حیدر قریشی کے تبصرے، تاثرات

تمنا بے تاب (یاد نگاری)

رشید امجد جدید اردو افسانے کا ایک اہم اور معتبر نام ہیں۔ ’’تمنا بے تاب’‘ ان کی خود نوشت سوانح ہے لیکن کتاب کے آغاز میں انہوں نے یہ وضاحت کر دی ہے۔ ۔ ۔
’’معروف معنوں میں یہ خود نوشت نہیں بلکہ یادیں، خیالات، تجزیے اور مختلف اشیاء کے بارے میں میرے نقطہ ہائے نظر ہیں جن میں میری نجی زندگی اور میرا عہد دونوں شامل ہیں …اس میں زمانی ترتیب نہیں جس طرح کوئی ذکر آیا ہے اور بات میں سے بات نکلی ہے، میں نے اسے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ خود میری زندگی ایک تمنائے بے تاب ہے، عاشقی کے لیے جو صبر طلبی چاہیے وہ مجھ میں نہیں …ان یادداشتوں میں ذاتی احوال کے ساتھ ساتھ بعض ایسی بحثیں بھی شامل ہیں جو کسی حد تک مضمون بن گئی ہیں۔ اسی طرح بعض تجزیے خاصے پھیل گئے ہیں لیکن یہ سب میری زندگی کا حصہ ہیں۔ میں ان سب میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود ہوں ’‘
رشید امجد کی یہ وضاحتیں اس خود نوشت کو پڑھتے ہوئے بہت سے سطحی اور مدرسانہ نوعیت کے اعتراضات سے نجات دلا دیتی ہیں۔ بلا شبہ اس خود نوشت کی حدیں کہیں خود نوشت کی مقرر و معین حدود سے باہر تک جاتی ہیں اور کئی مقامات پر معین حدود سے بھی کہیں اندر تک سمٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ ایک عام سے ادیب کی خود نوشت ہوتی۔ رشید امجد جیسے مجتہد جدید افسانہ نگار کی خود نوشت نہ ہوتی۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ایک طرف رشید امجد کی ذاتی زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوتی ہے تو دوسری طرف راولپنڈی، اسلام آباد کے ادیبوں کے مختلف النوع احوال بھی معلوم ہوتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی بیورو کریسی اور سیاستدانوں کے اندر خانوں کے حالات معلوم ہوتے ہیں تو دوسری طرف وقفے وقفے سے جمہوریت کا گلا گھونٹنے والے فوجی حکمرانوں کے کارنامے بھی سامنے آتے ہیں۔ دنیا داروں کی باتیں ملتی ہیں تو ساتھ ہی تصوف کی پرا سرار روحانی لہروں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔
رشید امجد کو پاکستان میں نو ترقی پسند لکھنے والوں کا قافلہ سالار کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے بارے میں میں نیم دہریہ یا مذہب بیزاری کا فتویٰ آسانی سے دیا جا سکتا ہے۔ نجی زندگی میں عام گفتگو میں وہ کچھ ایسے ہی رہے ہیں لیکن جب اس کتاب میں رشید امجد کے نفس سے اوپر اٹھ کر صوفیانہ قسم کے تجربات سامنے آتے ہیں تو بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ رشید امجد بھی غالبؔ کی طرح ؎ ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
بحیثیت ادیب رشید امجد کی داستان ان لفظوں میں سمٹ آتی ہے۔ ’’کہتے ہیں کوئی درویش ہمیشہ یہ دعا مانگتا تھا کہ ’’اے خدا مجھے مضطرب رکھ ‘‘۔
کسی نے کہا ’’تو عجب شخص ہے، لوگ خدا سے اطمینان مانگتے ہیں اور تو اضطراب کا طالب ہے ‘‘۔ درویش بولا ’’یہ اضطراب ہی تو میرے ہونے کی دلیل ہے’‘ سو میں بھی ہمیشہ اضطراب کی دعا مانگتا ہوں کہ میرا بے چین ہونا، میری تحریروں کی زندگی ہے۔ میرے عہد کے جو لکھنے والے بے چینی کی دولت سے عاری ہیں، وہ قصیدے لکھ رہے ہیں، لطیفے سنا رہے ہیں اور تالیاں پٹوار ہے ہیں۔ ان میں اور شو بزنس کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان کی زندگی سٹیج پر پردہ گرنے تک محدود ہے۔ اس لئے ہر لکھنے والے کو انتخاب کرنا پڑتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ ویسے انتخاب کا مرحلہ تو ہر لمحے موجود ہوتا ہے۔ ’‘
رشید امجد نے چونکہ اپنی یادوں کو آزادانہ طور پر بیان کیا ہے اس لئے کہیں کہیں بلا ارادہ ان سے واقعات کے بیان میں سہو بھی سرزد ہوئے ہیں۔ مثلاً اسلام آباد کی جس اہلِ قلم کانفرنس میں جنرل ضیاع الحق نے نام لئے بغیر بعض ادیبوں کے خلاف تقریر کی تھی۔ اس کے احوال میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا ہے کہ اس کانفرنس کے بعد ہم دونوں (رشید امجد اور میں )بدمزگی کے ساتھ پنڈی واپس آرہے تھے…وغیرہ۔
اس حوالے سے وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ کانفرنس میں مدعو کئے جانے کے باوجود میں نے شرکت نہیں کی تھی(البتہ اس سے ایک سال پہلے والی کانفرنس میں شرکت کر چکا تھا۔ تب رشید امجد کے ایماء پر میں نے ایک ’’خاص قرار داد’‘ پیش کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن جیسے ہی ڈاکٹر وزیر آغا کو اس کے بارے میں علم ہو ا انہوں نے مجھے سختی سے اس ’’جرات رندانہ’‘ سے باز رہنے کی تاکید کر دی)اس لئے وہاں سے واپسی پر ہم دونوں کے بہائی سینٹر جانے کی بات درست نہیں ہے۔ البتہ ایک اور موقعہ پر بعینہ وہ ساری باتیں ہوئی تھیں جو رشید امجد نے لکھی ہیں۔ بس اپنے زمانی اعتبار سے دو الگ الگ قصے گڈمڈ ہو گئے ہیں تاہم ان سے مذکورہ واقعات کی روح اپنی جگہ قائم رہتی ہے ایک عرصہ کے بعد لکھتے ہوئے کبھی کبھی ایسا سہو یا زبانی مغالطہ ہو جاتا ہے۔
پاکستانی قوم کو اس کے حکمرانوں اور بیورو کریسی نے مل کر کس کس طریقے سے لوٹا ہے اس کی ایک جھلک بھی رشید امجد کی کتاب ’’تمنا بے تاب’‘ سے دیکھ لیں۔ رشید امجد لکھتے ہیں۔
’’گزشتہ دنوں میں ذکریا یونیورسٹی ملتان میں گیا تو ایک شام ملک ظفر نے ایک حیرت انگیز بلکہ نا قابلِ یقین واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے ایک گورنر کو جو صاحبان عالیشان میں سے تھا، بہاول پور کے علاقہ میں مربعے الاٹ ہوئے۔ ایک دن گورنر نے کمشنر بہاول پور سے فون پر پوچھا کہ ان مربعوں کی مالیت کیا ہو گی؟کمشنر نے یونہی نمبر بنانے کے لیے کہہ دیا’’سر!تقریباً ایک کروڑ’‘
گورنر نے کہا ’’تو ایک ہفتہ میں مربعے بیچ کر کروڑ روپے انہیں بھجوا دئیے جائیں۔ ’‘
کمشنر کو مصیبت پڑ گئی۔ وہ تواس نے یونہی نمبر بنانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ مربعے چند لاکھ سے زیادہ کے نہ تھے۔ انہوں نے اپنے ماتحتوں کو بلایا کہ اب کیا کریں ؟۔ میٹنگ میں ایک ایس پی بھی تھے۔ انہوں نے کہا’’سر!آپ اجازت دیں تو میں ایک راستہ بتاتا ہوں۔ ’‘ ……کمشنر نے کہا ’’وہ کیا؟’‘
اس نے کہا ’’مقامی نیشنل بنک کی شاخ میں تین چار کروڑ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ آپ اجازت دیں تو آج رات اس پر ڈاکہ پڑوا دیتے ہیں۔ ’‘۔ ۔ رات کو بنک پر ڈاکا پڑا اور دو کروڑ لوٹے گئے۔ ایک کروڑ تو گورنر کو بھیج دیئے گئے اور ایک کروڑ متعلقہ انتظامیہ میں بٹ گئے۔ صبح چوری کا پرچہ درج ہو گیا۔ کچھ عرصہ ذکر اذکار ہوا پھر داخل دفتر۔ ’‘
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رشید امجد کی اس خود نوشت کا کینوس کتنا وسیع ہے اور اس میں کیسی کیسی تلخ سچائیاں بھری ہوئی ہیں۔ اصل کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ادیبوں کی سوانح نگاریوں میں یہ کتاب اپنی ایک الگ پہچان رکھے گی۔
٭٭

نئے تنقیدی مسائل اور امکانات(تنقیدی مضامین)

کرامت علی کرامت سینیئر لکھنے والے ہیں۔ تخلیق کے ساتھ تنقید کے میدان میں بھی ان کے فکری جو ہر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ’’نئے تنقیدی مسائل اور امکانات’‘ کے مضامین سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ادبی منظر نامہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ادب کی تفہیم کے لیے ان کے سامنے کیا معیارات ہیں۔ ہماری تنقید میں جو عمومی انداز اختیار کیا جاتا ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو کرامت علی کرامت کے مضامین زیادہ بہتر انداز سے سامنے آتے ہیں۔ تاہم مجھے لگا کہ وہ بعض امور میں کسی بہتر نتیجہ تک پہنچنے کی بجائے کہیں آس پاس ہی رہ جاتے ہیں۔ صرف دو مثالوں پر اکتفا کروں گا۔ ’’تحقیق و تنقید بحیثیت تخلیقی ادب’‘ میں انہوں نے تحقیق و تنقید کو بھی تخلیقی ادب کے دائرے میں شمار کیا ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت دور تک گھوم آنے کے بعد بھی اصل بات تک پہنچے نہیں بس اس کے آس پاس رہ گئے۔ کوئی بھی تخلیق کار جب کسی تخلیقی عمل سے گزرتا ہے تو اس کی معلومات(تحقیق)پہلے سے اس کے شعور و لاشعور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب وہ اپنے تخلیقی عمل سے گزرتے ہوئے اسے خوب سے خوب تر پیش کرنا چاہتا ہے تو یہ در اصل اس کا تنقیدی عمل ہوتا ہے۔ یوں تحقیق و تنقید اصلاً تخلیقی ادب کا حصہ نہیں بلکہ جزوی حصہ ہیں۔ کرامت صاحب اس نتیجہ تک نہیں پہنچے، البتہ اس کے قریب سے گزرتے گئے۔ ایک اور مضمون ’’اسلام اور صنفِ شاعری ‘‘ میں انہوں نے از روئے قرآن شاعری کی ممانعت کے پہلو کو سمجھا ہے اور پھر بعض احادیث اور تاریخی روایات سے شاعری کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جن احادیث اور روایات سے انہوں نے یہ جواز دئیے ہیں مستحسن ہیں۔ مثالی ریاست سے شاعروں کو بے دخل کر دینے کے باوجود اچھی شاعری کے لیے یونانیوں نے بھی گنجائش رکھی ہوئی تھی۔ ایسی شاعری جو دیوی، دیوتاؤں کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو احادیث اور دوسری روایات سے پیش کیا گیا جواز بڑی حد تک یونانیوں کے نظریہ ہی سے مماثلت رکھتا ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ قرآن کا شاعری کا تصور بہت واضح ہے۔
’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کن کن وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے’‘
اس سے شاعری کا جو قرآنی تصور میری سمجھ میں آتا ہے، یہ ہے کہ شاعر کے ظاہر اور باطن میں ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ اس کی شاعری اس کے باطن کی داستان بیان کرے، نہ کہ محض فرضی محبوب اور فرضی تصورات پر مبنی ہو۔ جب باطن کے ساتھ ہم آہنگی ہو گی تو کوئی شاعر پر اعتراض نہ کرے گا۔ یوں قرآن کے اس فرمان سے مجھے محسوس ہوا کہ ایسے نظریاتی شاعروں کے بر عکس جو ائیر کنڈیشنڈ ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر مزدوروں، کسانوں، غریبوں کی زندگی سنوارنے کی شاعری کرتے ہیں وہ شاعر زیادہ بہتر ہیں جو کارزارِ حیات سے گزرتے ہوئے اپنے تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح داخلی و نفسیاتی معاملات کا اظہار بھی داخل و خارج میں ہم آہنگی کو ظاہر کرے گا اور از روئے قرآن شاعر جو کچھ کہہ رہا ہو گا دراصل وہی اس کا طرزِ زندگی بھی ہو گا۔ یوں میرے نزدیک قرآن شریف شاعری کی ممانعت نہیں کرتا بلکہ ایک واضح تصورِ شاعری بیان کرتا ہے۔ اور اپنے داخل کے بر عکس شاعری کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔ کرامت صاحب مذکورہ آیت درج کرنے کے باوجوداس پر اس زاویے سے زیادہ غور نہ کر سکے۔ تاہم ان کے اس مضمون کو پڑھتے ہوئے مجھے اس تفہیم تک رسائی کا موقعہ مل گیا، جس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔ شاید اسی کو چراغ سے چراغ جلانا کہا جاتا ہے۔ کرامت علی کرامت صاحب نے ساختیات کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، اس پر اب مزید کیا عرض کیا جائے کہ اس عرصہ میں نہ صرف پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ گیا ہے بلکہ کئی پُل اور ڈیم بھی بہہ گئے ہیں۔ کرامت علی کرامت کی تنقید وہاں اپنی خوبیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے جہاں وہ زیادہ سے زیادہ ادب کی تفہیم پر توجہ دیتے ہیں۔ ادب کی تفہیم کے لیے ان کا رویہ سمجھانے سے زیادہ سمجھنے کا ہوتا ہے۔ فن پارے کے باطن تک رسائی کے لیے اپنی پوری سوجھ بوجھ کو بروئے کار لاتے ہیں۔
اس مجموعہ میں ۳۶ مضامین شامل ہیں، ان میں نظری مباحث بھی ہلکے پھلکے انداز میں آ گئے ہیں۔ بعض اصناف اور بعض شاعروں ادیبوں کے حوالے سے انفرادی نوعیت کے مضامین بھی شامل ہیں اور اپنی مقامی زبانوں کے شعرو ادب کے ساتھ اردو کے میل ملاپ کا منظر بھی ہے۔ مجموعی طور پر کرامت علی کرامت ان سکہ بند نقادوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو سرا پکڑے بغیر تنقید کی ڈور کوسلجھانے میں الجھے ہوئے ہیں۔ کرامت علی کرامت اس لیے بھی بہتر نقاد ہیں کہ وہ بنیادی طور پر تخلیق کار ہیں۔
٭٭



اسطوری فکر و فلسفہ (اردو شاعری میں )

ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط نے اس کتاب میں اردو شاعری میں بیان ہونے والے اسطوری فکر و فلسفہ کا کچھ احاطہ کرنے کی کاوش ہے۔ اساطیر کے انتخاب میں انہوں نے ہندو، سکھ، بدھ، مسیحی، اسلامی اور یہودی مذاہب کی روایات سے استفادہ کیا ہے۔ یوں ان کی کتاب فکر و فلسفہ کی بجائے مذہبی فکر اور شاعری کی سطح پر رہتی ہے۔ فلسفہ کا اس میں عمل دخل بہت کم ہو جاتا ہے۔ قدیم مذہبی اساطیر کی بازیافت میں یحییٰ نشیط نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور کئی عمدہ اور خوبصورت روایات کو نہ صرف سامنے لائے ہیں بلکہ اردو شاعری میں ان کے ذکر کی نوعیت کو بھی عمدگی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ ہندو دیومالا تو ویسے بھی اپنے ایسے سرمائے کے لحاظ سے بے حد زرخیز ہے۔ سکھ اور بدھ مت کی اساطیر بھی کافی دلچسپی کی حامل ہیں۔

مسیحی، یہودی اور اسلامی روایات کا اصل منبع(ابراہیمی) چونکہ ایک ہی ہے اس لیے یہاں بہت کچھ جانا پہچانا ہی ہے۔ کہیں کہیں بعض تسامحات بھی راہ پا گئے ہیں۔ مثلاً یحییٰ نشیط نے ایک جگہ ’کوہِ طُور ‘کو عیسائیوں کے نزدیک مقدس پہاڑ قرار دیا ہے(ص ۹)۔ جبکہ اسطوری سطح پر بھی اور کتبِ مقدسہ کے حوالے سے بھی کوہِ طُور یہودی، مسیحی اور اسلامی تینوں مذاہب کے لیے مقدس پہاڑ کے طَور پر مذکور ہے۔
یحییٰ نشیط نے فلسفے کی آزادہ روی کو اختیار کرنے کی بجائے مذہبی فکر کی پناہوں میں اپنا علمی سفر طے کیا ہے، اسی لیے وہ اساطیر میں مذہب ہی کی کارفرمائی دیکھتے ہیں۔ افراد کے اجتماعی حافظے سے بات ماقبل تاریخ تک لے جائی جا سکتی ہے، تاہم مذہب الارواح میں بھی مذہبی احساس تو بہر حال کارفرما رہا تھا۔ مجھے سمیری دیومالا کی ایک بلا ’’تیامت’‘ یاد آ رہی ہے۔ یہ بلا جب نازل ہوتی ہے تو جہاں سے گزرتی ہے وہاں تباہی مچا دیتی ہے۔ اپنی ہولناکی کے ساتھ وہ اپنا احترام بھی جبراً کرواتی ہے۔ ہمارے ہاں ’’قیامت’‘ کا جو عقیدہ ہے اس میں بھی مکمل تباہی کے ساتھ ’’قیامت’‘ پر ایمان(احترام)بھی لازمی ہے۔ اب خدا جانے اجتماعی حافظے کے سفر کے دوران یہ محض تؔ اور قؔ کا فرق ہے، یا سمیری دیومالا کے عقب میں بھی کہیں کوئی مذہبی عقیدہ موجود تھا۔ مجھے اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں یاد آئی ہیں لیکن ان کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
بعض سیدھی سادی مذہبی روایات اور عقائد کے اردو شاعری میں ذکر کو بھی یحییٰ نشیط نے اسطوری رنگ میں پیش کیا ہے۔ جبکہ شاعری میں بھی سیدھے سبھاؤ ذکر والی مثالیں پیش کی ہیں۔ چونکہ ان کے پیش نظر ایسا ہی تھا سو انہوں نے اس حوالے سے اچھی محنت کی ہے۔ تاہم اس کتاب کے مطالعہ کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ یحییٰ نشیط صاحب کو اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق دے تو وہ اساطیرکی تہذیبی و ثقافتی سطح تک رہتے ہوئے اور اردو شاعری میں (بلکہ اردو کی تخلیقی نثر میں بھی) علامتی اور استعاراتی رنگ میں مذکور اساطیر کو دریافت کریں۔ ایک وسیع میدان اُن کا منتظر ہے!
٭٭

ایک آواز (نثری نظمیں )

میری ادبی زندگی کی دو اہم شخصیات ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انورسدیدکی اگلی نسل کے حوالے سے مجھے دو انوکھے تجربے ہوئے۔ انور سدید کے صاحبزادے مسعود انور سے جب ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا تو پتہ چلا وہ ادب میں ترقی پسند تخلیق کاروں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وزیر آغا کے صاحبزادے سلیم آغا کی نثری نظم میں گہری دلچسپی کو بھی میں اسی تجربہ کے طور پر دیکھتا ہوں۔ اس سے دونوں بڑی شخصیات کے گھروں میں آزادیِ اظہار کا مثبت رویہ دیکھا جا سکتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب سلیم آغا قزلباش کی نثری نظموں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ اب لوگ باگ نثری نظم کے تخلیقی امکانات کی بات زیادہ کرتے ہیں۔ جب ڈاکٹر وزیر آغا شعری مواد اور شاعری کے فرق کو واضح کر کے، نثری نظم کے شعری مواد کا اعتراف کر کے اسے شاعری تسلیم نہیں کرتے تھے، میں تب بھی ان کے خیالات سے متفق تھا اور اب بھی اُسی بات کا قائل ہوں۔ کتاب کے نام ’’ایک آواز’‘ پر مبنی ایک نثری نظم مجموعہ کے آخر میں شامل ہے۔ اس میں والدہ کی وفات پر دلی جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ لیکن مجھے یہ نثری نظم پڑھتے ہی وزیر آغا کی والدہ مرحومہ کی وفات پر لکھی ہوئی دونوں نظمیں شدت کے ساتھ یاد آئیں۔ ان کے ساتھ ’’آدھی صدی کے بعد’‘ کے وہ خوبصورت حصے یاد آئے جس میں ماں بیٹے کی یادوں کا خزانہ بھرا ہوا ہے۔
اس مجموعہ کا پیش لفظ ناصر عباس نیر نے لکھا ہے۔ اس میں سلیم آغا کی نثری نظم ’’نیا شہر’‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مابعد جدید کلچر کے حوالے سے اور ’’بُت شکن’‘ کا ذکر کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، وہ سب پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ان کی باتوں کا نچوڑ اس اعتراف میں آ جاتا ہے:

’’کرۂ ارض کی واحد عالمی طاقت نے اکیسویں صدی میں کمزور ملکوں پر ڈسکورس ہی کی بنیاد پر جنگیں مسلط کی ہیں :پہلے اُن ملکوں سے متعلق ڈسکورس تشکیل دیے، اُنہیں میڈیا کے ذریعے پھیلایا اور باور کرایا، اور پھر ہر کھڑی عمارت اور ثابت و سالم شے کو اکھاڑ پچھاڑ دیا۔ اس ڈسکورس میں کہیں نہ کہیں، مذہبی عُنصُر ضرور شامل رہا’‘
(ایک آواز:ص ۱۱)
جدید ادب جرمنی کے شمارہ اول کے اداریہ کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شمارہ دو میں وزیر آغا، ناصر عباس نیر اور میرے درمیان ایک مکالمہ ہوا تھا۔ مجھے ناصر عباس نیر کے مذکورہ نتائج اخذ کرنے میں اُسی مکالمہ کی توسیع دکھائی دی ہے، اسی لیے مجھے اس سے دلی خوشی ہوئی ہے اور پہلے سے زیادہ ان کی علم و ادب سے وابستگی کا معترف ہو گیا ہوں۔ نثری نظم اور آزاد نظم کی بحث میں اپنا واضح موقف رکھنے کے باعث نثری نظم کے تئیں میرے تحفظات بہت واضح ہیں، تاہم اس صنف کے امکانات کو آزمالینے میں کوئی حرج نہیں۔ نثری نظم کے جو مجموعے ان امکانات پر گفتگو کی گنجائش پیدا کریں گے، ان میں ’’ایک آواز’‘ بھی شامل رہے گا۔ کیونکہ’’ایک آواز ‘‘ کی نثری نظمیں اپنے شعری مواد کے لحاظ سے قابلِ توصیف ہیں۔
٭٭

کسک (ناول)

محترمہ آر کے نیازی گورنمنٹ کالج برائے خواتین میانوالی میں اردو پڑھاتی ہیں۔ تاہم اردو سے ان کی وابستگی محض پروفیشنل سطح تک نہیں ہے۔ انہوں نے اردو کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ ’’کسک’‘ ان کے تخلیقی اظہار کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

عنیزہ کا کردار پختون علاقہ کی بے شمار مجبور لڑکیوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی کہانی دراصل کئی ایسی لڑکیوں کی کہانی ہے جو اپنے ماحول کی گھٹن میں سانس لینے پر مجبور ہیں اور جب گھٹن بہت بڑھ جاتی ہے تو ان کا دَم گھٹ جاتا ہے۔ عنیزہ ایک طرف اپنے قبیلے کی شان کا بھرم رکھتی ہے، دوسری طرف اپنی محبت کو اپنے دل میں زندہ رکھتی ہے اور تیسری طرف اپنے پیار کرنے والے شوہر اور گھر کی عزت کو مجروح نہیں ہونے دیتی۔ لیکن ان سارے تضادات سے لڑتے لڑتے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔ حقیقتاً وہ کسی ریاکاری کا ارتکاب نہیں کرتی۔ اپنے قبیلے، خاندان اور ماحول کے جبر کو اپنے دنیاوی احترام کے ساتھ قبول کرتی ہے، لیکن اپنے اندر کی کشمکش کے باعث خود ہی اس احساس سے دوچار ہو جاتی ہے کہ جیسے اس نے ریاکاری کی ہے۔ اور پھر اس الزام کے جواب میں خود کلامی کی صورت میں عنیزہ کے یہ دلائل اپنی جگہ ایک تلخ سماجی حقیقت کے سامنے آئنہ بن جاتے ہیں۔
’’ میری ریاکاری کے اسباب معلوم ہیں تمہیں ؟؟؟؟میں بتاتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ کہیں مفتیوں کے فتوے، کہیں خانوں کی پگیں، کہیں ملکوں کی شان، کہیں سیدوں کی سیادت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں جبر، کہیں تشدد، کہیں موت کا خوف اور کہیں رشتوں کی کھلے عام بلیک میلنگ، ساری عمر کے لئے ناطہ توڑ لینے کی دھمکیاں۔ ۔ ۔ ۔ میری ریاکاری تو تمہیں نظر آ رہی ہے۔ میری دیوانگی کا تو تم ہنس ہنس کا مذاق اڑا رہے ہو۔ لیکن اس دیوانگی کے اسباب پر کبھی غور کیا ہے؟اس کے سدباب کے لئے کچھ سوچا؟کچھ کیا؟’‘
اس ناول میں آر کے نیازی صاحبہ نے دو مردوں میں بٹی ہوئی محبت کے کچے جذبوں کو پختہ زبان میں بیان کیا ہے۔ جذبات کے کچے پن، اور الفاظ کی پختگی نے اس ناول کو ایک دلچسپ انداز عطا کر دیا ہے۔ سماجی جبر کے سامنے عورت کی مظلومیت کی المناک داستان ہونے کے باعث اسے خانہ داری کے امور میں بہت زیادہ مصروف گھریلو خواتین اور کالج کے طلبہ تودلچسپی کے ساتھ پڑھیں گے ہی، تاہم اس ناول کو سنجیدہ اور پختہ عمر کے لوگ بھی یکساں دلچسپی کے ساتھ پڑھیں گے۔ محبت کی داستان اتنی پرانی ہے جتنی آدم اور حوا کی داستان، اور یہ قصہ اتنا ہی تازہ ہے جتنا آج کی کسی بھی سچی محبت کا کوئی قصہ تازہ ہو سکتا ہے۔ در اصل ہر داستان میں اپنی مقامیت کے باعث اور اپنی اپنی نفسیات کے باعث ایک انفرادیت پیدا ہو جاتی ہے جو اس اجتماعی روداد کے اجتماعی کردار کے باوجود اس میں ایک انفرادی اور نفسی واردات پیدا کر دیتی ہے۔ آر کے نیازی نے اپنے معاشرے کے گھٹے ہوئے ماحول میں محبت کی ایسی ہی نئی داستان اس ناول میں پیش کی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار عنیزہ کی داستان مکمل ہونے پر قاری اس کے لیے گہری ہمدردی اور محبت کے جذبات محسوس کرنے لگتا ہے۔ ( پیش لفظ کے طور پر درج تاثرات)
٭٭

رختِ ہُنر (شاعری)

غالب احمد شاعروں اور ادیبوں کی اس سینئر صف سے تعلق رکھتے ہیں جس میں ناصر کاظمی، احمد مشتاق، انتظار حسین، حنیف رامے، مظفر علی سید، شہزاد احمد وغیرہ کے اسماء شامل ہیں۔ تاہم تخلیقی لحاظ سے متحرک ان تخلیق کاروں کے مقابلہ میں غالب احمد کے تخلیقی سفر کی رفتار کافی دھیمی رہی۔ ۱۹۵۰ء سے ادبی رسائل میں مسلسل چھپنے کے باوجود ابھی تک ان کا صرف ایک ہی شعری مجموعہ ’’راحتِ گمنام’‘ شائع ہوا تھا، اب ان کا دوسرا مجموعہ شائع ہوا ہے جوان کی شاعرانہ قدر و قیمت کے تعین میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ غالب احمد کی غزل میں ایک انوکھی نوعیت کا فکری تغزل ملتا ہے۔ چند اشعار سے اس فکری تغزل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
منظرِ ہوش سے آگے بھی نظر جانے دے
جا رہا ہے یہ مسافر تو اُدھر جانے دے
زنجیر میں ہیں دیرو حرم، کون و مکاں بھی
ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی
کیوں وقت کی لہریں مجھے لے جائیں کسی اور
دائم دل دریا ہوں میں موجوں میں رواں بھی
ابر برسا سُراب کی صورت
چار سُو عکسِ آب کی صورت
خواب کی کیا کوئی حقیقت ہے
ہے حقیقت تو خواب کی صورت
غالب احمد کی نظمیں ان کی زندگی کے مختلف النوع تجربات سے گزرتے ہوئے ادوار کی ترجمانی کرتی ہیں۔ ان میں ایک خاص نوع کی روحانی بالیدگی اور ترفع بھی ملتا ہے۔ ’’نظمِ نَو’‘ ان کے نظمیہ ارتقاء کو واضح کرنے کے ساتھ نظم نگاری میں ان کے مقام کے تعین میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ نظم کی اختتامی سطروں سے اس طویل نظم کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور غالب احمد کی نظم نگاری کے تیور بھی سمجھے جا سکتے ہیں :
’’وہ دیکھو کہ پھر رحمِ مادر سے نکلا ہوا طفلِ نوزائیدہ، وقتِ نو کہہ رہا ہے
زمیں سے ضمانت نہ مانگو
رگِ جسم و جاں سے شہادت نہ مانگو
کہ ضامن ہو تم اس زمیں کے
زمانے کے تم خود امیں ہو
جہانِ ہنر میں نئی زندگی کی طلب کے
نئے آشیانے بساؤ، نیا گھر بناؤ
کہ یہ نفس کا نقطۂ آسماں ہے
کنارِ یقیں ہے، نئی سرزمیں ہے
زمانے کو آواز دو، ابنِ آدم بلاؤ
کہو سب کو آؤ
نیا گھر ہمارا کھلا ہے
یہ وقتِ دعا ہے
نئی نظم کی ابتدا ہے!’‘
٭٭٭

ماخذ: عکاس، کتاب دس،گیارہ۔ مدیر: ارشد خالد
تدوین : اعجاز عبید


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close