طوطی بولتا ہے

اُردو واحد زبان ہے جس کے علما اور شُعرا نے زبان میں اضافے کرنے کے بجائے اچھے بھلے الفاظ کو متروک قرار دینے پر فخر کیا ہے۔ناسخ کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ ناسخ نے ہندی کی چندی کر دی انہوں نے ہندی کے ہزاروں الفاظ زبان سے خارج کیے مگر کوئی نیا لفظ زبان میں داخل نہیں کر سکے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زندہ زبانیں بدلتی رہتی ہیں۔ الفاظ و استعمالات کے ردوقبول کا مسلسل عمل اس تبدیلی اور اس کے باعث زبان کی زندگی کا ضامن ہے ۔لیکن کسی وقت کس زبان میں کیا ہو رہا ہے؟ جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ کس نوعیت کی ہیں؟ وہ صحت مند رجحانات کی آوردہ ہیں یا سہل انگاری اور لا علمی کا نتیجہ ہیں؟
ہر خود ساختہ استاد نے زبان میں من مانی تبدیلیاں اور پابندیاں عائد کرنی شروع کر دیں جس نے جو چاہا متروک قرار دے دیا جو چاہا قبول کر لیا۔
ہر شاعر نے اپنے اپنے ذوق ، وجدان ، بصیرت، علم اور مکتب فکر کے مطابق الفاظ کو فصیح اور غیر فصیح قرار دینے کے پیمانے مقرر کئے جس سے اردو زبان بعض قیمتی الفاظ سے محروم ہوگئی، جیسے
لہلُوٹ۔۔۔قرض لینا اور واپس نہ دینا
لُترا۔۔۔جھوٹا، لگائی بجھائی کرنے والا
ہرزہ گو۔۔۔ افواہ باز
اُستاد ذوق کے پاس ایک مرتبہ ان کے ایک لکھنوی دوست شیخ ناسخ کی ایک تازہ غزل سنانے آئے ذوق کے پاس وہ غزل پہلے ہی پہنچ چکی تھی اور وہ اس پر ایک غزل بھی لکھ چکے تھے، انہوں نے شعر پڑھا
ہے قفس سے شور ایک گلشن تلک فریاد کا
خوب طوطی بولتا ہے ان دنوں صیاد کا
ذوق کا شعر سنتے ہی فرمایا گیا آپ نے طوطی کو مذکر باندھ دیا حالانکہ اس میں یائے معروف علامت تانیث موجود ہے۔کل کو آپ جوتی کو بھی احاطہ تذکیر میں لے آئیں گے۔اُستاد ذوق نے فرمایا حضرت محاورے پر کسی کے باپ کا اجارہ نہیں ہے۔ آپ میرے ساتھ چوک پر چلئے اور اکبر آباد کی یہ ضرب المثل کہ چڑی مار ٹولہ بھانت بھانت کا جانور بولا آزمایئے۔
دونوں راضی ہو گئے شام کا وقت ہوا دیکھا کوئی قسم قسم کے پرندے لیے چلا آ رہا ہے، ایک شیدے صاحب بھی ہاتھ میں طوطی کا پنجرہ اٹھائے چلے آتے ہیں اُستاد ذوق نے اشارہ کیا کہ ان سے بات کیجئے
بھیا تمہاری طوطی کیسے بولتی ہے؟
بھلا شیدے سے ایسے موقع پر کب رہا جاتا جواب دیا کہ میاں بولتی تمہاری ہو گی یاروں کا طوطی تو خوب بولتا ہے۔ یہ غریب بہت خفیف ہوئے۔ حضرت ذوق بولے جناب اس بات پر نہ جایئے کہ شیدوں کی زبان ہے۔ یہ ہی دہلی کے خاص وعام کی بات ہے۔ اس موقع پر یہ محاورہ بولا جاتا ہے اور اس کے لیے مذکر بولنا اور بھی باعثِ لطف ہے
بسا اوقات ایک لفظ کا بنیادی مادہ وہ ہی رہتا ہے لیکن اس کا تلفظ انداز قرات اور رنگ و روپ بدل جاتا ہے اسے صوتی تغیرکہتے ہیں اس تغیر کے نتیجے میں پہلا لفظ متروک ہو جاتا ہے پھر اس کے بطن سے دوسرا تیسرا چوتھا لفظ جنم لیتاہے۔
مثال کے طور پر اردو زبان کا ایک لفظ جو پہلے تھیں یا تے تھا وہ بدل کر تھے ستے سیتں سوں اور سیس ہوتا ہوا آخر کار سے بن گیا ۔لفظ سے کی موجودہ شکل اردو زبان میں تقریباً دو سو سال سے مستعمل ہے۔
نوٹ: یہ تحریر، مرکبات کے موضوع پر ہے، مکمل تحریر جلد ہی ڈان یا ایکسپریس پر شائع ہو جائے گی۔


آپ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟


Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close