فیض احمد فیضؔ کا سیاسی شعور

ڈاکٹر عنبرین تبسم شاکر

فیض کا نام ان تخلیق کاروں میں سرِفہرست ہے جنھوں نے اپنی تخلیقات کی بنیاد ترقی پسند تحریک کے عطا کردہ سیاسی شعور پر رکھی اور دوسری طرف ان فنی اور جمالیاتی تقاضوں سے بھی عہدہ برآ ہوئے جو اعلیٰ ادبی تخلیقات کی اساس ہیں۔ فیض ان ترقی پسند شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اس نظریے کی ترویج میں قابلِ تحسین کردار ادا کیا ہے اور اس کردار کو نبھانے کے لیے جس سیاسی و ادبی شعور کی ضرورت تھی فیض کے پاس وہ موجود تھا۔ آزادیِ فکر، آزادیِ اظہار، احترامِ آدمیت اور انسانی اقدار کی بحالی اور پاسداری، یہ وہ عناصر ہیں جو فیض کی آواز کو ایک مخصوص نظریے ہی کی نہیں بلکہ ایک عہد کی توانا آواز بناتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:

فیض جبرواستحصال کے دشمن تھے۔ عدل و انصاف کے داعی تھے۔ عوام کو انسانی قوتوں کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ وہ عوام جن سے قوموں کی کھیتیاں سرسبزوشاداب ہو جاتی ہیں۔ صنعت و حرفت پھلنے پھولنے لگتی ہے اور زندگی کے چشمے ابلنے لگتے ہیں۔ ان کی شاعری عوام کی اسی قوت کی ترجمان ہے۔ ۱

            اور یہی وہ عناصر ہیں جو ترقی پسندانہ سیاست کی بنیاد ہیں۔ فیض کا ترقی پسند تحریک کے منشور سے نہ صرف قلب و جاں کا تعلق تھا بلکہ وہ اس کے بنیاد گزاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی سطح پر انسانی آزادی کے خواہاں تھے بلکہ آزادی کے اس عالمگیر احساس کی آواز تھے جو اس زمانے میں استعماری قوتوں کے خلاف واضح انداز میں پیدا ہو رہا تھا۔ فیض کے شعری رویّے اور اس رویّے سے مرتب شدہ سیاسی تفکر کے بارے میں سید خورشید عالم کہتے ہیں :

فیض کی شاعری میں تفکر کا دھارا اس عالمی تحریک اور ترقی پسندی کی جانب ہے جو سماج کی از سرِ نو تشکیل، آزادی اور برابری، ذاتوں اور ملتوں کی مفاہمت کو اپنے نظریہ کی بنیاد بنا کر سچائی کے سائے تلے ایک بہتر تہذیب کی تعمیر اس کا مطمحِ نظر ہے۔ فیض جانتے تھے۔۔۔ کہ وہ ایک فرد ہی نہیں بلکہ ایسے شاعر اور مصنف ہیں جو اپنے مخصوص وقت اور عہد میں ان تخلیقات کے موجد بنے ہیں جس کے لیے وہ اپنے سماج کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ۲

             فیض کی شاعری محض ایک فرد کی سوچ کے طور پر ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اپنی ذات کو باقی دنیا کے ساتھ باہم متصل کر کے نہ صرف سماج کی آواز بنتی ہے بلکہ اجتماعیت کے کامل احساس کی آئینہ دار بھی ہے۔

            فیض کی شاعری کا آغاز رومانوی تحریک کے دور سے ہوتا ہے اس لیے دیگر ترقی پسند شاعروں کی طرح ان کی ابتدائی شاعری میں بھی رومانوی لب و لہجہ غالب ہے۔ لیکن یہ رومانویت فیض کے مزاج کا حصہ ہے اور تا دمِ آخر ان کی شاعری میں موجود رہتی ہے۔ فیض کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اس رومانویت کو بھی سیاسی پس منظر کے ساتھ جوڑ کر اس کو اپنے شعری تفکر کا حصہ بنایا ہے۔ نتیجتاً ان کی رومانویت ان کے سیاسی فکر سے الگ نہیں رہتی۔

            سیاسی اور سماجی بیداری کا ایسا دور جس میں مقصدی ادب کے سیلِ بلا خیز نے ادبی اقدار کو ثانوی حیثیت دے کر پیچھے کر دیا تھا، فیض کی آواز اپنے آدرش سے اپنا رشتہ استوار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی جذباتی خوبصورتی کی وجہ سے بہت توجہ کھینچنے والی تھی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے بقول:

اردو نظم میں فیض کا یہ طریق کہ سماجی یا معاشی حقائق سے قاری کو متعارف کرنے اور اسے بہتر اور خوب تر مادی زندگی کی جھلک دکھانے کے لیے مقاومت کمترین کی نہج اختیار کی جائے، اردو ادب کے لیے اس قدر نیا تھا اور معاشی اور سیاسی بیداری کے دور میں اس کی جذباتی اپیل اتنی زیادہ تھی کہ دیکھتے دیکھتے نہ صرف انھیں عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ شعرا کے ایک پورے طبقے نے اس خاص میدان میں فیض کا تتبع بھی شروع کر دیا۔ فیض سے پہلے رومان اور حقیقت کے علیحدہ علیحدہ خانے تھے۔ ۳

            فیض کے ہاں ان کی شعری کائنات میں سیاست ان معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے جو اسے محض آئینی، قانونی اور معاشی نظم و نسق کی حدوں میں قید کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیض کے سیاسی شعور میں لفظ سیاست ان معنوں کے علاوہ ظلم کے خلاف کاوش و کوشش، راست گوئی اور حق پرستی کے راستے کی علامت، بنی نوع انسان سے محبت اور ایک نظریہ اخلاق کے طور پر بھی موجود ہے۔ بقول احمد ندیم قاسمی:

فیض ان شاعروں میں سے نہیں جو خلا میں شاعری کرتے ہیں ، اپنے ماحول سے کٹ کر مراقبہ کرتے ہیں اور اپنی روحوں پر اشعار کے نازل ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ فیض نے تو آج کی دنیا کے جملہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی محرکات کے شور و شغب میں شعر کہے ہیں اور جو کچھ کہا ہے، بڑے اعتماد سے کہا ہے۔ اس لیے کہ اسے ساری عمر دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے انسان کی صلابت اور قوت پر اعتماد ہے اور اسی لیے اس کا نغمہ ارضی بھی ہے اور روحانی بھی۔ ۴

فیض کے اسی سیاسی شعور نے انھیں جبر زدہ ماحول اور مہر بہ لب فضا کے حبس زدہ عالم میں وہ قوت عطا کی ہے کہ وہ ظلم کے دنوں کی گنتی گننے کی دعوت دے سکیں۔

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

اِک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم

آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے

                                                چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

                                                (’’چند روز اور مِری جان‘‘، نقش فریادی)

            فیض کی شاعری کا لب و لہجہ ان کے تہذیبی، ادبی، معاشرتی پس منظر اور ترقی پسندی، روشن خیالی اور انسان دوستی کی فضا سے ترتیب پاتا ہے۔ اس فضا کی تخلیق میں ان کا عصری اور سیاسی شعور کارفرما نظر آتا ہے۔  بقول اظہار کاظمی:

فیض کی وہ دنیا جو ان کی شاعری کے دوسرے دور میں نظر آتی ہے، وہ ایک ایسے رومانی وجودی کی دنیا ہے جو حقیقت سے آنکھیں چار کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اور سماجی ناانصافیوں ، معاشی استحصال، مذہبی منافقت اور سیاسی جبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ ۵

اس سیاسی شعور کے کار آمد ہونے کا پختہ یقین ہی انھیں یہ لہجہ اختیار کرنے پر ابھارتا ہے جو انھیں ظلم کی میعاد کی حدیں بھی دکھا دیتا ہے اور اجنبی ہاتھوں کے گراں بار ستم کے خاتمے کے وقت کا تعین بھی کرواتا ہے۔ فیض کی شاعری کا یہ انداز اداسی قنوطیت اور نامرادی کا نوحہ نہیں ہے بلکہ روشن مستقبل کی خبر دیتا ہے اور ظلمتِ شب میں طلوعِ سحر کی نوید سناتا ہے۔

جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

سحر کا روشن افق یہیں ہے

                                                                                                            (’’ملاقات‘‘، زنداں نامہ)

            ترقی پسند تحریک کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ وہ ادب کو مخصوص علاقے، تہذیب یا اخلاقی اقدار کے لیے تخلیق نہ کرے بلکہ ترقی پسند ادب نے اپنے مخاطب تمام انسان رکھے۔ اس طرح یہ تحریک سیاسیاتِ عالم کا حصہ بن جاتی ہے۔ فیض کے ہاں یہ سیاسی رویہ بھی موجود ہے جب وہ فلسطین کے عرب زادے کی آزادی کے لیے امنگ اور افریقا کے محکوم انسان کے ہاں غلامی کا طوق گردن سے اتار پھینکنے کا حوصلہ دیکھتے ہیں تو اس وقت ان کے ہاں ایک جوش اور سرخوشی کا عالم نظر آتا ہے۔

میں ایفریقا ہوں ، دھار لیا میں نے تیرا روپ

میں تو ہوں ، میری چال ہے تیری ببر کی چال

                                    آ جاؤ ایفریقا

                                     آؤ ببر کی چال

                                    آ جاؤ ایفریقا

                                                            ("Africa Come Back”، زنداں نامہ)

      اقبال کے بعد اپنی شعری مملکت میں جس شاعر نے ایک واضح سیاسی سمت وضع کی وہ فیض ہی ہے۔ فیض کا نصب العین واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ فیض کی شخصیت میں جو سنجیدگی اور متانت موجود تھی، ان کی شاعری میں بھی اس شخصیت کا عکس نظر آتا ہے۔ لہٰذا وہ ترقی پسند شاعر ہونے کے باوجود اس صف میں موجود بعض دیگر شاعروں کی طرح جذباتی اور تند و تیز لہجہ اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ فیض کا کمال یہ ہے کہ نظریے کے پرچار کے باوجود ان کی شاعری پروپیگنڈہ نہیں بنتی۔ فیض نے اردو کی شعری روایت سے علیحدگی اختیار نہیں کی اور جدید شعری رویے کے امین بھی بن گئے۔ اپنے اس اجتہادی رویے کے ذریعے فیض نے ان شعری علامتوں کو بھی نئے معنوں اور نئے مفاہیم سے آشنا ئی دی جو روایتی عشق و عاشقی کے مضامین کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ فیض کے ہاں یہ علامتیں لفظی اعتبار سے تو وہی رہتی ہیں مگر ان کے معنی فیض کے مجموعی سیاسی افکار سے جڑے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر انورسدید لکھتے ہیں :

فیض کی منفرد عطا یہ ہے کہ انھوں نے لفظ کے گرد نیا احساسی دائرہ مرتب کیا اور اسے سیاست آشنا بنا دیا۔۔۔ فیض نے نہ صرف نئے استعارے تخلیق کیے بلکہ قدیم شعرا کے مستعمل الفاظ کو بھی نئی تابندگی عطا کی اور ایسی تراکیب وضع کیں جن پر ساختۂ فیض کی مہر ثبت ہے۔ ۶

            فیض نے گل و بلبل، قفس و زندان، زنجیروسلاسل، دارورسن اور مے و ساغر جیسی روایتی علامتوں کو اپنے زمانے کی اقدار سے منسلک کر کے وہ سیاسی معنی عطا کیے جو ان علامتوں کی پہچان بن گئے۔ اپنے اس عمل سے فیض نے ایک نیا مکتب شاعری قائم کیا، جہاں عشقیہ علامتیں سیاسی رنگ اختیار کر کے نیا پن پیدا کرتی نظر آتی ہیں۔ عشق اور سیاست کے امتزاج کے حوالے سے فیض کی نظموں سے یہ ٹکڑے ملاحظہ ہوں :

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی  لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم

ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیلِ غم

اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

                                    (’’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘، زنداں نامہ)

            عشقیہ واردات کو دوسرے سماجی اور سیاسی مسائل سے متعلق کر کے پیش کرنا نئی اور قابل قدر چیز بنا۔ فیض کی شاعری رومان کے قالب میں سیاستِ دوراں کا منظرنامہ ہے۔ محمد علی صدیقی فیض کے اس شعری اسلوب اور علامتوں کے مخصوص معانی کے بارے میں لکھتے ہیں :

فیض کا شعری اسلوب نہ صرف روایت کے حسین ترین اجزاء سے متشکل ہوتا ہے بلکہ وہ اسے اپنے مخصوص ماحول، تہذیب، نسلی شعور اور خیر و شر کے بارے میں روایتی تصورات سے گزرتے ہوئے نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیتے ہیں اور اس طرح فیض کے تصورِ روایت میں وہ سب کچھا جاتا ہے جو ان کے لیے سیاسی طور پر درست بھی ہوتا ہے۔۔۔ مخصوص سیاسی نصب العین، مخصوص جمالیاتی رویے پیدا کرتا ہے اور مخصوص رشتوں کی نشاندہی بھی۔ اس رویے سے علامتوں کو نئے سرے سے اپنانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ ۷

            روایتی شعری علامتوں کو نئے مفاہیم میں اپنانے کی خواہش نے جب عملی صورت اختیار کی تو مضبوط اور قدیم روایت کے مضامین نئے دور کے موضوعات بن گئے۔

            فیض کے ہاں علامتوں کے سلسلے میں ہونے والا یہ اجتہاد ان کے مجموعی شعری رویے کے تحت سیاسی نوعیت کا ہے۔ چمن، گلشن، قفس اور صبا فیض کے ہاں زیادہ استعمال ہونے والی علامتوں میں سے ہیں۔ چمن، قفس اور صبا فیض کے ہاں ایک تکون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چمن وطن کے لیے، قفس زندان کے لیے اور صبا اہل وطن اور اسیرزنداں کے درمیان رابطے کا نہ صرف ذریعہ ہے بلکہ یہ وہ علامت ہے جو اہل چمن اور اہل قفس دونوں کے لیے تازگی کا وسیلہ بنتی نظر آتی ہے۔ صبا کو کلاسیکی شاعری میں بھی پیام رسانی کا کام انجام دیتے دیکھا جا سکتا ہے مگر فیض کے ہاں صبا محض رابطہ کار ہی نہیں بلکہ اس کی ہم دم و ہمراز بھی ہے اور فیض جس سیاسی نظریے کے پیروکار ہیں اس کے مطابق جو غلامی کی شب چمن پر چھائی ہے اس کے خاتمے کی نوید بھی صبا کا فرض ہے۔

کسی پہ قتلِ مہِ تابناک کرتے ہیں

کسی پہ ہوتی ہے سرمست شاخسار دونیم

کسی پہ بادِ صبا کو ہلاک کرتے ہیں

ہر آئے دن یہ خداوندگانِ مہر و جمال

                                                                                    (’’دریچہ‘‘، زنداں نامہ)

بجھا ہے روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے

کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی

چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے

کہ اب سحر تِرے رخ پر بکھر گئی ہو گی

غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں

گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں

                                                                        (’’نثار میں تری گلیوں کے۔۔۔ ‘‘، دستِ صبا)

یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم

یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم

قفس ہے بس میں تمھارے، تمھارے بس میں نہیں

چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

                                                            (’’طوق و دار کا موسم‘‘، دستِ صبا)

            مندرجہ بالا نظموں کے مصرعوں میں قفس، چمن، صبا، سحر وغیرہ سیاسی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ فیض نے یہاں ان علامتوں کو ان مفاہیم سے آشنا کیا ہے جو ان کے شعری نظام فکر سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر انیس اشفاق ان علامتوں کے نئے معانی کے بارے میں لکھتے ہیں :

چمن غلام ملک ہندوستان کی علامت ہے۔ قفس وہ مقام ہے جہاں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو اسیر کر دیا گیا ہے۔ صبا ان بیرونی رابطوں کی علامت ہے جو کسی نہ کسی طرح اسیروں کو باہر کی خبر دیتے رہتے ہیں۔ ۸

            چمن اور قفس فیض کی نظریاتی شاعری کی بنیادی علامتیں ہیں۔ صبا کی علامت کو ان کے ساتھ ملا کر فیض نے دراصل اس کیفیت کو بڑے جامع انداز سے پیش کیا ہے جو دورِ غلامی کی اضطرابی کیفیت کہی جا سکتی ہے۔ ان علامتوں کے استعمال سے فیض نے ایک ایسا پیرایۂ بیاں ایجاد کیا ہے جو فیض کے سیاسی شعری آہنگ کی پہچان بن گیا۔

             فیض کی شاعری کا اہم ترین پیرایہ ان کے سیاسی شعور سے مملو وہ شاعری ہے جو انھیں نہ صرف معاصر ترقی پسند شاعری میں ممتاز بناتی ہے بلکہ ان کی شعری سرمائے کی نمائندہ ترین شاعری بھی ہے۔ انھوں نے تلخ صورت حال کے بیان میں بھی عمومی طور پر نرم اور مدھم لب  و لہجہ اختیار کیا ہے۔ ڈاکٹر ابوسعید نور الدین لکھتے ہیں :

فیض کا تعلق بہت حد تک ترقی پسند تحریک سے رہا ہے۔۔۔ اس تحریک کے ماتحت اردو میں جو ادب وجود میں آیا، اسے باغیانہ ادب سے موسوم کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا لیکن اس سلسلے میں فیض کا لب و لہجہ ہمیشہ ذرا مدھم رہا ہے۔ ان کی لَے کبھی حدِ اعتدال سے آگے نہیں بڑھی۔ ۹



            ترقی پسند تحریک کا اساسی تصور ایک ایسے انقلاب کی طرف پیش قدمی تھی جو غیر طبقاتی سماج کو وجود میں لائے۔ اس تحریک کے پیرو موجود سماج معاشرت اور سیاست سے اس حد تک نا مطمئن تھے کہ ان کے نزدیک سماجی قدروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضرور ی تھا جو استحصالی نظام کی پہچان تھیں۔ چنانچہ سرخی شفق کی ہو یا لہو کی وہ مجموعی طور پر ترقی پسند ادب میں بھی اور فیض کے ہاں بھی انقلاب کی علامت بنی۔ اس طرح دارورسن کی علامت ایک طرف تو اس ناانصافی اور استحصالی روّیے کی نمائندہ بنی جو آمریت پسندوں اور جمہوری قدروں سے نا آشنا متعدد قوتوں میں مروج تھا تو دوسری طرف یہ دارورسن انقلاب چاہنے والوں کے لیے حصولِ منزل کا وہ راستہ تھا جس پر چل کر وہ منزل پا سکتے تھے۔

            اسی طرح ’’تاریکی‘‘ اور ’’سیاہی‘‘ ظلم اور استحصال کی ان قوتوں کی علامتیں ہیں جو انسان کی شخصی آزادی اور اقوام کی مجموعی آزادی کی سدِّراہ ہیں اور رات کی طرح ظلمت کا نشان نظر آتی ہیں۔ رات، تاریکی اور سیاہی کے ساتھ ہی فیض کے ہاں ان کے رجائی سیاسی لہجے کی بدولت سحر، صبح درخشاں ، سورج اور روشنی نویدِ انقلاب اور اس نئی زندگی کی علامتیں ہیں جو نہ صرف فیض بلکہ مجموعی طور پر ترقی پسندوں کے لیے حاصلِ زندگی اور حاصلِ فن تھیں۔

رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازۂ رُخسار سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اے دِل بے تاب ٹھہر

                                                                        (’’اے دلِ بے تاب ٹھہر‘‘، دستِ صبا)

            ’سحر‘ کی علامت فیض کے ہاں ان کی اس نظریاتی جدوجہد کا حامل ہے جو جاری نظام کی ظلمت بھری رات کو توڑنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ سحر فیض کے لیے کسی موہوم اور ملگجی آزادی کا تصور نہیں بلکہ آزادی کا کامل تصور ہے۔ اور اگر کوئی سحر اس طرح طلوع ہو بھی گئی کہ اس پہ کامل سحر کا گماں نہ کیا جا سکے تو اس کو فیض نے مسترد کر دیا۔

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

                                                (’’صبحِ آزادی اگست ۴۷ء‘‘، دستِ صبا)

            ظلمت شب کی طوالت جس سحر کے انتظار میں برداشت کی گئی اس سحر کا نامکمل حالت میں ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے۔ فیض اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی

نجات دِیدہ و دِل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

                                                                        (’’صبحِ آزادی اگست ۴۷ء‘‘، دستِ صبا)

            فیض کا سیاسی عقیدہ اس نظریۂ حیات کا فروغ تھا جس میں سب انسان برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ نام و نسب، مال و دولت اور جاہ و منصب جیسی خصوصیات انسانی برتری اور کم تری پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ مگر فیض جس دنیا کے باسی تھے وہاں تصور حیات اور نظامِ حیات ان کے نظریے سے مختلف تھا۔ اس سماج میں عام آدمی، شودر، ذلت، مزارعہ، ہاری اور کمی کمین جیسے القابات بلکہ حالات سے دوچار تھا۔ اس عالم میں فیض کو یہ انسان انسان کے درجے سے کم تر بلکہ خارج نظر آیا۔ یہ پسا ہوا انسان فیض کی نظم ’’کتے‘‘ میں علامتی انداز میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ نظم اُن سیاسی و معاشرتی حقائق کی تلخی اور سنگینی کو بھی ظاہر کرتی ہے جن سے اس زمانے کا عام آدمی دوچار تھا اور فیض کے معاشرے اور سیاست کے اس غیر انسانی روّیے کے بارے میں شدتِ احساس کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی ضرورت سے محروم انسان اِن ضرورتوں کے حصول کے لیے کتوں کی طرح باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں اور ان کا یہ عمل اگرچہ انھیں انسانی سطح سے گرانے کا باعث ہے مگر اس کی وجہ وہ خود نہیں ہیں بلکہ وہ نظام ہے جو ان پر مسلط کر دیا گیا ہے۔

نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اِک دوسرے سے لڑا دو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دِکھا دو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اُکتا کے مر جانے والے

                                                                                                                                                (’’کُتے‘‘، نقش فریادی)

            جمیل جالبی اس نظم کے بارے میں لکھتے ہیں :

فیض کی نظم ’’کتے‘‘ اردو ادب میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اردو میں بہت کم نظمیں ایسی ہیں جو اس نوعیت اور صنف میں ملتی ہیں اور جو ہیں وہ اتنی خوش اسلوبی سے نہیں لکھی گئیں۔ ’’کتے‘‘ نیم سیاسی تمثیلچہ کی مثال ہے جس میں مضمون و معانی کے خزانے بکھرے پڑے ہیں۔ سوبرس کی ہندوستانی زندگی کے اخلاق و کردار، تہذیب و تمدن، ذہنی رجحان، پستی و ذلت اور احساسِ کمتری کو اس نظم میں اتنے مختصر اور اس قدر جامع الفاظ میں سمو دیا ہے کہ نظم ایک معجزہ سی معلوم ہونے لگی ہے۔ ۱۰

            اس طرح ان کی ایک اور نظم ’’شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں ‘‘ بھی اس پسے ہوئے انسان کی سرگزشت ہے۔ جو زمانے کے استبداد کے سیل رواں اور تھپیڑوں کی زد میں ہے۔ یہاں انھوں نے اس تھکے ہارے اور مظلوم انسان کو کانچ کے مانند قرار دیا ہے۔ جس پر چاروں طرف سے استحصال اور جبر کے پتھروں کی بارش ہے۔

ناداری، دفتر، بھوک اور غم

اِن سپنوں سے ٹکراتے رہے

بے رحم تھا چومکھ پتھراؤ

یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

سب ساغر، شیشے، لعل و گہر

اس بازی میں بد جاتے ہیں

اُٹّھو سب خالی ہاتھوں کو

اس رَن سے بلاوے آتے ہیں

                                                            (’’شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں ‘‘، دستِ صبا)

            اس نظم میں شیشے، لعل و گہر محنت کش عوام کی آرزو مندیوں ، خوابوں ، محرومیوں اور ان سے پیدا ہونے والے انقلابی عزائم کی علامت بن جاتے ہیں۔

            ’’کتے‘‘ کے علاوہ فیض کے ہاں اسی طرح کی کچھ نظمیں ہیں جو اپنے اندر مجموعی تاثر میں سیاسی علامتیت رکھتی ہیں۔ ان میں ’’دریچے‘‘، ’’سیاسی لیڈر کے نام‘‘ اور ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ دریچہ فیض کی شاعری میں استعمال ہونے والی وہ مثبت علامت ہے جو انھیں اس بند دنیا سے آزاد اور خوشگوار دنیا سے تعارف کا وسیلہ ہے۔ دریچے سے فیض نہ صرف تازہ ہوا کے متمنی ہیں بلکہ اس دریچے سے وہ دنیا کے اس تصور سے روشناس ہوتے ہیں جو عام انسانوں کی دنیا ہے۔ مزدوروں کی دنیا ہے، محنت کشوں اور کسانوں ، دہقانوں کی دنیا ہے۔

            ’’سیاسی لیڈر کے نام‘‘ ایک مخصوص سیاسی پس منظر کی حامل نظم ہے جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ اس نظم میں پراسرار خاموشی سے بھرپور تاریک رات جو مہیب بھی ہے، بھیانک اور پریشان کن بھی علامتی انداز میں آمرانہ دورِ استبداد و استحصال کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن فیض اس ظلم کی علامت کو صبح کے اجالے اور روشنی کے سامنے ماند ہوتا ہوا دکھاتے ہیں۔ روشنی کا یہ احساس جو فیض کی شاعری کا خاصہ ہے، امید کی وہ کرن جس کے سہارے فیض ایک سماجی اور سیاسی تبدیلی کے خواہاں نظر آتے ہیں ، ان کے سیاسی شعور کی دین ہے۔

            ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ آزادیِ گفتار اور انسانیت پر اعتماد کا درس دیتی نظم ہے۔ ’’آزاد لب‘‘ یہاں انسان ہی نہیں انسانیت کی آزادی کی علامت نظر آتے ہیں۔ جرمن مفکر کانٹ نے آزادی کو شہریوں کا پیدائشی حق تسلیم کیا ہے۔ ۱۱  فیض بھی اسی نقطۂ نظر کے داعی ہیں۔ اس نظم میں مصائب سے بلبلاتے انسانوں کا تذکرہ ملتا ہے جو مقہور بھی ہیں اور معذور و مجبور بھی۔ گویا یہ نظم مسائل انسانی کی ایک مجسم صورت ہے۔ تاہم فیض کا رجائی سیاسی و ادبی لہجہ یہاں بھی ان مسائل کے انبوہ میں ایک بہتر مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ پوری نظم کا مجموعی لہجہ امید اور حق گوئی کی ترغیب دلاتا ہے اور حق گوئی کی علامت ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ کی وہ صدا ہے جو حق اور سچ کی علامت کے طور پر واضح ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

             فیض نے اس مملکت خداداد کے ان مقتدر لوگوں کے لیے بھی مختلف علامتیں استعمال کیں۔ یہ علامتیں اپنے لفظی پیکر میں پرانی ہیں مگر ان کی نئی معنویت فیض کی اس کی سیاسی فکر اور تلخی احساس کی ترجمان ہیں جو ان کے ادبی سیاسی شعور کی شناخت ہے۔ ان کے لیے فیض نے قاتل، بیداد گر اور جلاد جیسے ظاہری معنویت والے لفظ بھی استعمال کیے ہیں اور ساتھ ہی واعظ، ناصح، محتسب، شیخ، عدو، پند گر، اہلِ حکم، اغیار، اہلِ ہوس، مدعی، فقیہ شہر، رقیب، اہل ستم، گل چیں ، رہزن اور اہل ہوس جیسے لفظ بھی علامت کے طور پر استعمال کیے ہیں۔ یہ ساری علامتیں سیاسی حوالوں کے طور پر فیض کی شاعری کی زینت بنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

            سرخ اور سیاہ رنگ بھی فیض کی شاعری میں بنیادی علامتوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سیاہ رنگ اس سماج کی نمائندگی کرتا ہے جو وراثت اور روایت میں ملا ہے اور فرسودگی کی نشانی ہے۔ اس سیاہ رنگ کی اس حکمرانی کو توڑنے کے لیے جس جدوجہد اور تگ و دو کی ضرورت ہے۔ سرخ رنگ انقلاب کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ ان مصرعوں اور اشعار میں ان رنگوں کی علامتی نوعیت موجود ہے۔

آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے

آدم و حوّا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں

ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کیا گزری ہے؟

                                                                                                                                                (’’موضوعِ سخن‘‘، نقش فریادی)

            فیض کے سیاسی شعور نے ان کے ہاں انقلاب کا یقین پیدا کیا ہے اور اس سے ان کے لہجے میں بے پناہ رجائیت شامل ہوئی ہے۔ ان کی آنکھیں بے شک اشک بار ہیں مگر دل امید کی روشنی سے منور ہے۔

            فیض کی نظر نہ صرف ملکی حالات پر تھی بلکہ بین الاقوامی دنیا کے سیاسی و سماجی حالات سے بھی وہ باخبر تھے۔ ان میں سے بعض ملکی اور بین الاقوامی سیاسی حالات و واقعات ان کی بعض نظموں کا براہِ راست محرک بنے ہیں۔ فیض کی نظم نگاری کا یہ رویہ انھیں اپنے عہد کے ایک حقیقت پسند شاعر کے طور پر سامنے لاتا ہے جس کی تخلیقات کا پس منظر وہ زمینی حقائق ہیں جو اس کی اپنی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس حوالے سے فیض کی چند نظموں کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ سیاسی واقعات اور ان کی سیاسی بصیرت کس طرح ان کی تخلیقات میں بار پاتے ہیں۔

            قیامِ پاکستان کے فوراً بعد فیض نے جو نظم ’’صبحِ آزادی‘‘ کے عنوان سے لکھی اس نظم نے فیض کو اہلِ اردو میں اور مقبول بنا دیا۔ نظم پر اور فیض کی حب الوطنی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا اور انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر جب جذبات پر حقائق غالب آئے تو لوگوں کو فیض کی نظم حرف بہ حرف سچ ماننا پڑی۔ نظم کے آغاز کے مصرعے ملاحظہ ہوں :

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دل

                                                                                    (’’صبحِ آزادی اگست۴۷ء‘‘، دستِ صبا)

            فیض نے محکوم و مجبور اقوام کی حمایت بلا تخصیص اور بلا تفریق کی ہے۔ فلسطین کے محکوم عوام ہوں ، ایران کے یا پھر افریقہ کے، فیض نے دنیا کے ہر مظلوم کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ افریقی عوام کی آزادی کی حمایت کے لیے ان کی نظم ’’آ جاؤ ایفریقا‘‘ مشہور ہے۔ یہ نظم ۱۹۵۵ء میں تخلیق ہوئی جب فیض راولپنڈی سازش کیس کے سلسلے میں جیل میں تھے۔ ایک قیدی سے زیادہ آزادی کی قدر و قیمت سے کون واقف ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس دور اسیری میں فیض نے دنیا بھرکے محکوم و غلام لوگوں اور اقوام کے لیے نظمیں لکھیں۔ نظم کی چند لائنیں ملاحظہ ہوں :

دھرتی دھڑک رہی ہے میرے ساتھ ایفریقا

دریا تھرک رہا ہے تو بَن دے رہا ہے تال

میں ایفریقا ہوں ، دھار لیا میں نے تیرا روپ

میں تُو ہوں ، میری چال ہے تیری ببر کی چال

                                                            ’’آ جاؤ ایفریقا‘‘

                                                            آؤ ببر کی چال

                                                            ’’آ جاؤ ایفریقا‘‘

                                                            (’’آ جاؤ ایفریقا‘‘، زنداں نامہ)

            فیض کی معروف نظم ’’ہم بھی دیکھیں گے‘‘ ایرانی انقلاب کے حوالے سے تخلیق ہوئی ہے۔ ۱۹۷۹ء میں انقلابِ ایران ظہور پذیر ہوا، فیض جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور لندن میں مقیم تھے۔ فیض جیسے سوشلسٹ خیالات رکھنے والے آدمی سے ایران کے خالص مذہبی نوعیت کے انقلاب کے لیے نظم کہنا اچنبھے کی بات تھی۔ آغا ناصر کے استفسار پر فیض نے کہا ’’بھئی انقلاب اسلامی اور غیر اسلامی نہیں ہوا کرتے۔ جب لوگ تخت و تاج کو الٹنے اور بادشاہی نظام کو تاراج کرنے کے لیے سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئیں تو پھر یہ عوامی انقلاب بن جاتا ہے۔ ۱۲  فیض کی یہ نظم فکر اور آہنگ دونوں اعتبار سے بذاتِ خود انقلابی نظم ہے۔ فیض کی زندگی میں برپا ہونے والا یہ انقلاب ان کی نظریاتی ترجیحات کے مطابق تو نہ تھا لیکن ایک عوامی انقلاب ہونے کے باعث فیض اس کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ نظم سے اقتباس ملاحظہ ہو:

            ہم دیکھیں گے

            لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

            وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

            جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

            جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں

            روئی کی طرح اڑ جائیں گے

            ہم محکوموں کے پاؤں تلے

            جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

             اوراہلِ حَکَم کے سر اوپر

            جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

            جب ارضِ خدا کے کعبے سے

            سب بت اٹھوائے جائیں گے

            ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم

            مسند پہ بٹھائے جائیں گے

                                                (’’وَ یَبقیٰ وَجہُ ربِّک‘‘، مرے دل، مرے مسافر)

            اس نظم میں فیض نے اجتماعی لہجہ اختیار کیا ہے اور وہ بے پناہ رجائیت جو ان کے تیقن کی عطا ہے، اس نظم میں پوری طرح جلوہ گر نظر آتی ہے۔ انھوں نے جلاوطنی کے اپنے ذاتی دکھ کو پیچھے چھوڑ کر اجتماعی کامیابی کو امید کی نظروں سے دیکھا ہے اور اس کی سرشاری ان کی رگ و پے میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

            سقوطِ ڈھاکا کے المیے پر بھی فیض نے کئی نظمیں لکھی ہیں۔ ان میں ’’حذر کرو مرے تن سے‘‘، ’’تہ بہ تہ دل کی کدورت‘‘، ’’غبارِ خاطرِ محفل ٹھہر جائے‘‘، ’’رفیقِ راہ تھی منزل‘‘، پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو‘‘، ’’ڈھاکہ سے واپسی پر‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایسا المیہ تھا کہ پوری قوم سیاسی ہزیمت کے احساس سے کراہ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی وجوہ کی بنا پر بے گناہ انسانوں کا قتل عام فیض کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ تھا۔ اس المیے پر فیض ایسے دل گرفتہ ہوئے کہ اس موقع پر لکھی گئی نظموں میں ان کا وہ دھیما اور ضبط والا لہجہ ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر ’’حذر کرو مرے تن سے‘‘ میں فیض نے دل چیر دینے والے لہجے میں بات کی ہے۔ بقول فتح محمد ملک :

’’یہ نظم فیض کی خوبصورت ترین نظموں میں سے ایک نظم ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین سیاسی دستاویزات میں سے ایک دستاویز بھی ہے۔ ‘‘۱۳

            نظم کے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں :

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوبِ صحرا ہے

جسے جلاؤ تو صحنِ چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشکِ صبا، میری جانِ زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے

                                                (’’حذر کرو مرے تن سے‘‘، سرِ وادی ٔ سینا)

            اسی طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد یہ قطعہ بھی فیض کے سیاسی شعور کی عمدہ مثال ہے:

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اک تلاش کے بعد

چُھٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملول تھا دلِ آئینہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہوا اک خراش بھی نہ رہی

                                                                                    (قطعہ، غبارِ ایّام)

            فیض کی فطری دردمندی کو ان کے سیاسی و سماجی شعور نے ایک ہمہ گیریت بخشی ہے۔ ان کی دردمندی کسی ایک فرد یا افراد کے کسی خاص گروہ کے ساتھ نہیں۔ اسی طرح ان کا یہ جذبہ کسی خاص دور یا وقت کے لیے بھی مخصوص نہیں بلکہ وہ ہر مظلوم فرد، ہر مظلوم گروہ، ہر مظلوم قوم کے ساتھ درد کا رشتہ رکھتے ہیں۔ اس کے باعث ان کی ایسی نظمیں جن کا آہنگ بظاہر طربیہ ہے، اپنی داخلی واردات میں حزنیہ لَے رکھتی ہیں اور یہی فیض کی شاعری کا فنی کمال ہے کہ وہ دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

            وطن سے محبت فیض کی سیاسی بصیرت کا ایک اہم پہلو ہے۔ ’’صبحِ آزادی اگست ۴۷ء‘‘ جیسی نظموں سے بعض ناقدین اس گمان میں مبتلا ہوئے کہ فیض نے قیامِ پاکستان کو قبول نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے۔ دراصل انھوں نے ان خوابوں کے بکھرنے کی بات کی ہے جو اس مملکت سے وابستہ تھے اور ان کا احتجاج دراصل وطن کے لیے ان کی محبت ہے کہ وہ جیسا اسے دیکھنا چاہتے ہیں ، ویسا نہیں ہے۔ وطن سے محبت یوں تو فیض کی ساری شاعری میں رواں ہے مگر بعض نظموں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ اس حوالے سے فیض کی نظم ’’دو عشق‘‘ قابل ذکر ہے جس میں وہ وطن کے ساتھ بھی اسی طرح کے عشق کا اظہار کرتے ہیں جیسے محبوبہ کے ساتھ۔

چاہا ہے اسی رنگ میں لیلائے وطن کو

تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں

ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل

رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

                                                                                                                                                (’’دو عشق‘‘، دستِ صبا)

            مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فیض کی نظم نگاری ایک سطح پر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ہونے والی شاعری کے بہترین نمونے فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف اردو کی شعری روایت میں فکری اور اسلوبیاتی حوالوں سے نئے زاویے بھی فراہم کرتی ہے۔ فیض نے اپنے فکر اور فن دونوں کی تشکیل میں اپنی سیاسی بصیرت کا استعمال کیا ہے اور اس مدد سے اپنے عہد کے مسائل و مصائب کی تفہیم تک نہ صرف رسائی حاصل کی ہے بلکہ اپنے طور پر ان کا حل بھی پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ یوں جدید اردو نظم میں فیض کی نظم عصری ادراک کے حوالے سے نمائندہ نظم بن کر سامنے آتی ہے۔

حوالہ جات

۱۔          جمیل جالبی، ڈاکٹر، ’’معاصر ادب‘‘، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۱ء، ص۲۲۰

۲۔        سید خورشید عالم، ’’دستِ قاتل کو جھٹک دینے کا عمل‘‘ مشمولہ ’’فیض کے مغربی حوالے‘‘ مرتبہ:اشفاق حسین، جنگ پبلشرز، لاہور، ۱۹۹۲ء، ص۱۱۹

۳۔       وزیر آغا، ڈاکٹر، ’’نظم جدید کی کروٹیں ‘‘، سنگت پبلشرز، لاہور، ۲۰۰۷ء، ص۸۴

۴۔        احمد ندیم قاسمی، ’’فیض کا فن‘‘ مشمولہ ’’فیض کی تخلیقی شخصیت(تنقیدی مطالعہ)‘‘ مرتبہ:طاہر تونسوی، ڈاکٹر، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۸۹ء، ص۱۸

۵۔         اظہار کاظمی، ’’فیض احمد فیض:شاعرانہ اظہار اور سماجی و سیاسی تبدیلی‘‘ مترجم:اشفاق حسین مشمولہ ’’فیض کے مغربی حوالے‘‘ مرتبہ:اشفاق حسین، ص۳۹۲

۶۔        انورسدید، ڈاکٹر، ’’اردو ادب کی تحریکیں ‘‘، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، ۱۹۹۴ء، ص۵۱۳

۷۔       محمد علی صدیقی، ’’فیض احمد فیض اور روایتی شعری زبان‘‘ مشمولہ ’’ادبیات‘‘اسلام آباد، جنوری تا مارچ ۲۰۰۹، ص۱۲۶

۸۔        انیس اشفاق، ڈاکٹر، ’’فیض کی شاعری میں صبا کی علامت‘‘ مشمولہ ’’علامت کے مباحث‘‘، ص۳۶۶

۹۔         ابوسعید نور الدین، ڈاکٹر، ’’تاریخ ادبیات اردو‘‘ حصہ دوم(اردو نظم)، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، ۱۹۹۷ء، ص۱۰۵۷

۱۰۔        جمیل جالبی، ’’نئے شاعر…فیض احمد فیض‘‘ مشمولہ ’’ماہِ نو‘‘ فیض نمبر، شمارہ۵، جلد۶۱، مئی جون ۲۰۰۸ء، ص۲۸۴

۱۱۔         کانٹ بحوالہ سلام سندیلوی، ’’ماحول اور مزاج‘‘، سفینۂ ادب، لاہور، س ن، ص۱۴۹

۱۲۔       آغا ناصر، ’’ہم جیتے جی مصروف رہے‘‘، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۸ء، ص۹۸

۱۳۔      فتح محمد ملک، ’’فیض: شاعری اور سیاست‘‘، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۸ء، ص۶۰

٭٭٭

ماخوذ از مجلہ ’معیار‘ اسلام آباد، شمارہ ۹

تشکر: سید زبیر اشرف ، جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا

تدوین : اعجاز عبید


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close