یہ کیسا عشق ہے اُردو زباں کا

گلزار

یہ کیسا عشق ہے اُردو زباں کا
مزہ گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر، کہ جیسے پان میں مہنگا قوام گھلتا ہے
یہ کیسا عشق ہے اُردو زباں کا
نشہ آتا ہے اُردو بولنے میں
گلوری کی طرح ہے مُنہ لگی سب اصطلاحیں، لطف دیتی ہیں
حلق چھوتی ہے اُردو تو، حلق سے، جیسے، مہ کا گھونٹ اُترتا ہے
بڑی ارسٹوکریسی٭ ہے زباں میں
فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی ہے اُردو
اگرچہ معانی کم ہوتے ہیں اُردو میں
الفاظ کی افراط ہوتی ہے
مگر پھر بھی، بلند آواز پڑھئیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیں
کہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اُردو
تو لگتا ہے کہ دن جھاڑوں کے ہیں، کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہے
عجب ہے یہ زباں اُردو
کبھی یونہی سفر کرتے، اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میر، غالب کا
وہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہے
بڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اُردو سُن کر
کیا نہیں لگتا کہ اک تہذیب کی آواز ہے، اُردو



آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close