مکاتیب مجید امجد

غلام شبیر رانا

عالمی ادبیات کا بہ نظر غائر جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ادب میں دل چسپی، دل کشی، رنگینی اور رعنائی کے اتنے مناظر جمع ہو جاتے ہیں کہ قاری ان کے سحر میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ اس کے باوجود ایک صنف ادب ایسی بھی ہے جس میں بہ زبان قلم تخلیق کار قاری کے ساتھ  ہم کلام ہو کر اسے اپنے حال دل سے آگاہ کرتا ہے اور قلب ا ور روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اثر آفرینی کا جادو سر چڑھ کر بو لتا ہے۔ یہ فن مکتوب نگاری ہے جس کی کشش اپنی مثال آپ ہے۔ خط کی ترسیل دراصل تزکیہ نفس کی ایک صورت ہے۔ مکتوب نگار اپنے جذبات، احساسات، مشاہدات، تاثرات اور داخلی و خارجی کیفیات کو بلا کم و کاست مکتوب الیہ تک پہنچا کر ایک اعتبار سے اسے اپنے خیالات میں شریک کر لیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ اور مواصلات کی موجودہ برق رفتار ترقی سے قبل صدیوں سے مکاتیب افراد معاشرہ کے ما بین رابطے کا اہم ترین اور موئثر ترین وسیلہ رہے ہیں۔ حرف صداقت لکھنے کی یہ نہایت عمدہ صورت ہے کہ مکتوب نگار اپنی قلبی کیفیات کو صفحۂ قرطاس پر  منتقل کر کے مکتوب الیہ کو اپنے جذبات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس تخلیقی عمل کے معجز نما اثر سے مکتوب نگار کی شخصیت کے متعدد گوشے سامنے آتے ہیں۔ مکتوب نگار کی شخصیت کی تفہیم اور اس کے جذبات  اور میلانات کی گرہ کشائی میں خطوط کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ دل کی بات نوک زباں سے نوک قلم تک آتے آتے کئی روپ بدلتی ہے اور جب الفاظ سوجھتے ہیں تو ان کی معنی خیزی سے خیالات میں تلاطم پیدا ہو جاتا ہے۔ لسانی اعتبار سے خط کی تحریر ایک ایسی گفتگو ہے جو قلم و قرطاس کے حوالے سے انتہائی معتبر صورت میں سامنے آتی ہے۔ ایک مقبول صنف ادب کی حیثیت سے مکتوب نگاری نے ہر عہد میں اپنی مقبولیت اور اہمیت کا لوہا منوایا ہے۔ ایک زیرک مکتوب نگار جب قلم اور قرطا س کے ذریعے مکتوب الیہ سے ہم کلام ہوتا ہے تو ان کے مابین قلبی، روحانی اور وجدانی سطح پر ایک رابطہ استوار ہو جاتا ہے۔

مجید امجد جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں شامل ہیں۔ ان کا حلقۂ احباب نہایت وسیع تھا۔ جب وہ ’’   ہفت روزہ عروج ‘‘جھنگ کے مدیر تھے تو ان کے نام کافی خط  آتے تھے۔ ان کے  جواب وہ  نہایت باقاعدگی کے ساتھ  ارسال کرتے مگر اب یہ جواب کہیں دستیاب نہیں۔ انھوں نے اپنے قریبی احباب اور مداحوں کے نام جو خطوط ارسال کیے وہ بھی نایاب ہیں۔ سب سے بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے کہ انھوں نے جھنگ سے باہر ملازمت کے سلسلے میں  اپنے قیام کے دوران میں اپنے اہل خانہ کو جو مکاتیب ارسال کیے ان کا بھی کہیں اتا پتا نہیں ملتا۔

چندر روز قبل مجھے کراچی سے ممتاز علم دوست اور ادب پرور شخصیت عزیز خان صاحب  نے فون پر مطلع کیا کہ امریکہ میں مقیم ان کے بہنوئی شاہد سلیم جعفری صاحب جو کہ مجید امجد کے قریبی دوست رہے ہیں، ان کے پاس مجید امجد کے مکاتیب کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ یہ سنتے ہی میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے ان سے استدعا کی کہ وہ میرا جلد از جلد محترم شاہد سلیم جعفری صاحب سے رابطہ کرا دیں۔ مجھے احساس تھا کہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا محترم عزیز خان صاحب کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ شاید دس منٹ بعد  اسی روز  شام کا وقت تھا میں مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر تسبیح میں مصروف تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے  فرط اشتیاق سے ٹیلی فون سنا دوسری طرف سے دردمندی اور خلوص سے لبریز ایک مشفقانہ  آواز آئی :

’’السلام علیکم !میں امریکہ سے شاہد سلیم جعفری بول رہا ہوں۔ میں نے آپ کا مضمون ’’مجید امجد :ہے جس کے لمس میں ٹھنڈک وہ گرم لو تیرا غم ‘‘پڑھا ہے۔ یہ اس قدر موثر ہے کہ دوران مطالعہ میری آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں۔ میر ا تعلق ساہیوال سے ہے اور جن دنوں مجید امجد یہاں  محکمہ خوراک میں افسر تھے میرے ان کے ساتھ قریبی مراسم تھے۔ جب میں ساہیوال سے چلا گیا تو اس کے بعد بھی یہ رابطے مجید امجد نے زندگی بھر برقرار رکھے۔ ان کے بہت سے خط میرے پاس محفوظ تھے مگر کچھ بار بار کی نقل مکانی کے باعث گم ہو گئے۔ اب کچھ خطوط میرے پاس موجود ہیں۔ ان کے مطالعہ سے میں ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف رہتا ہوں۔ مجید امجد نے میرے ساتھ اعلیٰ اخلاق اور اخلاص سے لبریز جو سلوک زندگی بھر روا رکھا جہاں وہ میری خوش قسمتی ہے  وہاں ان کی عظمت کی بھی دلیل ہے۔ ‘‘



میں نے بڑی توجہ سے یہ تمام باتیں سنیں۔ مجید امجد کے مکاتیب کی اشاعت کے سلسلے میں میری امید بر آئی، میری دعا قبول ہوئی اور اس عظیم نظم گو  شاعر کی نثر سے آشنا ہونے کی ایک صورت نظر آئی۔ میں نے جواب میں کہا ’’ان خطوط کو شائع ہونا چاہیے۔ ان کی اشاعت  سے اردو ادب کی ثروت میں اضافہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مجید امجد کی زندگی اور اس کے تخلیقی محرکات کے بارے میں بھی آگہی ملے گی۔ آپ نے مجید امجد کی رفاقت میں جو وقت گزارا ہے اس کی یادداشتیں بھی آپ لکھیں تا کہ ادب کے قاری کو مثبت شعور و آگہی سے متمتع کیا جا سکے۔ ‘‘

شاہد سلیم جعفری صاحب نے جواب میں فرمایا :’’آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر یہ مکاتیب ضرور کتابی صورت میں زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین ادب تک پہنچیں گے۔ میرا ان سے زندگی بھر کا جو تعلق اور معتبر ربط رہا  اور جو عہد وفا میں نے اس عظیم انسان کے ساتھ استوار کیا اس کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی یہ اما نت  قارئین ادب تک بلا تاخیر پہنچا دوں۔ ‘‘

محترم شاہد سلیم جعفری صاحب سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی، اس کے باوجود ان کی باتیں سن کر یوں محسوس ہوا جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ان کی باتیں قلب اور روح کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئیں ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ ان کی عظیم شخصیت کی غمازی کر رہا تھا۔ ۔ مجید امجد نے اپنے بارے میں کہا تھا کہ :

میری مانند، خود نگر، تنہا

یہ صراحی میں پھول نر گس کا

اتنی شمعیں تھیں تیری یادوں کی

اپنا سایہ بھی اپنا سایہ نہ تھا

وقت کی سر حدیں سمٹ جاتیں

تیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا

امجد ان آنسوؤں کو آگ لگے

کتنا نرم اور گراں ہے یہ دریا

یہ آج سے کوئی تیس برس قبل کی بات ہے کہ جھنگ کے ممتاز ادیب امیر اختر بھٹی میرے پاس آئے۔ ان کی خواہش تھی کی مجید امجد کے خطوط کو یک جا کر کے کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ جن مشاہیر ادب سے مجید امجد کی خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا ان میں شیر محمد شعری، تقی الدین انجم (علیگ)، صاحب زادہ رفعت سلطان، الحاج سید غلام بھیک نیرنگ، سید مظفر علی ظفر، محمد شیر افضل جعفری، کبیر انور جعفری، خادم مگھیانوی، سمیع اللہ قریشی، غلام محمد رنگین، بلال زبیری، رانا سلطان محمود، غلام علی چین، اللہ دتہ سٹینوِ، پروفیسر محمد حیات خان سیال، پروفیسرخلیل اللہ خان، حاجی محمد یوسف، سید جعفر طاہر اور ڈاکٹر عبدالسلام کے نام قابل ذکر ہیں۔ امیر اختر بھٹی نے  مجید امجد کے مکاتیب کے حصول کی مقدور بھر کوشش کی لیکن انھیں اس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ بھلوال میں مقیم مجید امجد کے ایک دوست اور مداح فیض لدھیانوی کے پاس بھی مجید امجد کے خطوط کا ایک ذخیرہ تھا۔ جن شخصیات کے پاس یہ خطوط تھے وہ انھیں دل و جاں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے لیکن ان کی اشاعت کی نو بت نہ آسکی۔ رام ریاض  کے پاس بھی مجید امجد  چند خطوط تھے جن کا میں نے مطالعہ کیا۔ مجید امجد اپنے خطوط کو ایک جام جہاں نما بنا دیتے ہیں۔ وہ بہترین خیالات کو بہترین الفاظ کے ذریعے عمدہ ترین اسلوب کو منتخب کر کے صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے تھے۔ ان کی عظیم شخصیت کے تمام اہم پہلو ان کے خطوط میں جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا خلوص، دردمندی اور بے تکلفی ان کے خطوط  میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ انسانی زندگی کے جملہ نشیب و فراز ان کے خطو ط میں سمٹ آئے ہیں۔ مجید امجد کے خطوط کو ایک سماجی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ وہ اپنے خطوط میں مکتوب الیہ کو اپنے حقیقی جذبات اور احساسات سے روشناس کرانے میں کوئی تامل نہیں کرتے۔ ا س لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اپنے خطوط کے معجز نما اثر سے قاری کے احساس و ادراک کو مہمیز کر کے اسے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ ان کی مکتوب نگاری کے متعدد لا شعوری محرکات ہیں لیکن ان کے بیان کردہ واقعات اور تجربات و مشاہدات چونکہ حرف صداقت کی عمدہ مثال ہیں اس لیے وہ قاری کے شعور پر دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان خطوط کے مطالعہ سے نہ صرف مکتوب الیہ بلکہ ادب کے تمام قارئین کے سچے جذبات اور قلبی احسات کی تہذیب و  تزکیہ کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ جہاں یہ مکاتیب مکتوب نگار کے لیے تز کیہ نفس کا وسیلہ ہیں وہاں قاری کے ذوق سلیم کو صیقل کرنے میں ان سے مدد ملتی ہے۔

مجید امجد کی زندگی  جانگسل تنہائیوں کے باعث کراہتے لمحوں میں ڈھل گئی۔ موج اشک پہ ان کی زندگی بجھ بجھ کے جلتی رہی، ظلم کی شمشیر تھی کہ پیہم چلتی رہی مگر کوئی ان کا پر سان حال نہ تھا۔ اس کے بعد مجید امجد کے نہ ہونے کی ہونی کا وقت  آپہنچا۔ امیر اختر بھٹی نے ساہیوال میں  ان سے آخری ملاقات کی۔ ان دنوں مجید امجد اپنی زندگی کے کڑے امتحان سے گزر رہے تھے اپنی تمام عمر وہ  جان لیوا یادوں، جانگسل تنہائیوں اور نا آسودہ خواہشوں کی بھینٹ چڑھا چکے تھے۔ اپنے لیے انھوں نے اپنی عمر کا کوئی حصہ پس انداز نہ کیا۔ تمام عمر انتہائی راز داری سے کام لیتے ہوئے  سوچ کی بے حرف لو کو فروزاں رکھنے والے  اس دردمند اور حساس تخلیق کار کو حالات اس سمت میں لے گئے کہ وہ  نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتے ہوئے لمحہ لمحہ وقت کی تہہ میں اترتے چلے گئے اور ایک دن بالآخر یہ قلزم خوں پارکر گئے۔ مجید امجد کو اس بات کا قلق تھا کہ اللہ کریم کو اپنے ایک عاجز بندے کی فلاح کی کوشش میں انتہا درجے کی عنایت کو  بروئے کار لانا چاہیے تھا۔ جب بھی ان مسموم حالات کا ذکر آتا تو امیر اختر بھٹی کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برسنے لگتیں۔ اپنے قریبی عزیز مجید امجد کے آخری ایام کے بارے میں جب بھی کچھ کہنے کی کوشش کرتے تو گریہ گلو گیر ہو جاتا اور الفاظ ان کا ساتھ نہ دیتے۔ مجید امجد کی زندگی کے آخری ایام کی تنہائیوں اور آلام روزگار کے مہیب ماحول کو دیکھ کر ان کے حالات کی ترجمانی کرتے ہوئے وہ جب بھی شہر یار کا یہ شعر پڑھتے تو سامعین زار و قطار رونے لگتے :

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

میں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے

مجید امجد کی نثر اور نظم میں ایک تعمیری انداز فکر موجود ہے۔ ان کا اسلوب ان کی ذات ہے۔ ان کی تحریروں سے ان کی ذات کے جملہ موسم منعکس ہوتے ہیں۔ قحط الر جال کے موجودہ زمانے میں خلوص و مروت عنقا ہے۔ مجید امجد نے انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو ہمیشہ کلید ی اہمیت دی۔ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حساس تخلیق کار کو دکھی انسانیت کے مسائل جامد و ساکت مجسموں  اور سنگلاخ چٹانوں کے سامنے پیش کرنا پڑتے ہیں۔ فرد کی عدم شناخت اور بے چہرگی کا مسئلہ روز بہ روز گمبھیر صورت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ زرق برق لباس پہنے اور حسین و جمیل جسموں کے مقبروں میں مدفون بے حس روحیں اور چلتے پھرتے ہوئے مردے انسانیت کے مسائل کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟۔ مجید امجد نے احباب کے ساتھ معتبر ربط کو ہمیشہ اپنا نصب العین سمجھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مقتل وقت میں ان کی سوچ کو ایک لہکتی ڈال کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مکاتیب کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ عرض نوائے حیات نہ صرف گہرے اور دل نشیں لہجے  میں کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے سینے پر اپنے سوز دروں اور دردو غم کی سل رکھ کر مکتوب الیہ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں جو والہانہ پن، خلوص، بے تکلفی اور دردمندی ہے وہ قلب اور روح کی گہرائیوں میں اتر کر قاری کو ایک جہاں تازہ کی نوید سناتا ہے۔ مراسلے کا مکالمہ بنانے کی روایت کو انھوں نے خون دل دے کر نکھارا:

یہ دوریوں کا سیل گراں، برگ نامہ، بھیج

یہ فاصلوں کے بند گراں، کوئی بات کر

آ ایک دن، مرے دل ویراں میں بیٹھ کر

اس دشت کے سکوت سخن جو سے بات کر

امجد  نشاط زیست اسی کشمکش میں ہے

مرنے کا قصد، جینے کا عزم، ایک ساتھ کر

مکاتیب کے ذریعے مجید امجد نے امید دید دوست کی دنیا بسا کے احباب کے ساتھ ربط کی مقدور بھر سعی کی۔ ان کی زندگی میں ایسے سخت مقام  بھی آئے جب سفاک ظلمتوں میں مہر و ماہ کی شمعیں بھی گل ہو گئیں۔ اس کے باوجود وہ رخت غم دل اٹھائے صبح  طرب کی جستجو میں آبلہ پا مسافر کے مانند سر گرم سفر رہے۔ وہ ڈوبتے لمحوں میں بھی یاد یار کی رعنائیوں اور ربط کو مشعل راہ خیال کرتے تھے۔ ان کے مکاتیب در اصل مہجور یادوں کے وصل کی صورت بن جاتے ہیں۔ محترم شاہد سلیم جعفری کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے جہاں اندر جہاں کی جستجو کی اور بہار کی یاد میں ایک ایسا ترانہ چھیڑا جس کے معجز نما اثر سے سکوت چمن کا خاتمہ ہوا اور مجید امجد کی حیات، ادبی خدمات اور اسلوب کے بارے میں مثبت شعور اور آگہی پید کرنے کی صورت پیدا ہوئی۔ فکر راز ہستی کے ایسے پرستار کے خلوص اور بے لوث محبت کو دیکھ کر ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ انھوں نے مجید امجد کے کنج دل میں گونجنے والے زمانے سے قارئین ادب کوروشناس کرا کے بلا شبہ ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔ تاریخ ادب میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

1 thought on “مکاتیب مجید امجد”

  1. ڈاکٹر غلام شبیر رانا کا خاصا ہے کہ وہ کسی تحریر پر اپنے خیالات کو محو ہونے سے پہلے کاغذ پر نتقل کر دیتے ہیں؛اور کسی فن پارے یا تحریر پر تبصرے کی یہ بہترین صورت ہے۔اس مضمون کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close