یہ کہانی پھر سہی / مبارک علی مبارکی

آج ایک بار پھر اخبار میں کسی مشاعرے کا اعلان شائع ہوا تھا _ پندرہ روز بعد شہر میں ایک آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہونے والا تھا
یہ اعلان دیکھتے ہی میری روح کانپ گئی اور طرح طرح کے ڈراؤنے خیالات دل میں آنے لگے
ہاں ہاں بتاتا ہوں _ کانپنے کی وجہ بھی بتاتا ہوں _ مجھے معلوم ہے آپ لوگ پورا قصّہ سُنے بغیر پیچھا تھوڑی نہ چھوڑینگے
تو سُنئے _ میرے شہر کے لوگ اِتنے بدذوق ہیں کہ کسی بھی مشاعرے میں مجھ جیسے عظیم شاعر کو مدعو نہیں کرتے
میں جب بھی کسی مشاعرے کا اعلان سنتا تو اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا کہ منتظمین اِس غالبِ دوراں کو مشاعرہ پڑھنے کی دعوت دے دیں _ کتنے ہی سیاسی اور سماجی نیتاؤں کی خوشامد کی _ الیکشن میں اُن کی پارٹی کے لئے نظمیں لکھ کر دینے کے وعدے کِئے _ بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ اِن وعدوں کو اپنے وعدوں کی طرح نہ سمجھیں _ میں سچ میں نظمیں لکھ کر دونگا
قصّہ مختصر یہ کہ کاؤنسلر سے لیکر ایم ایل اے تک , اور ایم پی سے لیکر منتری تک, سب کے قدموں میں گِرا لیکن کامیابی نے پھر بھی میرے قدم نہ چومے
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گزشتہ سال شہر ونواح میں پورے سولہ عدد مشاعرے منعقد ہوئے تھے _ جن میں خوبصورت شاعرات سے لیکر بدصورت شعراء تک سبھی کو مدعو کیا گیا لیکن ظالموں کو بس میری ہی صورت کبھی پسند نہ آئی
اور گزشتہ مہینے تو حد ہی ہو گئی _ میرے سسرالی محلّے میں مشاعرہ تھا _ سالے صاحب کو فون کیا کہ “بھائی دیکھو وہ بزم محتاجِ اصلاح والے مشاعرہ کروا رہے ہیں _ کہہ سُن کر میرا نام بھی پڑھنے والوں میں شامل کروا دو
لیکن وہ سالا تو نِرا سالا ہی نکلا _ کہنے لگا , “آپا ٹھیک ہی شکایت کرتی ہیں
میں نے گھبرا کر پوچھا, کیا شکایت کرتی ہے؟
جواب ملا, اُس دن کہہ رہی تھیں کہ سامنے والی چھت پر کوئی چڑیل روز اِن کو دِکھا دِکھا کر بال سُکھاتی ہے _ گھر بھی بلاتی ہے لیکن جب یہ جاتے ہیں تو بات نہیں کرتی
میں نے کہا, “توبہ کرو ! میں تمہیں اتنا گِرا ہوا انسان لگتا ہوں ؟
جواب ملا, ” اب مجھے کیا پتہ آپ کہاں تک گِرے ہیں ؟ لیکن آپا نے ثبوت کے طور پر آپ کے کچھ اشعار دِکھائے تھے
میں نے حیرت سے پوچھا , “کون سے اشعار ؟
کہنے لگا, سب تو یاد نہیں ہاں دو شعر یاد رہ گئے ہیں

اپنے چہرے کو دوپٹّے میں چُھپاتے کیوں ہو
بات کرنی ہی نہیں جب تو بُلاتے کیوں ہو
اُس طرف کِھڑکی مِری کُھلتی ہے معلوم ہے جب
چھت پر آکر ہی سدا بال سُکھاتے کیوں ہو

اپنے معصوم سے اشعار سُن کر ابھی میں ٹھیک سے خوش بھی نہ ہو پایا تھا کہ سالا کہنے لگا, بھائیجان, اِس عمر میں آپ کو یہ سب کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟
میں نے اُس سالے کی باقی باتیں تو خیر کسی نہ کسی طرح برداشت کر لی تھیں لیکن وہ عمر والی بات برداشت نہ ہوئی اور غصّے میں آ کر فون کاٹ دیا

اِس کے بعد بیگم کے پاس کس کا فون آیا اور
کِس نے توڑا “سر” ہمارا یہ کہانی پھر سہی


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close