پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

انظاراحمد صادق

بچے بہر کیف بچے ہوتے ہیں. الهڑپن، چنچل ہٹ اور شوخیاں ان کی سرشت میں داخل ہوتی ہیں. یہ سب کسی میں کم ہوتی ہیں اور کسی میں زیادہ. گارجین کی شکل میں والدین، بڑے بزرگ، بڑے بھائی اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی غلطیوں کی نشاندہی انتہائی حکمت عملی سے انجام دیں. حکمت عملی اپنائے بنا محض اپنے رعب و دبدبہ کے ذریعہ إصلاح کی کوشش کی گئی تو ضروری نہیں کہ هم کامیاب ہوجائیں، بلکہ بهیانک نتائج رونما ہوسکتے ہیں.
بات آج ہی کی ہے. چهٹی کے بعد اسکول کیمپس سے باہر نکلا تو دیکها کہ اونچی کلاسز کے آٹھ دس بچے گروپ بناکر گهر کے لیے رواں دواں ہیں. ان میں سے ایک بچہ زور زور سے مخصوص انداز میں آواز بلند کررہا ہے. دیگر بچے بهی اس کی آواز میں اپنی اپنی آواز ملا رہے ہیں. جب مجهہ پر نظر پڑی تو ان میں سے ایک دو بچے نے سر گوشی بهی کی کہ "انظار سر پیچهے سے ہم لوگوں کو دیکھ رہے ہیں.” پهر بهی کوئ ڈر بهئے نہیں، وہ خود میں مست تها. مجهہ سے رہا نہ گیا. اس بچے کو آواز دی جو شرارت کرنے میں پیش پیش تھا. وہ میرے قریب آیا. بقیہ بچے ادهر ادهر منتشر ہوگئے. جب وہ بچہ میرے قریب آیا تو میں نے اس سے صرف اتنا ہی پوچها : "آپ کا نام…؟” اس نے بتایا کہ میرا نام فلاں ہے. پهر میں نے پوچها: "آپ کس کلاس میں پڑهتے ہیں؟” اس نے جواب دیا کہ فلاں کلاس میں. پهر میں نے کہا : ” اب آپ جاسکتے ہیں.”
اتنا کہنے سننے کے بعد میں نے اپنی راہ لی اور اس نے اپنی راہ لی. هم دونوں ابهی چند قدم بهی آگے نہ بڑھے ہوں گے کہ وہ بچہ میرے پاس جهٹکتے قدموں سے لوٹ کر آیا. میں نے پوچها : ” کیا بات ہے؟ ” بجائے کچهہ کہنے کہ اس کی زبان سے بار بار بس یہی جملہ ادا ہورہا تھا: "sorry سر! معاف کردیجیے سر! اب آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی. Sorry سر ! سر سر….! معاف کردیجیے سر. پلیز سر….!”
یقین جانیے! میں نے اپنے اس طالب علم سے ایک بار بهی یہ نہیں کہا تها کہ ” تم ایسی نازیبا حرکت کیوں کررہے ہو اور نہ ہی ڈانٹ پلائ تهی.” میں نے فقط اس کا اور اس کے کلاس کا نام جاننا چاہا تھا، مگر وہ اپنی اس نازیبا حرکت پر بے حد شرمند تها، بلکہ میری آنکھوں نے اپنے اس طالب علم کی آنکهوں میں آنسو بهی تیرتے ہوئے دیکھے.
وہ کافی جذباتی ہوچکا تها. اب چند نصیحتیں کرنے کا موقع مجهے ہاتھ لگ چکا تھا. سمجهایا بجهایا. پهر اسے گهر کے لیے روانہ کیا. سچ ہی کہا گیا ہے کہ:

پهول کی پتی سےکٹ سکتا ہے هیرےکاجگر
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close