ابو اشعر فہیم کی فیس بک ٹائم لائن سے

یرا بچہ اب میری ہی آئی ڈی سے "بال پھول ” کھیلتا ہے. لوگ سمجھتے ہیں کہ بندہ بھی یہ کھیل کھیلنے لگا ہے. مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ یہ کون سا کھیل ہے.
اب تو ہمارے پاس وقت ہی نہیں کہ ہم کوئی کھیل کھیلیں یا بچوں کے ساتھ کچھ کھیلیں.
نئ نسل کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ وہ اپنا کھیل کھیل کر رہے ہیں اور ہم زندگی سے کھیل رہے ہیں حالانکہ اگر غور سے دیکھیں تو ہم اپنی قیمتی زندگیوں ہی سے کھیل رہے ہیں.
موبائل اور نیٹ نے والدین، بچوں اور اہل و عیال کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کر دیا ہے کہ اب لوگ اپنے بچوں اور گھر والوں سے بھی فیس بک اور واٹسآپ پر سلام کلام اور حال چال پوچھتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں تو بے نیاز ہی لگتے ہیں.
بعض لوگ جو شوشل میڈیا پر پوتوں اور نواسوں تک کی خیریت جاننا چاہتے جب کبھی ملاقات ہوجاتی تو یوں آنکھ بچا کر نکل جاتے ہیں جیسے ہمارے "بقایے دار ” ہوں.

بھائیو
میں کوئی بھی کھیل نہیں کھیلتا اور اگر میرے ساتھ کوئی "کھیل کھیلتا ” ہے تو میں اس سے کوسوں دور چلا جاتا ہوں.
ویسے بھی دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشہ ہی تو ہے. لیکن یہی زندگی آخرت کی پونجی بھی ہے.
کاش ہم لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیں.


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close