور بولا اس بیچارے کو اردو بھی ٹھیک سے نہیں آتی یہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ بے بہرہ کسے کہتے ہیں اور بے بہرہ جو بھی ہو کم از کم بہرہ نہیں ہوسکتا۔ بے لگا دینے سے ہر لفظ اپنی ضد میں تبدیل ہو جاتا ہے مثلاً بے نقاب، بے ایمان، بے ادب، بے عقل، وغیرہ وغیرہ۔ ہم تان سین کی اس دلیل پر جھوم اٹھے اور کہا کیا بات کہی تم نے لاجواب دلیل ہے صاحب۔

ہماری اس تعریف سے کھسیا کر نین سکھ بولا اچھا تو تمہارے اپنے یعنی بے وقوف اور بے فضول کے بارے میں کیا خیال ہے ؟

تان سین میری جانب دیکھ کر بولا دراصل بے وقوف کون ہے اور عقلمند کون ہے اس کا فیصلہ کرنے کے حقدار تو ہمارے صاحب ہیں لیکن چونکہ وہ ذرا کنفیوژ ہو گئے ہیں اس لئے میں ہمارے بھائی کی مدد لے رہا تھا لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بھائی ہے یا قصائی۔ پہلے تو یہ آپ کی توہین کر رہا تھا اب اپنے بزرگ مونی بابا کا مذاق اڑا رہا ہے۔

نین سکھ بولا اوئے چرب زبان بندر اپنی چاپلوس چونچ کو بند کر اور یہ بتلا کہ وہ جھولے کے اندر بند بیٹھا مونی کیسے اپنا فیصلہ سنائے گا ؟

تان سین بولا اب ہوئی نا کام کی بات اگر کوئی بات معلوم نہ ہو تو سمجھدار لوگوں سے پوچھا جاتا ہے۔ لیکن یہ کام ادب و تمیز کے ساتھ کیا جاتا ہے خیر کوئی بات نہیں جب تو نے پوچھ ہی لیا تو سن۔ فیصلے نہ صرف سنائے جاتے ہیں بلکہ انہیں تحریری شکل میں تم جیسے ڈھیٹ لوگوں کے منہ پر لکھ کر دے مار ا جاتا ہے اور ایسے میں منصف کو فیصلہ لکھنے کے بعد اپنا قلم توڑ دینا پڑتا ہے۔

 ہم پھر ایک بار پہلے بندر کی شاندار دلیل پر جھوم اٹھے اور کہا کیا بات ہے ؟ کیا بات ہے میرے شیر ! تمہیں تو بندر کے بجائے لومڑی ہونا چاہئے تھا۔

نین سکھ بولا لومڑی کیوں ؟

اس لئے کہ اسی کو سب سے عقلمند جانور مانا جاتا ہے۔

تان سین کے چہرے پر میری اس تعریف سے پھر ایک بار ناگواری کے آثار نمودار ہو گئے وہ بولا صاحب ویسے آپ آدمی تو بہت نیک طبع ہیں لیکن بے جا مرعوبیت کا شکار ہیں۔

 ہم نے پوچھا ارے بھئی ہم نے ایسی کون سی بات کہہ دی جو تمہارے حسنِ طبع پر گراں گزری ؟

تان سین بولا بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے آگے لومڑی اور شیر کس کھیت کی مولی ہیں۔ اس سے پہلے تو ہم بس حضرت انسان کو اپنے سے اعلیٰ و ارفع خیال کرتے تھے لیکن آپ سے ملنے کے بعد ہم اپنے اس خیال پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اپنے چہیتے بندر تان سین کی دیگر بہت سی باتوں کی طرح یہ بات بھی ہمارے سر کے اوپر سے نکل گئی لیکن ہم نے حسبِ  عادت استفسار کرنے سے گریز کیا اور سوال کیا بھائی فیصلے تو عدالت میں یقیناً لکھے جاتے ہیں لیکن یہ تمہارا بھائی اپنا فیصلہ کیسے لکھے گا؟

یہ تو بڑا عجیب سوال آپ کر رہے ہیں ارے بھئی جیسے کو ئی پڑھا لکھا انسان لکھتا ہے اسی طرح لکھے گا۔ ہمارے مونی بھی کوئی کم عالم فاضل تھوڑے ہی ہیں وہ تو اس کی انکساری ہے جو انہوں نے اپنی تھیسس نہیں لکھی ورنہ انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینا آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی درسگاہوں کے لئے اعزاز کی بات ہوتی۔

نین سکھ بولا یار اب تو تم کچھ زیادہ ہی بول گئے کیا کیمبرج وغیرہ کی ڈگری پیڑوں کی شاخوں پر لٹکی ہوئی ہوتی ہیں جو کوئی لنگور پھدک کر اچک لے ؟

تان سین اس بات پر چراغ پا ہو گیا اور بولا تم جیسے احساسِ کمتری کا شکار لوگوں کی وجہ سے اس دنیا میں ہماری نسل عزت و توقیر سے محروم ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے ساری دنیا کی درسگاہوں پر ہمارا بول بالا ہوتا۔

ان دونوں بندروں کی لڑائی میں ہمیں غور و فکر کرنے کا نادر موقع مل گیا۔ ہم نے کہا تم کیسے گاندھی وادی بندر ہو جو عدم تشدد کا راستہ چھوڑ کر لڑائی جھگڑے پر تلے ہوئے ہو؟ہم نے بندر بانٹ کا پانسہ ڈالتے ہوئے کہا میں مانتا ہوں کہ تمہارا بھائی لکھنا پڑھنا جانتا ہے لیکن فی الحال میرے پاس قلم قرطاس بھی تو نہیں جو اس پر فیصلہ لکھوایا جا سکے۔

تان سین بولا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ویسے بھی آج کل لوگ قلم دوات سے لکھتے ہی کب ہیں ؟

نین سکھ نے حیرت سے پوچھا۔ اچھا اگر قلم دوات سے نہیں تو کس چیز سے لکھتے ہیں بھلا؟

بھئی زمانہ بدل گیا تان سین اکڑ کر بولا آجکل تو لوگ کمپیوٹر یا فون کے ‘کی بورڈ ’سے لکھتے ہیں اور کاغذ کے بجائے مانیٹر پر اسے پڑھ لیتے ہیں۔

ہاں ہاں وہ تو مجھے پتہ ہے لیکن کیا تمہارا مونی بابا بھی کمپیوٹر چلانا جانتا ہے ؟

 آپ یہ کیسا سوال کر رہے ہیں کمپیوٹر تو کیا وہ ہوائی جہاز چلانا بھی جانتے ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے منہ سے بولتے نہیں اس لئے کوئی ان کی قدر نہیں کرتا۔

تان سین اور مونی بابا کے آگے ہمیں اپنی کم مائے گی کا احساس ہوا ہم نے کمرے میں ایک جانب اپنا لیپ ٹاپ نکال کر کھولا اور جھولے سے مونی بابا کو نکال کر اس کے سامنے بٹھا دیا۔ مونی بابا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ لپک کر کمپیوٹر چلا دیا اور ایم ایس ورڈ کا صفحہ کھولا۔ کی بورڈ کی سیٹنگ کو بدل کر اسے اردو فونیٹک میں تبدیل کیا اور فیصلہ لکھنے کی ابتداء کر دی۔ سب سے اوپر درمیان میں لکھا شروع اللہ کے نام سے۔ پھر نیچے بائیں جانب کنارے تمہید لکھا اور اس کے آگے یوں لکھنے لگا۔ ہم سب ریا کار ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں۔ ہم سنتے ہیں مگر وہی جو ہم چاہتے ہیں اور ہم بولتے ہیں مگر وہ نہیں جو ہمیں بولنا چاہئے۔ اس بیچ پہرے پر بیٹھے ہوئے سپاہی کی آنکھ کھل گئی اس نے دیکھا سامنے ایک بندر کمپیوٹر پر کچھ لکھ رہا ہے اسے لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے بھیانک خواب گھبرا کراس نے پھر اپنی آنکھیں موند لیں اور خوابِ خرگوش میں کھو گیا۔

تدوین  :  اعجاز عبید


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close